مشاجرات صحابہؓ اور جمہور امت کا موقف - دفاعِ اہلِ سنت |…

مشاجرات صحابہؓ اور جمہور امت کا موقف

  محمد معاویہ سعدی

صفحہ 1 از 2

1: سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو سنا کہ اہلِ جمل یا اہلِ صفین کے متعلق نامناسب کلام کر رہا ہے تو فرمایا:

لَا تَقُولُوا إِلَّا خَيْرًا إِنَّمَا هُمْ قَوْمٌ زَعَمُوا أَنَّا بَغَيْنَا عَلَيْهِمْ وَزَعَمْنَا أَنَّهُمْ بَغَوْا عَلَيْنَا فَقَاتَلْنَاهُمْ۔ 

(منہاج السنة النبوية: جلد 5 صفحہ 245)

ترجمہ: ان کے بارے میں بھلائی کے علاوہ کچھ نہ کہو وہ لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ زیادتی ہماری طرف سے ہے اور ہم یہ سمجھ رہے ہیں کہ زیادتی ان کی طرف سے ہے اس لیے ہم ان سے قتال کر رہے ہیں۔

2: امام شافعیؒ حضرت عمر بن عبد العزیزؒ سے نقل کرتے ہیں کہ مشاجراتِ صحابہ سے متعلق آپ سے کچھ دریافت کیا گیا آپ نے فرمایا:  

تِلْكَ دِمَاءٌ طَهَّرَ اللَّهُ مِنْهَا سُيُوفَنَا فَلَا نُخَضِّبْ لَهَا أَلْسِنَتَنَا۔

 (معجم الشيوخ للذهبی: جلد  2 صفحہ 186

وفتح المغيث للسخاوی: جلد 4 صفحہ101)  

ترجمہ: جب اللہ نے ہماری تلواروں کو ان کے خون کی ذمہ داری سے محفوظ رکھا تو ہم اپنی زبان کو اس سے کیوں آلودہ کریں۔

3: امام اعظم ابو حنیفہؒ نے اپنے عقائد کے مجموعہ الفقه الأكبر صفحہ 43 میں یہ بات ذکر فرمائی ہے کہ ہم لوگ کسی بھی صحابی کا تذکرہ نہیں کرتے مگر خیر کے ساتھ۔

4: امام احمدؒ سے سوال کیا گیا آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:

تِلۡكَ اُمَّةٌ قَدۡ خَلَتۡ‌ لَهَا مَا كَسَبَتۡ وَلَـكُمۡ مَّا كَسَبۡتُمۡ‌ وَلَا تُسۡئَـلُوۡنَ عَمَّا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ۞ (سورۃ البقرہ: آیت 134)

ترجمہ: وہ ایک جماعت تھی جو گزر گئی اس نے جو کچھ کیا اس کا معاملہ ہے تم کو وہ ملے گا جو تم کر رہے ہو ان کے بارے میں تم سے کچھ نہ پوچھا جائے گا۔

5: امام ابو زرعہ رازیؒ کے سامنے کسی نے کہا کہ میں سیدنا امیرِ معاویہؓ سے بغض رکھتا ہوں دریافت فرمایا کیوں کہنے لگا اس لیے کہ انہوں نے سیدنا علیؓ سے جنگ کی تھی فرمایا:  

وَيْحَكَ إِنَّ رَبَّ مُعَاوِيَةَ رَبٌّ رَحِيمٌ وَخَصْمَ مُعَاوِيَةَ خَصْمٌ كَرِيمٌ فَأَيْنَ دُخُولُكَ أَنْتَ بَيْنَهُمَا رَضِی اللَّهُ عَنْهُمَا۔ (البداية والنہاية: جلد 11 صفحہ 427)  

ترجمہ: تیرا ناس ہو سیدنا امیرِ معاویہؓ کا رب ایک رحیم آقا ہے ان کا فریق ایک شریف فریق ہے تو ایسے معاملے میں تیرے جیسوں کا کیا کام اللہ ان دونوں سے راضی ہو۔

6: اسی لیے اہل السنت والجماعت کے عقائد کی اہم کتابوں میں یہ عقیدہ بھی بطورِ خاص بیان کیا جاتا ہے: 

نَتَرَحَّمُ عَلَيْهِمْ وَنَذْكُرُ فَضْلَهُمْ وَنَكُفُّ عَنْ زَللِهِمْ وَلَا نَذْكُرُ أَحَدًا مِّنْهُمْ إِلَّا بِالْخَيْرِ۔ 

(الفقه الأكبر: صفحہ  43،

العقيدة الطحاوية: صفحہ 81، 

طبقات الحنابلة: جلد 2 صفحہ21) 

ترجمہ: ہم تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں ان کے فضائل و مناقب بیان کرتے ہیں ان کی زلات و لغزشات سے صرف نظر اور کف لسان کرتے ہیں اور ان میں سے کسی کا بھی تذکرہ خیر کے بغیر نہیں کرتے

