منصف مزاج شیعہ کے لیے لمحہ فکریہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

منصف مزاج شیعہ کے لیے لمحہ فکریہ

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

شیعہ کے ظہورِ امام کے عقیدہ کی مذکورہ بالا تصریحات کے بعد بھی کوئی منصف مزاج آدمی یہ کہہ سکتا ہے کہ اس عنوان پر شیعہ اور مسلمانوں کا عقیدہ ایک ہے؟ سیدنا مہدی کے بارے میں دنیا کا کوئی مسلمان ایسا بے بنیاد اور من گھڑت عقیدہ نہیں اپنا سکتا مسلمانوں کے نزدیک سیدنا مہدی عالمِ کفر سے نبرد آزما ہوگا دجال کے معاملے میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی معاونت کرے گا لیکن یہاں سیدنا ابوبکرؓ، سیدنا عمرؓ اور سیدہ عائشہؓ کی قبروں کو اکھاڑنے، خانہ کعبہ اور مسجدِ نبوی کو گرانے کا عقیدہ ایک ایسا افسانہ ہے جس کی تائید کوئی منصف مزاج انسان کر ہی نہیں سکتا خود شیعہ کو سیدنا مہدی کے ان کارناموں پر ٹھنڈے دل سے غور کرنا چاہیے کہ جن خلفائے راشدینؓ سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کی شان میں قرآن و حدیث کی سینکڑوں تصریحات موجود ہوں اور 1400 سو سال سے جو آنحضرتﷺ کے جوار میں استراحت فرما ہوں، کیا ان کو روضہِ مقدس سے نکال کر کوڑوں کی سزا دینا عقل و انصاف کا ماتم نہیں، حقائق اور اصلیت سے کھلا انحراف نہیں؟ اسلام کی ساری تعلیمات کا مذاق نہیں؟ دینِ محمدی کی اس سے بڑی توہین کیا ہو سکتی ہے؟ اسلام کے سارے تصور اور شریعت کی پوری کہانی ان سے بے جان ہو کر رہ جاتی ہے۔

سیدہ عائشہؓ کی صفائی میں 18 قرآنی آیات اترنے کے بعد ان کی قبر پر کس جرم میں سیدنا مہدی کوڑے برسائیں گے؟ ان کی عصمت، پاکبازی کی قرآنی شہادت کے مقابلے میں سیدنا مہدی کا یہ کارنامہ کس عنوان سے ہوگا؟ جس محمدی دین اور شریعتِ اسلامیہ کا تصور آج پوری دنیا میں موجود ہے، ناظرین بتائیں کہ کیا اس میں ایسے امام کے ظہور کا بھی کوئی تصور ملتا ہے؟ آنحضرتﷺ کی طرف سے سیدنا مہدی کے ظہور کے بارے میں کتابوں میں آنے والی ساٹھ سے زائد احادیث میں کسی جگہ بھی سیدنا مہدی کا ایسا کوئی کارنامہ نظر آتا ہے؟ اسلام نے جس مہدی کا تصور پیش کیا ہے، اس کی پرچھائیاں بھی شیعہ کے تصورِ امام مہدی میں تلاش نہیں کی جا سکتیں۔