مشاجرات صحابہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

مشاجرات صحابہ

  محمد معاویہ سعدی

اسی سے مشاجراتِ صحابہ کا مسئلہ بھی حل ہو جاتا ہے کہ آپسی اختلاف اور تنازع کی کسی بھی شکل کا زمانہ نبوت میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا اس لیے کہ آپ سے اختلاف کرنے والا تو کافر ہو جاتا اور الجھے ہوئے آپسی تنازعات کے مسئلے کے لیے امت کو ایک عملی نمونہ کی ضرورت بہر حال تھی لہٰذا اس کا ظہور اس وقت ہوا جب اسلام کی ساری بنیادیں مضبوط اور مستحکم ہو چکی تھیں چنانچہ مشاجراتِ صحابہ کے ان واقعات سے بھی امت کو یہ اہم شرعی تعلیمات حاصل ہوئیں کہ:

الف: حفاظتِ حق کے لیے آپس میں تلوار بھی چلانی پڑے تو وہ بھی مطلوب ہے جیسا کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ اور اصحابِ جمل اور اصحابِ صفین نے یہ اقدام فرمایا کہ ہر فریق خود کو حق پر اور دوسرے کو خلاف حق سمجھتے ہوئے اس کے خلاف قتال کو جائز بلکہ ضروری سمجھ رہا تھا۔

اسی سے اس طبقے کی غلط فہمی کا ازالہ ہو جاتا ہے جو امت کے اتحاد کے خوش نما عنوان سے حق و باطل میں خلط کرنا چاہتا ہے اور اہلِ حق کو یہ طعنہ دیتا ہے کہ یہ لوگ امت میں اتحاد پیدا کرنے کے لیے ہم سے اتفاق کے لیے تیار نہیں ہوتے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنی بے مثال عزیمت و استقامت کے ذریعے امت کو یہ پیغام دیا ہے کہ حق کا اطمینان کر کے اتحاد کیا جاتا ہے مطلق اتحاد مطلوب نہیں اور یہیں سے ان حضرات کی غلط فہمی بھی دور ہو جاتی ہے جو ہر موقع کے لیے نرمی خوش اخلاقی اور برداشت کی تعلیم دیتے ہیں حالانکہ یہ سب امور دعوتی اسلوب کے تحت آتے ہیں حفاظتی اصول کے تحت نہیں۔

ب: ایسے الجھے ہوئے معاملات میں جب تک کسی ایک جانب میں حق اچھی طرح واضح نہ ہو جائے اس وقت تک کسی حلقہ یا شخصیت کا فریق نہیں بننا چاہیے جیسا کہ مشاجرات کے اس مسئلے میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ایک بڑی جماعت نے یہی طرزِ عمل اختیار فرمایا اور جب حق واضح ہو جائے تو بقدرِ استطاعت اہلِ حق کا ساتھ دینا چاہیے جیسا کہ دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کیا کہ بعض نے سیدنا علیؓ کو حق پر سمجھا آپ کا ساتھ دیا اور بعض نے پہلے حضرت عائشہؓ کو اور پھر حضرت امیرِ معاویہؓ کو حق پر سمجھ کر آپ کا ساتھ دیا۔

ج: آپسی اختلافات کا دائرہ آپس ہی میں محدود رہنا چاہیے اس کی وجہ سے دشمنوں کو کسی طرح کا موقع نہیں ملنا چاہیے جیسا کہ جب عین جنگ کے شباب کے وقت قیصر روم عیسائی بادشاہ نے اسلامی سرحدوں پر لشکر کشی کا ارادہ کیا سیدنا امیرِ معاویہؓ کو اطلاع ملی تو حضرت نے فوراً ہی اسے مخاطب کرتے ہوئے وہ ایمان افروز خط لکھا جو آج بھی اسلام کی زریں تاریخ کا سنہرا باب ہے خط کا مضمون یہ ہے:  

مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم اسلامی سرحد پر لشکر کشی کرنا چاہتے ہو یاد رکھو اگر تم نے ایسا کیا تو میں اپنے ساتھی سیدنا علیؓ سے صلح کر لوں گا اور تمہیں تمہارے علاقے سے بھی نکال باہر کروں گا اور روئے زمین کو اس کی وسعتوں کے باوجود تم پر تنگ کر دوں گا۔  (البداية والنہاية: جلد8 صفحہ13)

د: فروعی مسائل اور سیاسی انتظامات میں پیش آنے والے اجتہادی اختلافات کا حکم الگ ہوتا ہے اور مسلمہ اصول و عقائد سے انحراف کا حکم الگ ہوتا ہے کفر بدعت اور ضلالت وغیرہ کی اصطلاحات اصولی انحرافات کرنے والوں کے لیے استعمال کی جاتی ہیں فروعی سیاسی اور انتظامی مسائل میں اختلاف کرنے والوں کے لیے نہیں یہی وجہ ہے کہ ایک موقع پر سیدنا علیؓ نے اصحابِ جمل کے بارے میں فرمایا کہ ہم اور وہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ آخرت میں ہمارے ہی بارے میں ارشاد فرمائیں گے:

وَنَزَعۡنَا مَا فِىۡ صُدُوۡرِهِمۡ مِّنۡ غِلٍّ اِخۡوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيۡنَ ۞(سورۃ الحجر: آیت 47) 

ترجمہ: اور ہم نے ان کے دلوں کے کھوٹ دور کر دیے اب وہ بھائی بھائی بن کر ایک دوسرے کے سامنے مسہریوں پر بیٹھے ہیں (تفسیر ابنِ کثیر)

