باگڑ سرگانہ ضلع ملتان میں ایک معروف مقام ہے جہاں ایک شریف اور معزز قوم سرگانہ آباد ہے جو اہلِ سنت ہے اس مقام کے ارد گرد کچھ ذمہ دار جو سرگانہ برادری کے ہیں وہ اہلِ تشیع سے تعلق رکھتے ہیں آپس کے برادرانہ تعلقات اور میل جول کے باعث دونوں پارٹیوں میں شیعہ سنی مذاکرات ہو جایا کرتے تھے چونکہ شیعہ حضرات کو عموماً مذہبی تعصب زیادہ ہوتا ہے، اس لیے ان کے پیہم اصرار پر دونوں فریق کے درمیان طے پایا کے احقاقِ حق اور ابطالِ باطل کے لیے باگڑ سرگانہ میں برادرانہ محبت سے ایک مجلسِ مناظرہ قائم کی جائے چنانچہ ہر دو پارٹیوں کے نمائندے، سید گلاب شاہ، عالم شیعہ ساکنِ شہر ملتان کے ساتھ مل کر حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ، ناظمِ اعلیٰ مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت پاکستان کے پاس آئے اور شرائطِ مناظرہ تقریباً دو ماہ پہلے طے کیں پھر 13 اکتوبر 1956ء کو ہر فریق اپنے اپنے علماء و مناظرین کو باگڑ سرگانہ لے آیا اور تین دن تک نہایت امن و امان سے مناظرہ ہوتا رہا۔