1: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے اس طرح کی لغزشوں کے صدور سے متعلق اہلِ حق کا فکر و عقیدہ کیا ہے؟ اس کی وضاحت ذیل کی تفصیل سے ہوتی ہے
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ایسی غلطیوں کے سرزد ہو جانے کے باوجود اللہ اور رسول اللہﷺ کی ان سے رضامندی اور خوشنودی کے مضمون کو حکیم الامت حضرت تھانویؒ نے اپنے ایک وعظ فوائد الصحبة صفحہ 15 میں بہت عام فہم انداز میں سمجھایا ہے فرماتے ہیں:
تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی محبت کا یہ عالم تھا اور اس محبت کا مقتضا یہ بھی ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زلات (و لغزشات) بالکل معاف ہوں دیکھیے اگر کسی جانثار خادم سے کبھی کوئی غلطی ہو جاتی ہے تو اس کی پرواہ بھی نہیں کیا کرتے ابھی حال میں ایک واقعہ ہوا کہ ایک صاحب کے بدن میں ایک گہرا زخم ہو گیا تھا ڈاکٹر نے دیکھ کر کہا کہ اس زخم میں اگر آدمی کا گوشت لے کر بھرا جائے تو یہ برابر ہو جائے ان صاحب کا ایک نوکر موجود تھا کہنے لگا کہ میری ران میں سے جس قدر گوشت کی ضرورت ہو لے لیا جائے۔
اب بتلایئے کہ اگر اس خادم سے کبھی کوئی سرسری لغزش ہو جائے تو کیا وہ آقا اس پر مواخذہ کرے گا ہرگز نہیں پس یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر طعن کرنا جائز نہیں۔
صاحبو: جو مشاجرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم سے منقول ہیں اور جتنی لغزشیں ہوئی ہیں اگر ان سے دس گنا زیادہ ہوتیں وہ بھی معاف تھیں غضب کی بات ہے کہ آپ اپنے کو قدرداں سمجھتے ہیں کہ وفادار جاں نثار کی لغزش کو قابل معافی سمجھتے ہیں اور خدا تعالیٰ اور رسول اللہﷺ کو اتنا بھی قدرداں نہیں سمجھتے۔
اسی لیے ہم بلا تامل کہتے ہیں کہ:
الصَّحَابَةُ كُلُّهُمْ عُدُولٌ۔
ترجمہ: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سب کے سب عادل ہیں۔
اور اس پر اعتماد رکھتے ہیں:
لَا تَمَسُّ النَّارُ مَنْ رَآنِی۔
ترجمہ: جس شخص نے ایمان کی حالت میں مجھے دیکھا اور ایمان ہی پر مر گیا تو اسے جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی۔
اور اگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بعض اقوال زلت اور لغزش ہیں تو ہم ان کی نسبت کہیں گے
خون شہیداں از آب اولیٰ ترست
ایں خطا از صد صواب اولیٰ ترست
ترجمہ: شہیدوں کا خون پانی سے اولیٰ تر ہے یہ خطا اور غلطی سو درستگی سے زیادہ بہتر ہے
2: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زلات ولغزشات کی توجیہ میں بعض شراح حدیث نے ایک عجیب مضمون بیان فرمایا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ:
(رسول اللہﷺ کی ذات مبارکہ کو ایسی شریعت کے ساتھ مبعوث فرمایا گیا تھا جس کو قیامت تک کے لیے جاری اور ساری ہونا تھا تو جو افعال و اعمال شان نبوت کے لائق تھے ان کے عملی نمونہ کا ظہور تو آپ کی ذات گرامی سے ہوا اور جن اعمال کا صدور شان نبوت کے منافی تھا اس کے عملی نمونہ کے لیے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت کا انتخاب کیا گیا۔
جیسا کہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے:
اخْتَارَهُمُ اللّٰہ لِصُحْبَةِ نَبِيِّهِ وَإِقَامَةِ دِينِهِ
(جامع بيان العلم وفضله لابنِ عبد البر: جلد 1 صفحہ 1810)
ترجمہ: ان کا انتخاب ہی ہوا ہے نبی کریمﷺ کی صحبت اور دین کے قیام کے لیے۔
پھر اقامت دین کے لیے تکوینی مصلحتوں کے تحت ان میں سے جس سے ایسی غلطیوں اور خطاوں کا صدور کرا لیا گیا اس کو پروانہ مغفرت اور رضا مندی عطا فرما کر اس کی اس عظیم الشان قربانی کا بہترین صلہ دے دیا گیا۔