حمدان بن اشعث قرمط (مہدی منتظر کا مدعی)
حمدان بن اشعث کوفہ کے ایک چاہ کن کا بیٹا تھا۔ بیل پر سواری کرنے کی وجہ سے اس کو قرمیط کہا جاتا تھا شروع میں تصوف و اشتغال کی طرف مائل تھا، لیکن باطنی فرقہ کے ایک داعی کے دام فریب میں آ کر دولت ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھا اور داعی کی حیثیت سے باطنی فرقہ کا سرغنہ بن کر کام کرنے لگا اس کے باطنی پیروکار اس کی نسبت سے قرامطی یا قرامطہ کہلانے لگے۔
حمدان نے باطنی طریقہ کے اصولوں کے ساتھ ساتھ بعض ظاہری احکام کو بھی اپنے مذہب کا حصہ بنایا اور امام محمد بن حنفیہ کے فرزند احمد کو رسول اللہﷺ بنا کر 264ھ یا 278ھ میں خود کو مہدی منتظر کے منصب پر براجمان کیا سادہ لوح عوام اس کے ذکر و اشتغال اور صلاح و تقویٰ کی وجہ سے اس کے دعویٰ کو تسلیم کر کے اس کے پیروکاروں میں شامل ہو گئے اور ان کا عقیدہ تھا کہ قرمط وہی شخص ہے جن کی بشارت احمد بن محمد بن حنفیہؒ نے دی تھی اس نے مہدی منتظر کی نئی شریعت اپنے پیروکاروں پر پچاس نمازیں فرض کیں اور بعد میں صرف چار رکعتیں باقی رکھیں دو رکعتیں قبل از فجر اور دو رکعت قبل از غروب۔
جھوٹے حمدان مہدی نے خانہ کعبہ کی بجائے بیت المقدس کو قبلہ قرار دیا:
سال بھر میں دو روزوں یعنی (ایک ماہ حرجان اور دوسرا نو روز کا) حکم دیا شراب کو حلال، غسل جنابت کی معافی، تمام درندوں و پرندوں کی حلت اور بیت اللہ کی بجائے بیت المقدس کو قبلہ قرار دیا۔ مرد و عورتوں کی مخلوط جماعت، جمعہ کی جگہ پیر کے دن کی تعطیل کا اعلان کیا۔
جب حمدان کے پیروکاروں کی تعداد بڑھنے لگی تو اس نے بارہ آدمیوں کو نقیب بنایا اور انہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں کی مانند قرار دے کر مختلف شہروں کی طرف تبلیغ کے لیے روانہ کر دیا۔
جھوٹا امام مہدی قتل سے بچ نکلا تو کئی افسانوں نے جنم لیا:
گورنر کوفہ ہیشم نے اسے گرفتار کر کے جیل کی بجائے اپنے ہاتھ سے قتل کرنے کی نیت سے قصرِ امارت کی ایک کوٹھری میں بند کر کے تالہ کی چابی اپنے تکیہ کے نیچے رکھ لی لیکن اس کی ایک کنیز نے ترس کھا کر اسے رہا کر دیا اور خاموشی سے چابی پھر وہاں رکھ دی۔ اس راز دارانہ انداز سے حمدان کی رہائی نے اس کے پیروکاروں میں دیو مالائی داستانوں کو جنم دیا اور خود اس نے اپنے بارے میں بلند و بانگ دعوے شروع کر دیئے لیکن دوبارہ گرفتاری کے خوف سے شام کی طرف بھاگ گیا۔
جو مخالف ہوا اسے قتل کرنا واجب ہے
وہاں پر علی بن محمد خارجی سے کئی روز تک مناظرہ کر کے اسے اپنی ہمنوائی پر تیار کرنے کی کوشش کرتا رہا لیکن بالآخر ناکام ہو کر واپس قرمط آ کر عزلت نشین ہو گیا اور پھر کوچہ گمنامی سے راہِ عدم کی طرف منتقل ہو گیا۔
جھوٹا امام مہدی حجر اسود اکھاڑ کر عمان لے گیا:
حمدان قرمطی کا مذہب تھا کہ جو مخالف ہو اسے قتل کرنا واجب ہے اس کے بعد اس کے پیروان قرامطہ نے ایک مستقل دہشت و تخریب کاری کا عنوان اختیار کر کے عرصہ دراز تک سلاطینِ اسلام اور ملتِ اسلامیہ کی پشت پر کاری زخم لگائے آگے چل کر ان کی عسکری قوت اس حد تک بڑھی کہ خلفائے بنی عباس ان خونخوار بھیڑیوں کا نام سن کر کانپ جاتے تھے اور پھر ایک وقت آیا کہ خراسان سے شام تک ہر شہر ان کی ستم کاری کا نشانہ بننے لگا حتیٰ کہ بیت اللہ سے حجر اسود کو اکھاڑ کر عمان لے گئے جسے کئی سالوں بعد بازیاب کرایا جا سکا ابو سعید جنابی اور اس کا بیٹا ابو طاہر قرمطی، زکرویہ یحییٰ بن زکرویہ اور علی بن فضل یمنی نے عرصہ دراز تک عالمِ اسلام کے خلاف ہلچل مچائے رکھی۔
(ملخص از ائمہ تلبیس: صفحہ، 677،
تاریخ الکامل: جلد 7 صفحہ 148)