12: سیدنا مہدی کی چند علامات
عن جابر بن عبدالله رضی الله عنه قال يوشك اهل العراق لا يجئى اليهم درهم ولا قفيز قالوا لم ذلك يا ابا عبد الله قال من قبل العجم يمنعون ذلك ثم سكت هنيئه ثم قال يوشك اهل الشام لا يجئى اليهم دينارو لا مدى قالوا لم ذلك قال من قبل الروم يمنعون ذلك ثم قال رسول اللهﷺ يكون فى امتى خليفه يحثى المالحثيا لا يعده عدا ثم قال والذی نفسی بيده ليعودن الامر كما بدأ اليعودن کل ايمان لى المدينه كما بدأ بها حتى يكون کل ايمان بالمدينه ثم قال قال رسول اللهﷺ لا يخرج رجل من المدينه رغبه عنها الا ابدلها خيرا منه وليسعن ناس برخص اسعاد وديف فيتبعونه والمدينه خير لهم لو كانوا يعلمون قال ابو عبد الله هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يخرجاه بهذه السياقه۔
(مستدرک: جلد 34 صفحہ356)
ترجمہ: سیدنا جابر بن عبد اللہؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: وہ وقت قریب ہے جب عراق والوں کے پاس روپے اور غلے آنے پر پابندی لگا دی جائے گی۔ سیدنا جابرؓ سے پوچھا گیا: یہ پابندی کن لوگوں کی جانب سے ہوگی؟ تو انہوں نے فرمایا: عجمیوں کی جانب سے پھر کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد کہا: وہ وقت قریب ہے جب کہ اہل الشام پر بھی یہ پابندی عائد کر دی جائے گی پوچھا گیا: یہ رکاوٹ کس کی جانب سے ہوگی؟ فرمایا: اہلِ روم کی جانب سے پھر فرمایا: رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے کہ میری امت میں ایک خلیفہ ہوگا یعنی خلیفہ مہدی، جو لوگوں کو اموال لپ بھر دے گا اور شمار نہیں کرے گا نیز آپﷺ نے فرمایا: اس ذاتِ پاک کی قسم جس کی قدرت میں میری جان ہے، یقیناً اسلام اپنی پہلی حالت کی طرف لوٹے گا، یقیناً سارا ایمان مدینہ کی طرف لوٹے گا، جس طرح کہ ابتداء مدینہ سے ہوئی تھی حتیٰ کہ ایمان صرف مدینہ میں ہوگا آپﷺ نے فرمایا: مدینہ سے جب بھی کوئی اس سے بے رغبتی کی بنا پر نکل جائے گا، اللہ تعالیٰ اس سے بہتر کو وہاں آباد کر دے گا کچھ لوگ سنیں گے کہ فلاں جگہ ارزانی اور باغ و زراعت کی فراوانی ہے تو مدینہ کو چھوڑ وہاں چلے جائیں گے حالانکہ ان کے واسطے مدینہ ہی بہتر تھا کاش کہ وہ لوگ اس بات کو جانتے۔