7: علامہ تفتازانیؒ فرماتے ہیں: 

يَجِبُ تَعْظِيمُ الصَّحَابَةِ وَالْكَفُّ عَنْ مَطَاعِنِهِمْ وَحَمْلُ مَا يُوجِبُ ظَاهِرُهُ الطَّعْنَ فِيهِمْ عَلَى مَحَامِلَ وَالتَّأْوِيلَاتِ۔ (مقدمة الإصابة: جلد 1 صفحہ 25)  

ترجمہ: صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تعظیم کرنا ان پر طعن سے احتراز کرنا اور ان کی لغزشوں کی تاویل کرنا یا مناسب محمل پر محمول کرنا واجب ہے۔

8: حافظ ابنِ حجرؒ فتح الباری کتاب الفتن باب اذا التقى المسلمان بسيفيهما کے تحت فرماتے ہیں:  

اتَّفَقَ أَهْلُ السُّنَّةِ عَلَى وُجُوبِ مَنْعِ الطَّعْنِ عَلَى أَحَدٍ مِّنَ الصَّحَابَةِ بِسَبَبِ مَا وَقَعَ لَهُمْ مِنْ ذَلِكَ وَلَوْ عُرِفَ الْمُحِقُّ مِنْهُمْ لِأَنَّهُمْ لَمْ يُقَاتِلُوا فِی تِلْكَ الْحُرُوبِ إِلَّا عَنِ اجْتِهَادٍ وَقَدْ عَفَا اللَّهُ تَعَالَى عَنِ الْمُخْطِئِ فِی الِاجْتِهَادِ بَلْ ثَبَتَ أَنَّهُ يُؤْجَرُ أَجْرًا وَاحِدًا وَأَنَّ الْمُصِيبَ يُؤْجَرُ أَجْرَيْنِ الخ۔ 

ترجمہ: کسی بھی صحابی پر طعن و تشنیع کے ممنوع ہونے پر اہلِ سنت کا اتفاق ہے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے آپسی مناقشات کے سلسلے میں بھی حتیٰ کہ کسی کا حق پر ہونا سمجھ میں آ جائے تب بھی دوسرے پر تبصرہ جائز نہیں اس لیے کہ ان حضرات کے مشاجرات اجتہاد کی بنیاد پر تھے اور اجتہاد میں غلطی کرنے والے کو تو اللہ تعالیٰ ہی معاف فرما چکے ہیں بلکہ حدیث میں تو مخطی کے لیے ایک اجر اور مصیب کے لیے دوہرے اجر کی بھی بات ثابت ہے۔

9: علامہ بیجوریؒ فرماتے ہیں حتی الامکان مشاجراتِ صحابہ کے قصے میں پڑو ہی مت اگر پڑنا ہی ہے تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرف سے حسنِ ظن رکھتے ہوئے مناسب توجیہ و تاویل کے ساتھ تذکرہ کرو کسی بھی صحابی کی تنقیص مت کرو اس لیے کہ اس موضوع کا تصفیہ کوئی عقیدے کا حصہ نہیں ہے اور نہ ہی علمِ کلام کا موضوع ہے اس موضوع کو چھیڑنا کسی دینی اور علمی نفع کے بجائے اکثر ایمان و یقین کے لیے مضر ہی ہوتا ہے اس لیے اگر ضرورت پڑے تو صرف متعصب افراد پر رد کی حد تک یا تدریسی ضرورت کے تحت گفتگو کی جا سکتی ہے ورنہ نہیں اور عوام کے لیے تو اس موضوع میں پڑنا بالکل جائز نہیں اس لیے کہ ناواقف ہوتے ہیں اور تاویلات وغیرہ سمجھتے نہیں۔ 

مقدمة التحقيق للإصابة: جلد 1 صفحہ 25)

10: امام المؤرخین والمحدثین فخر المتأخرین علامہ شمس الدین الذہبیؒ اپنی بے نظیر کتاب سير أعلام النبلاء: جلد 10 صفحہ92 میں فرماتے ہیں:  

تَقَرَّرَ الْكَفُّ عَنْ كَثِيرٍ مِّمَّا شَجَرَ بَيْنَ الصَّحَابَةِ وَقِتَالِهِمْ رَضِی اللّٰہُ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ وَمَا زَالَ يَمُرُّ بِنَا فِی الدَّوَاوِينِ وَالْكُتُبِ وَالْأَجْزَاءِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ ذَلِكَ مُنْقَطِعٌ وَضَعِيفٌ وَبَعْضُهُ كَذِبٌ وَهَذَا فِيمَا بَيْنَ أَيْدِينَا وَبَيْنَ عُلَمَائِنَا فَيَنْبَغِی طَيُّهُ وَإِخْفَاؤُهُ بَلْ إِعْدَامُهُ لِتَصْفُوَ الْقُلُوبُ وَتَتَوَفَّرَ عَلَى حُبِّ الصَّحَابَةِ وَالرِّضَى عَنْهُمْ۔

صفحہ 1 از 2