بیسواں مدعی مہدی جلال الدین اکبر - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

بیسواں مدعی مہدی جلال الدین اکبر

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

ابتدائی کارگزاری:

جن شوریدہ فطرت لوگوں نے ملتِ اسلامیہ میں رخنہ اندازی کی ناپاک کوشش کر کے امت میں بگاڑ پیدا کرنے اور شریعتِ اسلامیہ کی صورت کو مسخ کرنے کا بیڑا اٹھایا انہی میں جلال الدین اکبر بادشاہ کا نام بھی نمایاں ہے۔

جلال الدین 949ھ کو سندھ کے ریگستانی صوبہ امرکوٹ میں اس وقت پیدا ہوا جب اس کا والد ہمایوں تخت دہلی سے ہاتھ دھو کر شیر شاہ کے ہاتھوں در در کی خاک چھان رہا تھا۔ 

چھوٹی عمر میں تخت نشینی ہوئی:

ہمایوں تو ایران چلا گیا اکبر اپنے چچا زاد حاکم کے ہاں بارہ سال تک قندھار میں رہا۔ جب ہمایوں 961ھ کو واپس ہندوستان پر قابض ہوا تو اکبر باپ کے پاس چلا آیا اور 963ھ میں ہمایوں کے مکان سے گر کر ہلاک ہونے کے بعد اکبر چودہ سال کی عمر میں تخت نشین ہوا اکبر چونکہ خود جاہل مطلق تھا، شروع میں علماءِ اسلام کی خدمت میں حاضری دینا، ارکانِ اسلام کی شوق سے ادائیگی اور صوفیائے کرام سے ادب و احترام سے پیش آنا معمولات زندگی کا حصہ بنے رہے 971ھ میں حضرت شیخ سلیم چشتی کے ہاتھ پر بیعت ہوا شیخ کی بارگاہ میں اولاد نرینہ کی دعا کی خواہش پر بیٹے کی ولادت کی پیش گوئی اور بعد میں شہزادہ کی ولادت سے مسرور ہوا اور شیخ کے نام پر صاحبزادہ کا نام رکھا شیخ سلیم چشتی کی وفات کے بعد مبارک ناگوری جو کہ سید محمد جونپوری کے مہدویہ گروہ سے تعلق رکھتا تھا اور الحاد پسند و مبتدع شخص تھا، عہد اکبری کے اوائل میں مولانا عبد اللہ سلطان پوری مخدوم الملک اور صدر الصدور شیخ عبد النبی کی دینی محبت و غیرت کے باعث شاہی عتاب کا شکار ہوتے ہوئے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔

متعہ کے جواز سے عورتوں کو جمع کیا:

ملا مبارک بالآخر اسلام اور مسلمانوں علماءِ حق سے انتقام لینے کے لیے اپنے دونوں بیٹوں ابو الفضل اور فیضی کو کچھ عرصہ گزارنے کے بعد اکبر کی بارگاہ تک پہنچانے میں کامیاب ہو گیا جنہوں نے اولاً علماءِ اسلام کی شاہی نگاہ میں بے وقعت پیدا کرنے کے لیے اکبر کی نفسیاتی رگ پر ہاتھ رکھا اور جوازِ متعہ کے فتاویٰ جات جمع کر کے حرم شاہی کو حسینان جہان سے آراستہ کرنے کی داغ بیل ڈالی۔

توہین رسالتﷺ پر خاموشی:

انہی ایام میں شیخ عبد النبی نے ایک شوریدہ سر براہمن کی طرف سے مسجد کی جگہ پر مندر بنانے اور رسالتِ مآبﷺ کی شان میں گستاخی کرنے کی وجہ سے اس کے قتل کا فتویٰ دے دیا جس سے بادشاہ کے حرم سراء کی ہندو رانیوں اور ابو الفضل و فیضی نے سخت مخالفت کرتے ہوئے علماءِ اسلام کو کوسنے کے سنہری موقع سے خوب فائدہ اٹھایا اور بادشاہ کے ہاتھوں اس عالم دین کی توہین کرانے میں کامیاب ہو گئے جس کی کبھی بادشاہ جوتیاں سیدھی کیا کرتا تھا۔

کچھ عرصہ بعد ان تینوں باپ بیٹوں نے اکبر کو مجتہد مطلق کی مسند پر براجمان کرنے کا ڈھونگ رچا کر دینی و دنیاوی علوم سے بے بہرہ بادشاہ کے ہاتھ میں یہ اختیار سونپ دیا کہ وہ مذہبی معاملات میں جو رائے اختیار کرے گا اس کا اتباع رعایا پر لازم ہوگا اس اختیار کے حاصل ہوتے ہی اکبر کے ہاتھوں دینِ الٰہی کے نام سے ایک ایسا دھرم معرض وجود میں لانے میں یہ لوگ کامیاب ہو گئے جو ہندو، ازم، شیعت، اسلام، مجوسیت اور بدھ مت کا ملغوبہ تھا انہی دنوں میں خراسان سے آئے ہوئے ملاؤں یزیدی نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے حق میں دریدہ دہنی کر کے اکبر کا ذہن ان مقدس شخصیات کی طرف سے ایسا بدظن کیا کہ وہ اسلام ہی سے متنفر ہو کر رہ گیا۔

دعویٰ مہدویت:

ابو الفضل اور فیضی نے اکبر کو باور کرایا کہ صاحب زمان مہدی علیہ السلام جو ہندوستان میں تمام مذاہب کے اختلافات کو مٹانے کے لیے آنے والے تھے وہ آپ ہی کی ذاتِ گرامی ہے شریف نامی ایک شخص نے محمود پسخوانی کے رسائل سے استشہاد کر کے یہ دعویٰ کیا کہ انہوں نے صاف لکھا ہے کہ 990ھ میں باطل کا مٹانے والا ہوگا اس طرح علم جفر کا ایک عالم خواجہ شیرازی کہیں سے یہ حدیث گھڑ لایا کہ چونکہ ارشادِ پیغمبر کے مطابق دنیا کی عمر سات ہزار سال ہے، لہٰذا یہ مدت پوری ہو چکی ہے۔

حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے نام کی آڑ میں مہدوی تعلیمات:

درباری ملاؤں نے باور کرایا کہ یہی زمانہ امام مہدی کے ظاہر ہونے کا ہے جب کہ ایسا کسی صحیح حدیث میں نہیں ہے اسی طرح شیعہ مجتہدوں نے بھی سیدنا علیؓ کی طرف بعض اقوال کو منسوب کر کے اکبر کو مہدی بنانے میں اپنا حصہ ڈالا مہدویت کا منصب پا کر اکبر نے خود ساختہ شریعت کا جو ڈھانچہ ابو الفضل اور فیضی کے ذریعہ کھڑا کیا، اس کی چند اہم جزئیات درج ذیل ہیں:

اکبر کے مہدوی دین الٰہی کے چند نکات:

1: دینِ اکبری میں متعہ کی عام اجازت کے پیشِ نظر دار الخلافہ فتح پور سیکری میں خصوصاً بقول محمد حسین آزاد مصنف دربارِ اکبری بازاروں میں رنڈیاں اتنی نظر آنے لگیں کہ آسمان پر اتنے تارے بھی نہ ہوں گے۔  

2: داڑھی منڈانا شریعتِ اکبری میں لازمی امر تھا۔  

3: رعایا کے لیے اکبر کو سجدہ کرنا لازم تھا۔  

4: شراب نوشی کی عام اجازت تھی لیکن زیادہ نشہ نہ چڑھنے پائے۔  

5: کتا و خنزیر حلال و طیب قرار پائے ہر صبح ان کی طرف دیکھنا عبادت کا حصہ تھا۔  

6: غسل جنابت کی فرضیت ختم کر دی گئی۔  

7: شریعتِ اکبری میں چچا، پھوپھی، ماموں اور خالہ کی بیٹیوں سے شادی کرنا ممنوع قرار دیا گیا۔  

8: مالی استطاعت رکھنے والے مردوں کے لیے سونے چاندی کے زیورات اور ریشمی لباس پہننا ضروری قرار دیا گیا۔  

9: ہجری تاریخ ختم کر کے بادشاہ عجم کی طرح اکبر کے تخت نشین ہونے کے سال 963ھ سے تاریخ جلوس کا آغاز کیا گیا۔  

10: اسلامی عقائد کا سیکھنا، عربی زبان کا جاننا، باعث تمسخر و استہزاء قرار پایا۔

11: نوروز کی مجلسوں میں علماء، صلحاء، قاضیوں اور مفتیوں کو زبردستی شراب نوشی پر مجبور کیا جاتا۔  

12: جوا کو نہ صرف جائز قرار دیا گیا بلکہ اس کے لیے خزانہ سے سود پر قرض بھی دیا جاتا۔  

13: پندرہ سال سے قبل بچے کا ختنہ کرنے کی ممانعت کر دی گئی پندرہ برس کے بعد بچے کی مرضی پر منحصر تھا کہ وہ اپنے لیے جس دین کو چاہے پسند کر لے۔  

14: اسلامی سلام کی جگہ باہم ملاقات کے وقت ایک شخص اللہ اکبر کہتا اور دوسرا جل جلالہ پکارتا۔  

15: چوبیس گھنٹوں میں دو مرتبہ نقارہ بجایا جاتا، نصف شب اور بوقت طلوع آفتاب۔  

16: اس کے علاوہ اکبر نے آفتاب کی پرستش کرنے کا انداز، تسخیر آفتاب کی دعا کا ورد، ہر صبح مشرق رویہ کھڑکیوں میں بیٹھ کر آفتاب کا درشن کرنا، سحر، دوپہر، شام اور نیم شب آفتاب کے ای کزار ایک ہندی نام کا بحضور قلب سے پڑھنا معمولات میں شامل کر رکھا تھا جب پیردان اکبر کے سامنے آفتاب کا نام آتا تو وہ جلت عظمتہ و عز شانہ کہہ اٹھتے اکبر سر پر تالو کی جگہ سے بال منڈواتا تھا کیونکہ برہمنوں کی تعلیم کے مطابق کاملوں کی روح پیشانی کی راہ سے نکلتی ہے اور پھر ذی شوکت و صاحب اقتدار حکمران کے جسم میں داخل ہو جاتی ہے۔ ابو الفضل نے اکبر کے لیے ایک آتش کدہ کا بھی اہتمام کر رکھا تھا جس میں چوبیس گھنٹے آگ روشن رہتی تھی۔  

17: جلوس کے چھتیسویں سال کے آغاز پر اکبر نے گائے، بھینس اور اونٹ کا گوشت حرام قرار دے دیا ان جانوروں کو ذبح کرنے والے کی سزا اس کا ہاتھ کاٹنا تھی۔  

18: اکبر کے حرم سراء میں باقاعدہ سو عورتیں داخل تھیں جن سے لذت متعہ حاصل کی جاتی تھی ان کی گنتی شمار سے باہر تھی۔

17 اکتوبر 1605ء بمطابق 1014ھ کو اکبر کی زندگی کا سفر دو بیٹوں کی موت کے غم، آنسوؤں اور دوستوں کے لیے منگوائی ہوئی زہر کا غلطی سے جام پی کر مکمل ہوا۔  

(بحوالہ تاریخ فرشتہ، دربارِ اکبری و ملخص از ائمہ تلبیس)