الباغيۃ کی تشریح - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

الباغيۃ کی تشریح

  محمد معاویہ سعدی

جہاں تک بات لفظ الباغية کی تشریح کی ہے تو اس کے سلسلے میں چند نکات قابلِ توجہ ہیں:

1: یہاں لفظ باغیہ طاعت امام سے عدول اور شقاق و نفاق کے معنیٰ میں نہیں ہے بلکہ یہ وہ بغاوت ہے جس کا تذکرہ قرآنِ کریم کی اس آیت میں ہے'

وَاِنۡ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اقۡتَتَلُوۡا فَاَصۡلِحُوۡا بَيۡنَهُمَا‌ فَاِنۡۢ بَغَتۡ اِحۡدٰٮهُمَا عَلَى الۡاُخۡرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِىۡ تَبۡغِىۡ حَتّٰى تَفِىۡٓءَ اِلٰٓى اَمۡرِ اللّٰهِ ‌الخ(سورۃ الحجرات: آیت 9)

ترجمہ: اگر اہلِ ایمان کی دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو تم لوگ دونوں کے درمیان صلح کرا دو پھر اگر کوئی ایک جماعت دوسری پر شرعی لحاظ سے زیادتی کرے تو اس سے لڑو جو زیادتی کر رہی ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کو تسلیم کر لے۔

یہ آیت انصار کے ایک آپسی مناقشے کے پس منظر میں نازل ہوئی تھی امام زمانہ سے بغاوت کے تناظر میں نہیں معلوم ہوا کہ لفظ بغاوت کبھی آپسی تنازعات میں ناحق پر اصرار کرنے والی جماعت کے لیے بھی استعمال کر لیا جاتا ہے۔

2: پھر سیدنا امیرِ معاویہؓ کے سامنے بھی مذکورہ بالا حدیث پیش کی گئی تھی اور غالباً حضرت کو اس کا علم پہلے ہی سے تھا بھی مگر آپ کے ذہن میں اس کا مصداق وہ جماعت تھی جس نے ایک متفقہ امیر المؤمنین سیدنا عثمانِ غنیؓ کے خلاف کھلم کھلا بغاوت کر کے ان کو شہید کیا تھا اور پھر یہود و روافض پر مشتمل اہلِ فتنہ کا یہی سازشی گروہ یکے بعد دیگرے جنگِ جمل اور جنگِ صفین کا سبب بنا تھا تو حضرت امیر رضی اللہ عنہ یہ سمجھ رہے تھے کہ اصل باغی گروپ تو وہ ہے جو ان حالات کا راست طور پر ذمہ دار ہے۔

اسی لیے جب آپ کے سامنے یہ حدیث پیش کی گئی تو آپ نے اپنے علم اور گمان ہی کی بنیاد پر یہ بات فرمائی تھی کہ عمارؓ کو ہم نے کہاں قتل کیا ہے ان کو تو ان لوگوں نے قتل کیا ہے جو ان کو یہاں لے کر آئے ہیں۔ (مسند احمد: 6499)

البتہ بعد میں جمہور علماء نے حضرت رضی اللہ عنہ کے اس اجتہاد کو دیگر دلائل کی روشنی میں مرجوح سمجھا اور سیدنا علی المرتضیٰؓ کے موقف کو راجح قرار دیا جیسا کہ اسی کی تائید مسلم شریف کی حدیث جلد 1 صفحہ 343 سے بھی ہوتی ہے: 

أَوْلَى الطَّائِفَتَيْنِ بِالْحَقِّ۔

ترجمہ: حق کے زیادہ قریب کے الفاظ سے بھی ہوتی ہے۔ 

کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کی جماعت کو حق کے زیادہ قریب قرار دیا جا رہا ہے اور دوسری جماعت کو بھی باطل نہیں کہا جا رہا ہے۔

3: اور جہاں تک بات حدیث کے بعض طرق میں موجود اس زیادتی کی ہے:

يَدْعُونَهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ وَيَدْعُونَهُ إِلَى النَّارِ(بخاری: 447) 

تو اس کے بارے میں دو باتیں قابلِ توجہ ہیں:

1: مولانا محمد نافع مدنیؒ کی تحقیق کے مطابق یہ زیادتی ایک دوسری حدیث سے یہاں خلط اور مدرج ہو گئی ہے دراصل یہاں دو حدیثیں الگ الگ ہیں۔

1: مکہ مکرمہ میں کفار مکہ کے ظلم و ستم کے زمانے میں کسی موقع پر آپﷺ نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ پر رحم کھاتے ہوئے ان کی حمایت میں فرمایا تھا:

مَا لَهُمْ وَلِعَمَّارٍ يَدْعُونَهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ وَيَدْعُونَهُ إِلَى النَّارِ وَذَلِكَ دَأْبُ الْأَشْقِيَاءِ الْفُجَّارِ۔ 

(فضائل الصحابة لأحمد: 1597)

2: مدینہ منورہ میں مسجدِ نبوی کی تعمیر کے وقت یا غزوہ احزاب کے موقع پر خندق کھودتے ہوئے سیدنا عمار بن یاسرؓ دو اینٹیں ایک ساتھ ڈھو رہے تھے اس وقت آپ نے فرمایا تھا: 