اہلِ صفین کے بارے میں فرمایا:

زَعَمُوا أَنَّا بَغَيْنَا عَلَيْهِمْ وَزَعَمْنَا أَنَّهُمْ بَغَوْا عَلَيْنَا) (تاريخِ دمشق: جلد 1 صفحہ 343) 

ترجمہ: وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ زیادتی ہماری طرف سے ہے ہم یہ سمجھ رہے ہیں کہ زیادتی ان کی طرف سے ہے

ایک اور روایت میں ہے کہ آپ سے دریافت کیا گیا: 

مَا تَقُولُ فِی قَتْلَانَا وَقَتْلَاهُمْ۔ 

فرمایا: مَنْ قُتِلَ مِنَّا وَمِنْهُمْ يُرِيدُ وَجْهَ اللَّهِ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ دَخَلَ الْجَنَّةَ۔(سننِ سعيد بن منصور: جلد 2 صفحہ 397)

ترجمہ: آج کی جنگ میں ہمارے اور ان کے مقتولین کا کیا ہوگا فرمایا دونوں جماعتوں میں سے جو اخلاص کے ساتھ آخرت کے لیے لڑا ہوگا اور شہید ہوا ہوگا جنتی ہوگا۔

اس کے برخلاف آپ نے خوارج سے جنگ کی بنیاد ان متواتر احادیث اور نبی کریمﷺ کی مشہور پیشین گوئیوں کو قرار دیا تھا جن میں ایک ایسے فرقے کے وجود میں آنے کی خبر دی گئی تھی جو دین سے اس طرح نکل جائے گا جس طرح تیر شکار کے پار نکل جاتا ہے۔

ھ: سیدنا امیرِ معاویہؓ کی جماعت اور فرقہ خوارج کے مابین یہی وہ فرق بھی ہے جس کی بناء پر امت کے اختلاف کو اجتہادی اختلاف اور مشاجرہ سے تعبیر کیا ہے اور ثانی کے اختلاف کو خروج بغاوت اور شقاق وغیرہ الفاظ سے یاد کیا ہے حضرت امیرؓ کے لشکر کو جماعت کہا جاتا ہے اور خوارج کے لشکر کو فرقہ کہا جاتا ہے۔

یہی مطلب بھی ہے آیت پاک کا: 

اِنَّ الَّذِيۡنَ فَرَّقُوۡا دِيۡنَهُمۡ وَكَانُوۡا شِيَـعًا الخ۔(سورۃ الأنعام: آیت 159)  

کہ تفریق بین المسلمین اور فرقہ بندی کا الزام ان لوگوں پر عائد ہوگا جو فکر و عقیدے میں جمہور کی متوارث راہ سے انحراف کریں گے ورنہ متوارث طریق پر جمے رہنا تو استقامت کہلاتا ہے اختلاف نہیں۔

و: سیدنا امیرِ معاویہؓ اور ان کے طائفے کو جماعت مسلمین میں داخل ماننا اور خوارج کو اہلِ باطل میں سے شمار کرنا اس فرق کے لیے جمہور کے سامنے دو مشہور حدیثیں بھی ہیں۔

1: پہلی حدیث: 

تَمْرُقُ مَارِقَةٌ عِنْدَ فُرْقَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ تَقْتُلُهُمْ أَوْلَى الطَّائِفَتَيْنِ بِالْحَقِّ۔

(صحيح مسلم: جلد 1 صفحہ343 و صحيح البخاری: جلد 2 صفحہ 1024) 

ترجمہ: مسلمانوں کے باہمی اختلاف کے وقت ایک فرقہ امت سے نکل جائے گا اور اس کو امت کی وہ جماعت قتل کرے گی جو حق کے زیادہ قریب ہوگی  

اس میں اہلِ حق کی دونوں جماعتوں پر طائفہ کا اطلاق کیا گیا ہے جب کہ خوارج کے لیے مارقة کا لفظ استعمال ہوا ہے مارقہ اس تیر کو کہتے ہیں جو شکار میں پیوست ہو کر دوسری جانب پار ہو جائے۔

  معلوم ہوا کہ خوارج کا فرقہ امت کے عام جادہ اور شاہِ راہ سے ہٹا ہوا تھا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اختلاف آپسی اختلاف تھا۔

2: دوسری حدیث میں ہے:  

إِنَّ ابْنِی هَـٰذَا سَيُصْلِحُ اللَّهُ بِهِ بَيْنَ طائَفتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ۔ (صحيح البخاری: جلد1 صفحہ373) 

ترجمہ: سیدنا حسنؓ کے بارے میں آپﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ میرے اس بیٹے کے ذریعے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں کے درمیان صلح کرائیں گے  

معلوم ہوا کہ سیدنا علیؓ اور حضرت امیرِ معاویہؓ دونوں اہلِ حق میں سے ہی ہیں اور دونوں کی جماعتیں مسلمانوں ہی کا طائفہ ہیں۔

(صحيح البخاری: 3609 و صحيح مسلم: 157)

کی ایک اور حدیث میں ہے  

ترجمہ: قیامت قت تک قائم نہ ہوگی جب تک مسلمانوں کی دو ایسی عظیم جماعتوں کے درمیان آپس میں سخت قتال پیش نہ آ جائے جن دونوں کا دعویٰ ایک ہی ہوگا۔

لا تقوم الساعۃ حتیٰ یقتتل فئتان فیکون بینھما مقتلۃ عظیمۃ دعواھما واحدۃ۔