ان میں حق الیقین کے مصنف ملا باقر مجلسی کے متعلق ایرانی پیشوا جناب خمینی اپنی کتاب کشف الاسرار میں یہاں تک لکھ گئے ہیں مومن کو چاہیے کہ اپنی عمر ضائع کرنے کی بجائے اپنے پیشوا جناب ملا باقر مجلسی مرحوم کی کتابوں سے اپنے ایمان کو منور کرے۔
جو شخص تمہارے عقائد کی اساس اور بنیاد قائم کرتا ہے، جس کی جملہ کتابوں کو شیعہ مذہب کا نصاب اور ان کے نظریات کا محور قرار دیا گیا ہے، وہ سیدنا مہدی کے ایسے تصور کی موجودگی میں دنیا بھر کے مسلمانوں کے نزدیک کیسے مسلمان ہو سکتا ہے؟ اس کے ماننے والے کس دلیل سے اپنے آپ کو مسلمانوں کے ساتھ نتھی کر سکتے ہیں؟
سیدنا مہدی کے بارے میں اپنے جملہ عقائد کی وضاحت کے بغیر دنیا بھر کا کوئی بھی فقیہ، مفتی، عالم اور اسلامی سکالر تمہیں مسلمان قرار نہیں دے سکتا اگر ہماری بات پر شبہ ہو تو سیدنا مہدی کا اپنی کتابوں سے منقول تصور اور نظریہ تحریر کر کے بطورِ استفتاء بریلوی، دیوبندی، اہلِ حدیث علماء اور عرب ممالک میں شافعی، حنفی، مالکی اور حنبلی علماء سے جواب منگوائیں۔ آپ کو خود ہی اپنا اصلی چہرہ اور حقیقی آئینہ نظر آ جائے گا۔
اگر سپاہِ صحابہؓ آپ ہی کے عقائد کو آپ کی کتابوں سے نقل کر کے آپ کے سامنے پیش کرتی ہے تو اس پر دہشت گردی، فرقہ واریت کا لیبل تھوپنے کی بجائے ان کفریہ نظریات پر بھی غور کریں اپنے ہی آئینے میں اپنی اصلی تصویر کو بھی ملاحظہ کریں چند سکوں کے عوض، چند مراعات کے طمع سے نواز کر اکا دکا نام نہاد سنی مولویوں کو تو حقیقت سے محروم رکھا جا سکتا ہے یا عارضی غوغا آرائی سے اصلیت پر وقتی طور پر پردہ ڈالا جا سکتا ہے، لیکن کفر و نفاق کی سڑاند اور معصیت و گناہ کے جس تعفن سے پورا ماحول آلودہ ہو چکا ہے، اس کی بدبو کو کسی پردے میں چھپایا نہیں جا سکتا۔
آپ دیکھ رہے ہیں کہ سیدنا مولانا حق نواز جھنگویؒ کی شہادت کے بعد سے آج تک بے شک ہمارے کارکنوں کی بڑی تعداد جامِ شہادت نوش کر گئی، لیکن اس تشدد اور دہشت گردی سے کفریہ عقائد اور باطل نظریات تقیہ کے باوجود آشکار ہو گئے آپ ہی بتائیں کیا تقیہ کی سیاہی رفتہ رفتہ اتر نہیں رہی؟ ہر گھر، ہر محلہ اور ہر شہر میں اس حقیقت سے پردہ نہیں اٹھ رہا کہ تکفیرِ صحابہؓ، تحریفِ قرآن اور سیدنا مہدی کے بارے میں غیر اسلامی تصور کبھی اسلام نہیں بن سکتے غلط عقائد کسی تاویل سے بھی دینِ محمدی نہیں کہلا سکتے۔