حضراتِ ائمہ کرام میں سے سیدنا مہدی بھی ہیں لہٰذا ان کی صفات بھی یہی ہونی چاہئیں اب جب کہ ان کو اس بات کا علم ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول تک مجھے زندہ رہنا ہے دجال کے ساتھ جہاد کرنا ہے اور اپنے اسلاف کے دشمنوں کا انتقام لینا ہے اور شرق و غرب کا مالک بننا ہے پھر کہیں جا کر میری موت کا وقت آئے گا اور میں اپنی مرضی سے مروں گا جب آپ ان صفات سے متصف ہیں تو پھر موت سے ڈرنا اور اس ڈر کے مارے چھپ جانا اس تصور سیدنا مہدی کے بارے میں کیوں کر تصور ہو سکتا ہے؟ چلو بقول اہلِ تشیع ان کے غائب ہونے کی یہی وجہ تھی لیکن اب جب کہ پوری دنیائے اسلام ایران، عراق، شام، حجاز، پاکستان وغیرہ بھی ان کے حامی اور جانثار ہیں اب وہ کیوں تشریف نہیں لاتے؟ اور اگر ایذائے جسمانی کا خطرہ ہے تو اس سے گھبرانے کی کیا ضرورت اور اس کی وجہ سے چھپنے کا کیا جواز؟ کیا حضرات انبیاء کرام علیہم السلام ستائے نہ گئے، انہیں کیا اذیت و مشقت کا سامنا نہ کرنا پڑا؟ بلکہ ایسی اذیت تو بلندی درجات کا سبب بنتی ہے جو کہ اللہ کے ہر نیک بندے کی دلی تمنا ہوتی ہے۔ کہیں ایسا کہہ کر امام مہدی کو بلندی درجات سے محروم رکھنے کی سکیم تو نہیں؟
حضرات قارئین کرام! آپ نے امام القائم کے غائب ہونے کی وجہ اور پھر اہلِ تشیع کے ائمہ کے بارے میں معتقدات بھی ملاحظہ فرمائے کیا ان دونوں میں کوئی مطابقت ہو سکتی ہے؟ یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ مذکورہ صفات ائمہ محض سرسری فضیلت تھیں نہیں بلکہ یہ صفات اہلِ تشیع کے ہاں شرائط امامت میں سے ہیں لہٰذا یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ یا تو سیدنا مہدی کا خوف کے مارے چھپ جانا ان کی امامت کی نفی کرتا ہے یا وہ صفات ان کے علم میں نہ تھیں لیکن مذکورہ صفات سے ناواقف ہونا بھی امام کی شان امامت کو ختم کر دیتا ہے ثبوت ملاحظہ ہو:
اصول کافی میں ہے:
قال ابو عبدالله عليه السلام ام امام لا يعلم ما يصيبه و الى ما يصير فليس ذالك بحجه لله على خلقه۔
(اصول کافی: جلد1 صفحہ258، کتاب الحجہ، مطبوعہ تہران، طبع جدید)
ترجمہ: سیدنا جعفر صادقؒ نے فرمایا جو امام یہ نہیں جانتا کہ اسے ان مصائب اور حالات سے واسطہ پڑنے والا ہے اور یہ کہ وہ کدھر کا رخ اختیار کرے گا تو ایسا امام لوگوں پر اللہ کی طرف سے حجت نہیں ہے یعنی وہ امامت کے لائق نہیں ہے۔
(بحوالہ تحفہ جعفریہ: جلد2 صفحہ 234)