عقیدہ امامت تضادات کا مجموعہ ہے - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

عقیدہ امامت تضادات کا مجموعہ ہے

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

شیعہ کے عقیدہِ امامت کے بارے میں خود شیعہ لٹریچر ایسے ایسے تضادات اور منفی حقائق سے بھرا پڑا ہے، جس کے مطابق ایک عام آدمی پر بھی اس عقیدہ کے غیر اسلامی اور سیدنا علیؓ، سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ کی تعلیمات کے بالکل برعکس ہونے کی حقیقت آشکار ہو جاتی ہے اس سلسلے میں تفصیل کے ساتھ اگر گفتگو کی جائے تو پورا دفتر بھی کم رہے گا ہم عقیدہِ امامت کی تضادات کو شیعہ ہی کی کتابوں سے آشکار کرنے کے لیے نہایت جامع اور اختصار کے ساتھ پیش کی جانے والی اس بحث کو نقل کرتے ہیں جو استاذِ محترم مفکرِ اسلام سیدنا مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ نے اپنی معرکۃ الآراء کتاب شیعہ سنی اختلافات اور صراطِ مستقیم میں نقل کی ہے استاذِ مکرم کی طرف سے پیش کیے جانے والا یہ مضمون ایک ہزار سے زائد صفحات کا متقاضی تھا لیکن انہوں نے جس عرق ریزی کے ساتھ اس سمندر کو کوزے میں بند کیا ہے، اس پر کسی اور تبصرے کی بجائے ہم اسے جوں کا توں نقل کر کے ناظرین کے سامنے شیعہ مذہب کا سارا ڈھانچہ پیش کر رہے ہیں یہ باب اگرچہ سیدنا مہدی کے بارے میں شیعہ نظریات کے حوالے سے شروع کیا گیا ہے لیکن سیدنا مہدی کا شیعی نظریہ پہلے گیارہ مزعومہ ائمہ کے تعارف کے بغیر مکمل طور پر سامنے نہیں آ سکتا اس لیے ضروری سمجھا گیا ہے کہ استاذِ مکرم کی کتاب سے عقیدہِ امامت کی پوری بحث کو یہاں نقل کر دیا جائے۔