اسلام - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اسلام

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

آنحضرتﷺ کی طرف سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے مناقب اور ان پر مکمل اعتماد کا اظہار:

1: قرآن کا ارشاد ہے: 

يٰنِسَآءَ النَّبِىِّ لَسۡتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ الخ۔

(سورۃ الاحزاب: آیت 32)

ترجمہ: اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو۔

2: آنحضرتﷺ نے فرمایا عائشہ کو تمام عورتوں پر ایسے فضیلت حاصل ہے جیسے ثرید کو تمام کھانوں پر۔

3: مردوں میں مجھے سب سے زیادہ ابوبکر سے اور عورتوں میں سب سے زیادہ عائشہ سے محبت ہے۔

شیعیت:

امام مہدی (بارہویں امام) حضرت عائشہ صدیقہؓ کی قبر پر حد جاری کریں گے:

شیعہ مجتہد ملا باقر مجلسی کی کتاب حیات القلوب جلد دوم کے اردو ترجمہ مطبوعہ امامیہ کتب خانہ موچی دروازہ لاہور، صفحہ 901 پر ہے:

ابنِ بابویہ نے سند معتبر سیدنا صادقؒ سے روایت کی ہے کہ تین اشخاص ہیں جنہوں نے رسولِ خداﷺ پر بہت جھوٹ باندھا ہے: ابو ہریرہ، انس بن مالک اور عائشہ۔

ابنِ بابویہ نے سیدنا باقرؒ سے روایت کی ہے کہ جب حضرت قائم آلِ محمد ظاہر ہوں گے تو وہ عائشہ کو زندہ کریں گے اور ان پر حد جاری کریں گے اور سیدہ فاطمہؓ کا انتقام لیں گے۔

راوی نے پوچھا کس سبب سے حد جاری کریں گے؟ تو امام نے فرمایا: مادر ابراہیم یعنی آنحضرتﷺ کی بیوی ماریہ قبطیہ پر جو افتراء اس نے باندھا تھا راوی نے پوچھا آنحضرتﷺ نے خود ان پر حد جاری کیوں نہ فرمائی اور خدا نے اسے قائم آلِ محمد تک کیوں ملتوی کر دیا حضرت نے فرمایا کہ آنحضرتﷺ کو خدا نے رحمت بنا کر بھیجا تھا اس لیے یہ کام قائم المنتظر تک ملتوی کر دیا۔

(بحوالہ: تاریخی دستاویز: صفحہ359)

حضرت عائشہ صدیقہؓ کو زندہ کر کے امام مہدی (بارہواں امام) عذاب دے گا۔

يخرج اولاد قاتلی الحسين فيقتلهم لانهم رضوا بصبع آباءهم و من رضى بفعل قبيح كان كمن آثاه و يحيى عائشہ و يعذب۔

ترجمہ: امام مہدی سیدنا حسینؓ کے قاتلوں کی اولاد کو قتل کریں گے کیونکہ وہ اپنے آباء کے اس فعل پر راضی تھے کیونکہ جو بھی غلط کام پر راضی ہو وہ اسی جیسا ہوتا ہے پھر سیدہ عائشہؓ کو زندہ کر کے اسے عذاب دے گا۔

(از حق الیقین: جلد2 صفحہ 93، باب کیفیت رجعت، ملا باقر مجلسی)

(بحوالہ تاریخی دستاویز: صفحہ356)

پاکستان سے حال ہی میں شائع ہونے والی ایک کتاب کے اقتباسات:

1: امام مہدی (بارہواں امام) سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کی لاشوں کو قبروں سے نکالے گا۔  

2: امام مہدی (بارہواں امام) سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کی لاشوں کو درختوں پر لٹکانے کا حکم دے گا۔  

3: امام مہدی (بارہواں امام) کے حکم سے سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کے کفن اتارے جائیں گے۔  

4: امام مہدی (بارہواں امام) کہے گا کہ ابوبکر و عمر کو ماننے والے علیحدہ ہو جائیں تو اسی وقت مخلوق دو حصوں میں بٹ جائے گی۔  

5: مہدی( بارہویں امام) ابوبکرؓ و عمرؓ سے بیزاری کا حکم دیں گے لوگ انکار کریں گے۔  

6: ابوبکر و عمر کی لاشیں جس درخت پر لٹکائی جائیں گی وہ درخت سبز ہو جائے گا اور پھل دینے لگے گا۔

(از بصائر الدرجات)

شیعہ مصنف قاضی جلیل محمد شریف بن شیر محمد شاہ رسولوی پاکستانی اپنی تالیف منتخب بصائر الدرجات، مطبوعہ مکتبہ ساجدیہ شمس آباد کالونی ملتان کے صفحہ 80، 81 پر ظہور امام مہدی کے بعد ان کے پہلے کارنامے کو تفصیل کے ساتھ اس طرح نقل کرتا ہے:  

