مولانا محمد منظور نعمانی رحمۃاللہ کی تصریح - ردِ رافضیت |…

مولانا محمد منظور نعمانی رحمۃاللہ کی تصریح

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

امام آخر الزماں کی غیبت صغریٰ اور کبریٰ:

اختصار اور اجمال کے ساتھ یہ بات پہلے بھی ذکر کی جا چکی ہے کہ بارہویں امام صاحب الزماں امام غائب کی اس غیبت کے بعد بعض باکمال شیعہ صاحبان نے عوام کو بتلایا اور باور کرایا کہ صاحب الزماں کے پاس راز دارانہ طور پر ان کی آمد و رفت ہے اور وہ گویا ان کے سفیر اور خصوصی ایجنٹ ہیں یکے بعد دیگرے چار حضرات نے یہ دعویٰ کیا ان میں آخری علی بن محمد سمری تھے جن کا انتقال 329ھ میں ہواسادہ دل شیعہ صاحبان صاحب الزماں امام غائب تک پہنچانے کے لیے ان حضرات کو خطوط اور درخواستیں اور طرح طرح کے قیمتی ہدیے دیتے تھے اور یہ امام صاحب الزماں کی طرف سے ان کے جوابات لا کر دیتے تھے جن پر امام صاحب کی مہر ہوتی تھی یہ سارا کاروبار انتہائی راز داری سے ہوتا تھا۔

رہا یہ سوال کہ اصلیت اور حقیقت کیا تھی؟ تو ہمارا خیال ہے کہ ہر وہ شخص جس کو اللہ نے فراست اور بصیرت کا کچھ حصہ عطا فرمایا ہے، یہی سمجھے گا کہ یہ ان ہوشیار اور چالاک لوگوں کا کاروبار تھا جو اپنے کو امام غائب کا سفیر بتلاتے تھے لیکن شیعہ صاحبان اور ان کے حضرات علماء و مجتہدین کے نزدیک بھی وہ خطوط و مراسلات جو ان سفیروں نے صاحب الزماں امام غائب کے بتلا کر لوگوں کو دیے، وہ امام معصوم کے ارشادات اور دینی حجت ہیں اور ان کی کتب حدیث و روایات میں اس حیثیت سے جمع کیے گئے ہیں ان کا اچھا خاصا ذخیرہ احتجاج طبرسی کے آخری صفحات میں بھی دیکھا جا سکتا ہے جناب خمینی صاحب نے بھی اپنی کتاب الحکومت الاسلامیہ میں دینی حجت ہی کی حیثیت سے ان کا ذکر کیا ہے اور اپنے خاص نظریے ولایتِ فقیہ پر ان سے استدلال بھی کیا ہے۔  

(ملاحظہ ہو الحکومۃ الاسلامیہ: صفحہ76، 77)

یہ بات پہلے بھی ذکر کی جا چکی ہے کہ شیعہ حضرات کی روایات اور کتابوں میں اس زمانے کو جب ان کے عقیدے کے مطابق سفارت کا یہ سلسلہ چل رہا تھا، غیبتِ صغریٰ کا زمانہ کہا جاتا ہے بیان کیا جاتا ہے کہ یہ سفارتی کاروبار جو انتہائی راز داری کے ساتھ چل رہا تھا، اس وقت ختم ہوا جب حکامِ وقت کو اس کی اطلاع ہوئی اور ان کی طرف سے اس کی تحقیق و تفتیش شروع ہوئی کہ یہ کون لوگ ہیں جو اس طرح کا فریب دے کر رعایا کے سادہ لوح عوام کو لوٹ رہے ہیں؟ اس کے بعد یہ سلسلہ بند ہو گیا اور مشہور کر دیا گیا کہ اب غیبتِ صغریٰ کا دور ختم ہو کر غیبتِ کبریٰ کا دور شروع ہو گیا اور اب صاحبِ الزماں کے ظہور تک کسی کا ان سے رابطہ قائم نہ ہو سکے گا اور کسی کی رسائی نہ ہو سکے گی اب بس ان کے ظہور کا انتظار کیا جائے۔  

(ایرانی انقلاب: صفحہ 176، 177)

یہاں جو بات ذکر کرنا چاہتا ہوں، وہ یہ ہے کہ امام کے غائب ہو جانے کے بعد اب حضراتِ امامیہ بھی امام کے بغیر زندگی بسر کر رہے ہیں سب کو معلوم ہے کہ آنحضرتﷺ نے تین زمانوں کو خیر القرون فرمایا ہے یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا زمانہ، ان کے بعد تابعین کا دور، ان کے بعد تبع تابعین کا دور حضراتِ امامیہ نے خیر القرون کے زمانے میں تو امام کے وجود کو ضروری قرار دیا لیکن جب شر القرون کا دور شروع ہوا تو امام کو یک بیک غائب کر دیا اہلِ عقل کو غور کرنا چاہیے کہ اگر خیر القرون میں امام کا وجود ضروری تھا تو شر القرون میں اس سے زیادہ ضروری ہونا چاہیے تھا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ خیر القرون میں تو اللہ تعالیٰ پے در پے امام بھیجتا چلا جائے اور جونہی خیر القرون کا دور ختم ہو اور شر القرون کا دور شروع ہو جائے تو اللہ تعالیٰ امام کو یکایک غائب کر دے اور دنیا امام کے بغیر زندگی گزارنے پر مجبور ہو جائے؟ سوچنے اور سو بار سوچنے کی بات ہے کہ کیا یہ امامت کا ڈھونگ محض عہدِ اول کے مسلمانوں کو بد نام کرنے کے لیے تو نہیں رچایا گیا؟