وَيْحَ عَمَّارٍ تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ۔ (صحيح مسلم: 2915)

تو راوی حدیث حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ سے ان دونوں حدیثوں میں خلط ہو گیا اور انہوں نے دونوں کو ایک ساتھ ملا کر بیان کر دیا اس دعویٰ کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ تقتلك الفئة الباغية والا مضمون کثیر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مروی ہے مگر کسی بھی صحابی کی روایت میں یہ زیادتی نہیں پائی جاتی بظاہر اسی لیے امام مسلمؒ نے بھی اس کی تخریج نہیں فرمائی۔

2: اور اگر بعینہ یہ حدیث ثابت مان بھی لی جائے تو اس کے بارے میں شارح بخاری حافظ ابنِ حجرؒ فرماتے ہیں:

الْمُرَادُ بِالدُّعَاءِ إِلَى الْجَنَّةِ الدُّعَاءُ إِلَى سَبَبِهَا وَهُوَ طَاعَةُ الْإِمَامِ وَكَذَلِكَ كَانَ عَمَّارٌ يَدْعُوهُمْ إِلَى طَاعَةِ عَلِی وَهُوَ الْإِمَامُ الْوَاجِبُ الطَّاعَةُ إِذْ ذَاكَ وَكَانُوا هُمْ يَدْعُونَ إِلَى خِلَافِ ذَلِكَ لَكِنَّهُمْ مَعْذُورُونَ لِلتَّأْوِيلِ الَّذِی ظَهَرَ لَهُمْ وَكَانُوا ظَانِّينَ أَنَّهُمْ يَدْعُونَ إِلَى الْجَنَّةِ وَهُمْ مُجْتَهِدُونَ فَلَا لَوْمَ عَلَيْهِمْ فِی اتِّبَاعِ ظُنُونِهِمْ۔ (جلد1 صفحہ 452)

ترجمہ: کہ یہاں جنت کی طرف دعوت دینے سے مراد اس کے سبب یعنی طاعت امام کی طرف بلانا ہے جیسا کہ سیدنا عمار بن یاسرؓ ان کو سیدنا علی المرتضیٰؓ کی طاعت کی طرف بلا رہے تھے جو اس وقت اصل خلیفہ برحق اور امام واجب  الاطاعۃتھے۔ جب کہ دوسری جانب کے حضرات اس کے خلاف کے داعی تھے لیکن تاویل اور اجتہاد کی بناء پر وہ بھی معذور تھے کیونکہ اپنے اجتہاد سے وہ بھی سمجھ رہے تھے کہ ہم ہی ان کو جنت کی طرف بلا رہے ہیں لہٰذا اس ظن و اجتہاد کی وجہ سے ان پر کوئی طعن و تشنیع نہیں کی جائے گی۔

3: کسی بھی لفظ کا ترجمہ کرتے ہوئے اور مراد و مفہوم متعین کرتے ہوئے یہ پہلو بھی ملحوظ رہنا چاہیے کہ وہ کس کے بارے میں کہا گیا ہے اور کس نے کہا ہے اللہ تعالیٰ نے بعض انبیائے کرام علیہم السلام کے بارے میں عصی اور غوی کے الفاظ کا اطلاق کیا ہے کہیں ضالا کا لفظ آیا ہے تمام مفسرین و مترجمین ایسے مواقع پر عصمت انبیاء کے لحاظ ہی ساتھ اس کی تفسیر و ترجمانی کرتے ہیں اسی طرح اگر حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں بھی کوئی ایسا سخت لفظ وارد ہو تو اس کی ترجمانی ان کے شایان شان کی جائے گی۔

مثلاً سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ جس طائفے کے ہاتھوں شہید ہوئے اس میں بقول حافظ ابنِ حجرؒ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ایک جماعت شامل تھی۔

انہی میں فاتح مصر حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی بھی تھے جو فتح مکہ سے پہلے اسلام لا چکے تھے لہٰذا:

وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الۡحُسۡنٰى‌ الخ۔  (سورۃ الحديد: آیت 10) 

میں مذکور اول درجہ کے انعام کے مستحقین میں سے ہیں پھر (ترمذی: 3844) وغیرہ میں ان کی منقبت میں بعض احادیث بھی وارد ہوئی ہیں۔

انہی میں حضرت امیرِ معاویہؓ جیسے صحابی بھی ہیں جو کاتبینِ وحی میں سے ہیں جو اسلام کے اولین بحری بیڑے کے قافلہ سالار بن کر خاص بشارت نبوی کے مستحق ٹھہر چکے تھے جنہوں نے آئندہ قیصر روم کے پایہ تخت شہر قسطنطنیہ پر حملے کے لیے پہلا اسلامی لشکر تشکیل دے کر ایک اور بشارتِ نبوی کا استحقاق بھی حاصل کیا تو اگر خدا نخواستہ از راہ بشریت کچھ خطائیں تھیں بھی تو سب کی سب معاف ہو کر معاملہ صاف ہو گیا۔