شانِ صحابہؓ
از شاعرِ اسلام، صاحبِ اخلاص و حمیت جناب صوفی عبد الربؒ
خدا نے جب محبت سے محمدﷺ کی ثنا کی ہے
کریں نعتِ نبیﷺ ہم بھی کہ یہ مرضی خدا کی ہے
جگر پارہ ہے یا قرآن کا چھبیسواں پارہ
کہ خود نامِ نبیﷺ پر نام سورۃ کی بنا کی ہے
انوکھی شان والی سورۃ انّا فتحنا ہے
حقیقت میں خدا نے یہ بڑی دولت عطا کی ہے
کہیں انعام کا وعدہ، کہیں اظہار کا مژدہ
ثنائے عاشقانِ مصطفےٰﷺ پر انتہا کی ہے
بڑی تقدیر والے ہیں نبیﷺ کے چاہنے والے
بڑے نازک زمانے میں محمدﷺ سے وفا کی ہے
عجب انداز سے شانِ نبیﷺ کا ذکر فرمایا
غلاموں کی ثنا بھی خود ثنا خیر الوریٰ کی ہے
خدائے پاک کا پیارا نبیﷺ خود کیا سے کیا ہو گا
کہ جب تاثیرِ صحبت نے کرامت کیا سے کیا کی ہے
محمدﷺ تو نبیﷺ ہیں ہی مگر جو ان کے ساتھی ہیں
روش ان کے غلاموں کی بڑی پیاری ادا کی ہے
اگر اپنوں میں مل بیٹھیں نہایت بھولے بھالے ہیں
جو بپھریں غیر سے، شدت عیاں قہرِ خدا کی ہے
کبھی سجدوں میں گرتے ہیں، کبھی خم ہیں رکوعوں میں
تلاش فضلِ رب ہے، جستجو اس کی رضا کی ہے
ذرا دیکھو تو پیشانی پہ تابندہ نشانی ہے
علامت پاک چہروں سے سجودِ کبریا کی ہے
یہی وہ ہیں کہ جن کا تذکرہ توریت میں آیا
یہی وہ ہیں کہ خود انجیل نے جن کی ثناء کی ہے
وہی کھیتی یہ ہے کمزور تر تھیں سوئیاں جس کی
مگر اب اس میں شادابی بہارِ جاں فزاں کی ہے
کسان اس لہلہاتے کھیت کے سرکارِ بطحاﷺ ہیں
مسرت سے عجب حالت حبیبِ کبریا کی ہے
جو کافر ہیں وہی جل بھن کے پیچ و تاب کھاتے ہیں
کوئی خوش ہو، کوئی روئے، یہی مرضی خدا کی ہے
جو اعدائے صحابہؓ ہیں بنی ہے خوب گت ان کی
کہ ان کی زندگی ہی ماتمِ آہ و بکا کی ہے
انہیں کو حکم ہے اللہ کا وابکوا كثيرا کا
جو ہے ان کے عمل کا حال وہ حالت جزا کی ہے
محمدﷺ کے وفاداروں سے وعدہ مغفرت کا ہے
بشارت بھی انہیں اَجۡرًا عَظِيۡمًا کی عطا کی ہے
خداوندا! قسم ہے تیرے پیغمبرﷺ کی عزت کی
محبت مجھ کو اصحابِؓ محمد مصطفےٰﷺ کی ہے
ابو بکرؓ و عمرؓ و عثمانؓ و حیدرؓ کا طفیلی ہوں
محبت آل و اصحابِؓ پیغمبرﷺ سے سدا کی ہے
ثنائے عاشقانِ مصطفٰےﷺ قرآن سے لے کر
محبت کی زبان سے اپنے لفظوں میں ادا کی ہے
صحابہؓ کے وفاداروں کی یا رب تو مدد فرما
بڑی اخلاص مندی سے یہ صوفی نے دعا کی ہے