مسئلہ امامت میں سیدنا علیؓ کے خاندان کی خانہ جنگیوں کا خلاصہ اس کا ایک اور پہلو بھی لائقِ توجہ ہے وہ یہ کہ سیدنا علیؓ کی اولاد کی اکثریت ہمیں شیعوں کے عقیدہ امامت کی منکر نظر آتی ہے۔ چنانچہ:

سیدنا حسینؓ کی شہادت کے بعد سیدنا زین العابدینؒ کی امامت کا دور آیا تو ان کے چچا محمد بن حنفیہؒ نے خود اپنی امامت کا دعویٰ کیا اور وہ سیدنا زین العابدینؒ کی امامت کے منکر ہوئے چنانچہ اصولِ کافی، کتاب الامامہ، باب ما يفصل به میں دعوىٰ المحق والمبطل فی الإمامہ میں چچا بھتیجے کا مناظرہ منقول ہے جس میں بالآخر حجرِ اسود سے فیصلہ طلب کیا گیا۔  

(اصولِ کافی: جلد1 صفحہ348، روایت نمبر 5)

لیکن اس فیصلے کے بعد بھی محمد بن حنفیہؒ کی امامت کا ڈنکا بدستور بجتا رہا اور سیدنا زین العابدینؒ کو کوئی نہ پوچھتا تھا، جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے۔

2: سیدنا حسن مجتبیٰؓ کی پوری اولاد اثناءِ عشریہ عقیدہ امامت کی منکر تھی چنانچہ عبد اللہ بن حسن المحض سیدنا باقرؒ اور سیدنا جعفرؒ کی امامت کے منکر تھے اور وہ اپنے بیٹے محمد نفسِ زکیہ کے حق میں ان سے بیعت لینا چاہتے تھے جیسا کہ اصولِ کافی کے بابِ مذکور، روایت نمبر 17 اور نمبر 19 میں مذکور ہے۔  

(دیکھیے: اصولِ کافی :جلد 1 صفحہ 366، 385)

3: سیدنا زین العابدینؒ کے بعد جب سیدنا باقرؒ کا دور آیا تو ان کے بھائی سیدنا زید بن علیؒ نے، جو زید شہیدؒ کے لقب سے معروف ہیں، سیدنا باقرؒ کی امامت سے انکار کیا اور خود اپنی امامت کا دعویٰ کیا جیسا کہ اصولِ کافی کے اسی باب کی روایت نمبر 16 میں ان کا مناظرہ امام باقر کے ساتھ منقول ہے۔  

(دیکھیے: اصولِ کافی صفحہ356، نیز اصولِ کافی کتاب الامامتہ باب الاضطرار إلى الحجہ کی روایت نمبر 5 میں ہشام احول کے ساتھ ان کا مناظرہ منقول ہے دیکھیے: اصولِ کافی، جلد1 صفحہ 174)

4: سیدنا جعفر صادقؒ کے پانچ فرزند تھے محمد، اسماعیل، عبداللہ افطح، موسیٰ، علی ان پانچوں نے اپنی اپنی امامت کا دعویٰ کیا اور شیعوں کے علیحدہ علیحدہ فرقے بنے جس کی تفصیل اوپر گزر چکی ہے بہرحال سیدنا جعفرؒ کی اولاد میں موسیٰ کاظمؒ کی امامت کا کوئی بھی قائل نہ تھا بلکہ سیدنا صادقؒ نے اپنے بڑے بیٹے اسماعیلؒ کی امامت کا تو خود اعلان بھی فرمایا تھا لیکن اللہ تعالیٰ کو نعوذ باللہ بدا ہو گیا اور اس کی رائے بدل گئی اور غریب اسماعیل کی امامت حرفِ غلط کی طرح مٹا دی گئی۔

5: اس طرح ہر امام کے دورِ امامت میں اس کے بھائی، بھتیجے اور دیگر اقارب اس کی امامت کے منکر رہا کرتے تھے، حتیٰ کہ سیدنا حسن عسکریؒ کے بھائی جعفر ان کی اور ان کے بیٹے بے نام مہدی کی امامت کے بھی منکر تھے اس بناء پر شیعہ ان کو جعفر کذاب کے مقدس لقب سے یاد کرتے ہیں۔

مذکورہ بالا تفصیل سے معلوم ہوا کہ ہر امام کی امامت کو سوائے اس کے اہلِ بیتؓ کے اور دو چار شیعوں کے خاندانِ سادات میں سے بھی کسی نے قبول نہیں کیا بلکہ سوائے چند افراد کے سوا ڈھائی صدیوں میں تمام سادات اور پورا خاندانِ نبوت مسئلہ امامت کا منکر تھا۔