ہم اس مجموعہ کے پہلے باب میں اس سوال پر روشنی ڈالنا چاہتے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ کیا حضرت امام محمد مہدی علیہ الرضوان کے بارے میں شیعہ اور ملتِ اسلامیہ کا موقف یکساں ہے؟ آنحضرتﷺ کی ساٹھ سے زائد احادیث میں مہدی علیہ الرضوان کی خبر دی گئی ہے کیا شیعہ کے بارہویں امام جنہیں وہ اپنے عقیدے کے مطابق امام مہدی آخر الزمان امام قائم آلِ محمد کے نام سے یاد کرتے ہیں اور وہ ایک ہی شخصیت ہیں یا دونوں علیحدہ علیحدہ افراد ہیں۔
حضرت محمد مہدی علیہ الرضوان کے ظہور اور آمد کے بارے میں دنیا کے کسی مسلمان کا اختلاف نہیں اہلِ سنت کے چاروں امام اور عہدِ حاضر میں مسلمانوں کے تمام مکاتبِ فکر حضرت محمد امام مہدی علیہ الرضوان کے ظہور اور آمد پر متفق ہیں البتہ مسلمانوں اور شیعہ کے عقائد کے بموجب دونوں کے عقائد کے مطابق امام مہدی علیہ الرضوان کا ایک ہونا کسی بھی چھوٹی سے چھوٹی روایت اور آنحضرتﷺ کی بیان کردہ کسی بھی حدیث سے ثابت نہیں ہوتا آنحضرتﷺ نے قربِ قیامت میں حضرت مہدی علیہ الرضوان کے ظہور کی خبر ضرور دی تھی اس کے ساتھ ہی آپ نے ساٹھ سے زائد احادیث میں ان کی علامات اور نشانیوں پر بھی روشنی ڈالی تھی لیکن بسیار تتبع کے باوجود شیعہ کے امام مہدی میں ان علامات میں سے ایک بھی علامت نظر نہیں آتی حتیٰ کہ آنحضرتﷺ کے بیان کردہ محمد مہدی علیہ الرضوان اور شیعہ کے مہدی آخر الزمان کے والدین کے ناموں، مولد اور ظہور کے مقام میں بھی زمین و آسمان کا فرق نظر آ رہا ہے شیعہ کی طرف سے یہ کہنا کہ امام مہدی کے بارے میں مسلمان اور شیعہ کا نقطہ نظر یکساں ہے، سراسر جھوٹ اور کذب بیانی ہے آنحضرتﷺ کی طرف سے آخری زمانے کے جس حضرت مہدی علیہ الرضوان کی خبر دی گئی ہے، ان کی ترجیحات، کارنامے، خصوصیات، جسمانی، صوری، معنوی علامات ہی جدا ہیں۔