قال المفصل يا سيدی ما هو ذالك قال يا معشر الخلائق هذه قبر جدی رسول الله فيقولون نعم يا مهدی آل محمد فيقول و من فی القبر يقولون صاحبا و رفيقه وهو اعلم بهما والخلائق كلهم جميعا يسمعون من و كيف دفنا من بين الخلق مع جدی رسول الله و عسى المدفون غيرها فيقول الناس يا مهدی آل محمد ما هنا غيرها انهما دفنا معه لانهما خليفا رسول الله و ابو زوجتيه فيقول للخلق بعد ثلاث اخرجوهما من قبرهما فيخرجان غضين طريين لم يتغير خلقهما و لم يشحب لونهما بالصفہ و لیس ضحیعی جدک غیرھما فيقول هل فيكم احدہ یقول بغیر ھذا اولئک فیھما فيقولون لا فیوخراخراجھما ثلاثۃ ایام ثم ینشر الخیرا فی الناس ویظھر المھدی ویکشف الجدوان عن الصبر و يقول للنقباء و ابحثوا غنماد وینشوهما بايد حتى يصلون اليهما فيخرجان غضيب طريين كضوا وتهما فيكشف عنهما اكفانما و يامر برفعهما على ذوحه يایه نخره فيصلیهما عليها ضحى اشخره وتودق وتولع ويطول نزعهما فيقول المرتابون من اهل ولا بشهما ولله شرف حقا والقد خيرنا من محتھما ولا ينهماو يخبر من افضى مافى نفسه ولو مقيس حبه من صحتهما و لاينهما يحضر و يرد لهما ويرونهما يشنون بهما وينادى و منادى المهدى عليه السلام كل من احب صاحبى رسول الله و صحعيه حلتنرد جانا فيتخر الخلق خرتين احدهما موال والاخر متبره منهما فيقعرض المهدى عليه السلام على اولياء هما البراء منهما فيقولون يا مهدى ال رسول الله ما تنراء منهما و ما كنا نقول لھم اللہ و عندك هذه المنزلة و هذا الذى يدالنا من فضلهما اساعتہ سلما نقدو الینا۔

ترجمہ: مفصل نے کہا کہ آقا وہ کیا چیز ہوگی سیدنا مہدی اپنے دادا رسول اللہﷺ کی قبر پر تشریف لائیں گے لوگوں سے فرمائیں گے یہ قبر میرے نانا رسول اللہﷺ کی ہے لوگ کہیں گے اے مہدی آلِ محمد ایسا ہی ہے پوچھیں گے قبر میں کون دفن ہے کہیں گے آنحضرتﷺ کے ساتھی ہیں آپ اس بات کو جانتے ہوئے فرمائیں گے تمام مخلوق کے ہوتے ہوئے میرے نانا کی قبر میں کیسے دفن ہو گئے دفن ہونے والے یہ نہیں ہوں گے لوگ جواب دیں گے مہدی آلِ محمد یہاں کوئی اور دفن نہیں ہے وہی ہیں کیونکہ دونوں آنحضرتﷺ کے خلیفہ اور آپ کی بیویوں کے باپ تھے یہ بات تین مرتبہ کہنے کے بعد لوگوں سے کہیں گے ان کو قبر سے نکالیں جب قبر سے نکلیں گے تو ان کی لاشیں تر و تازہ ہوں گی رنگ روپ بالکل درست ہوگا فرمائیں گے کوئی ہے جو ان کو جانتا ہو کہیں گے کہ ہم جانتے ہیں آپ کے نانا کی قبر میں ان دونوں کے سوا کوئی دفن نہیں ہے۔ فرمائیں گے کوئی ایسا شخص ہے کہ جو کہے کہ وہ دونوں نہیں ہیں کوئی اور ہے کہیں گے ایسا نہیں قبروں کی طرف دیواریں کھولی جائیں گی مہدی فرمائیں گے کھود دو اور ان کو نکالو اپنے ہاتھوں سے کھودیں گے مسجد تک پہنچ جائیں گے تر و تازہ نکالے جائیں گے اصلی حالت میں ہوں گے کفن اتار دیے جائیں گے بہت بڑے بوسیدہ درخت پر لٹکا دینے کا حکم دیں گے لٹکانے کے بعد درخت بڑا ہو جائے گا اور پھل دے گا شاخیں بلند ہو جائیں گی ان کے ماننے والے کہیں گے خدا کی قسم یہ شرف حق ہے ہم ان کی صحبت و ولایت میں کامیاب ہو گئے دانے کے برابر بھی جس کے دل میں ان کی محبت ہوگی وہ آ کر ان کی زیارت کرے گا مہدی کی طرف سے اعلان ہوگا جو شخص رسول اللہﷺ کے ساتھیوں کو دوست رکھتا ہے وہ ایک طرف ہو جائیں مخلوق دو حصوں میں بٹ جائے گی ایک ماننے والے دوسرے نہ ماننے والے مہدی ان کے دوستوں سے کہیں گے ان سے بیزاری کرو وہ کہیں گے ہم بیزاری نہیں کرتے ہم ان کے حق میں کچھ نہیں کہتے وہ اللہ کے پیارے ہیں آپ کے نزدیک ان کی یہ قدر ہے ہم پر ان کی فضیلت ظاہر ہو چکی ہے۔  

(بحوالہ تاریخی دستاویز: صفحہ554، 556)