مصر میں عبیدی فرمانرواؤں کا مورثِ اعلیٰ عبید اللہ مہدی کوفہ کا رہنے والا تھا خود کو ہاشمی قرار دے کر اولادِ سیدہ فاطمہؓ سے ہونے کا دعویٰ کرتا تھا جب کہ مؤرخین نے اس کے فاطمی ہونے سے انکار کیا ہے اور لکھا ہے کہ وہ حسین بن محمد بن احمد بن عبید اللہ بن میمون اہوازی کا بیٹا تھا اس نے ملک مغرب میں جا کر علوی ہونے کا دعویٰ کیا جسے علماء نے تو قبول نہ کیا، جہلاء نے اسے فاطمی کہنا شروع کر دیا یہ اور اس کے جانشین ملحد و غالی شیعہ تھے۔
270ھ میں عبید اللہ نے مہدویت کا دعویٰ کیا، اپنے متبعین کا نام مہدویہ رکھا 273ھ میں اس نے حج کیا قبیلہ بنو کنانہ اس پر ایمان لا کر اس کے ہمراہ مغرب چلے آئے عبید اللہ 270ھ سے 322ھ تک باون سال جھوٹی مہدویت کی ڈفلی بجاتا رہا اور 24 سال ایک ماہ بیس دن تک حکومت کی۔
عبید اللہ کا تعلق شیعہ کے باطنی فرقہ سے تھا:
عبید اللہ اور اس کے پیروکار اسماعیلی مذہب جو باطنیہ کے نام سے معروف تھا اس پر عمل پیرا تھے اصحابِ رسولﷺ کی توہین اور بعد از وصالِ رسولﷺ سوائے پانچ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے بقیہ تمام کو مرتد معاذ اللہ قرار دیتے تھے مخالفین کو سخت سزائیں دینا، ازواجِ مطہراتؓ کی ہجو کرنا ان کا پسندیدہ مشغلہ تھا صرف رعایا کی دلجوئی کے لیے اسلام کے ظاہری ارکان کو بھی بجا لاتے تھے بہت سے علماء کو مصر میں صرف اس وجہ سے جامِ شہادت نوش کرنا پڑا کہ انہوں نے اصحابِ رسولﷺ پر تبرا کرنے سے انکار کیا اس وجہ سے علامہ سیوطی نے لکھا ہے کہ تاتاریوں سے زیادہ خاندانِ اسلام کو ان عبیدیوں نے نقصان پہنچایا۔
عبیدیوں کے نزدیک ہر مرد اٹھارہ عورتوں سے بیک وقت نکاح کر سکتا ہے اور ان کا ہر امام خدائے بزرگ و برتر سے ہمکلام ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے پہلے آدم کے، پھر نوح کے، بعد میں دوسرے انبیاء کے جسم میں حلول کیا اور پھر سیدنا علیؓ بن ابی طالب کے جسم میں حلول کیا۔
شیعہ اثناءِ عشریہ کے نزدیک تو امامت بارہویں امام پر رک گئی مگر ان کے ہاں سیدنا جعفرؒ کے بیٹے اسماعیل ساتویں امام تھے یہ سات امام ظاہر تھے ان کے بعد تین امام مخفی ہوئے جو عالمِ کائنات میں نمودار نہیں ہوئے پھر ان کے بعد ائمہ ظاہر کا سلسلہ شروع ہو گیا جن کا پہلا امام عبید اللہ مہدی، دوسرا ابو القاسم لقب القائم بأمر اللہ ہیں اور مصر کے چودہ عبیدی حکمران ائمہ کی صف میں شامل تھے ان لوگوں نے مصر و شام میں خوب بد عقیدگی کو فروغ دیا۔ انبیاء کی شان میں گستاخیاں، شراب کی حرمت کا خاتمہ، نمازِ تراویح کی ممانعت اور حکمرانوں کو سجدے کرانا اور اصحابِ رسولﷺ کو گالیاں دینے کا حکم دیتے تھے۔
(ملخص ائمہ تلبیس: جلد1 صفحہ299، بحوالہ تاريخ الخلفاء للسيوطی)
چنانچہ احادیث میں بیان کی گئی علامت کے مطابق نام اور ولادت، خاندان اہلِ بیتؓ سے نسبت کا رنگ خوش اعتقاد اور منتظر لوگوں کے لیے کافی تھا۔ چند ہی روز میں ایک لشکر عظیم مہدی بزرگوار کے گرد جمع ہو گیا اور کفار کی جگہ مسلمانوں کی ایذاء رسانی کے درپے ہو گیا رصافہ کی جامع مسجد کو آگ لگادی، مسلمانوں کے خون سے تلواروں کو رنگین کیا بالآخر خلیفہ مکتفی باللہ کے لشکر کے مقابلہ میں اپنے پیرؤں کے ہمراہ خود ساختہ مہدی لقمہ اجل ہو گیا۔
(ملخص ائمہ تلبیس: صفحہ 294، بحوالہ ابنِ اثیر)