امام غائب اور امام حجت کے بارے میں دیگر معلومات - ردِ…

امام غائب اور امام حجت کے بارے میں دیگر معلومات

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

بہت سیدھی سی بات ہے کہ دو مردوں کی یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی عدالت میں پیش کر دی جاتی کہ سیدنا حسن عسکریؒ لا ولد فوت نہیں ہوئے بلکہ ان کے صاحب زادے موجود ہیں تو عدالت کے لیے یہ فیصلہ ممکن نہ ہوتا سوال یہ ہے کہ جو لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سیدنا حسن عسکریؒ کے بے نام و نشان صاحب زادے موجود تھے تو انہوں نے عدالت میں یہ شہادت کیوں پیش نہیں کی؟ کیا ان حضرات کو دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں بھی شہادت کے لیے نہیں مل سکیں؟ کیا یہ بات دنیا کے عجائبات میں سے نہیں ہے کہ تحقیقاتی عدالت میں سیدنا حسن عسکریؒ کے بیٹے کا ثبوت پیش کرنے کے لیے دو آدمی بھی میسر نہیں آ سکے لیکن یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ جس شخصیت کو یومِ پیدائش سے غائب ہونے کے وقت تک عام نظروں نے دیکھا تک نہیں اور جس کے وجود کی کوئی شہادت عدالت میں پیش نہیں کی جاسکی، وہی پوری دنیا پر قیامت تک کے لیے اللہ کی حجت ہیں انصاف کیجیے کیا اللہ کی حجت اس طرح قائم ہوا کرتی ہے؟

یاد رہے کہ میں نے شیعوں کے امام غائب کے لیے بے نام و نشان صاحبزادے کا لفظ اس لیے استعمال کیا ہے کہ ان صاحبزادے کا نام لینا اثناءِ عشریہ قانون میں ممنوع اور حرام ہے بلکہ ان کا نام لینے سے آدمی کافر ہو جاتا ہے چنانچہ اصول کافی میں ایک مستقل باب ہے باب النهی عن الاسم یعنی سیدنا حسن عسکریؒ کے صاحبزادے کا نام لینا ممنوع ہے اس باب میں سیدنا حسن عسکریؒ کے والد بزرگوار کا ارشاد نقل کیا ہے کہ ان صاحبزادے کا نام لینا تمہارے لیے حلال نہیں اور سیدنا صادقؒ سے نقل کیا ہے کہ ان صاحبزادہ کا جو شخص بھی نام لے گا، وہ کافر ہو جائے گا۔

ابو عبد اللہ الصالحی کہتے ہیں کہ ابو محمد (سیدنا حسن عسکریؒ) کے گزرنے کے بعد بعض اصحاب نے مجھ سے اس صاحبزادے کا نام اور جگہ پوچھی اور میں نے امام غائب کی بارگاہ میں ان کی یہ درخواست پیش کی تو جواب ملا کہ اگر تم نام بتا دو گے تو لوگ اس کا راز فاش کر دیں گے اور اگر ان کو جگہ کا پتہ چل گیا تب تو لوگوں کو پورا پتہ ہی بتا دیا ان کے الفاظ یہ ہیں:  

علی بن محمد عن ابی عبد الله الصالحی قال سالنی اصحابنا عن ابی محمد ان اسال عن الاسم والمكان فخرج الجواب ان دللتهم على الاسلام وان عرفوا المكان داوا عليه۔  

(اصول کافی: جلد 1 صفحہ333)

آپ دیکھ رہے ہیں کہ ائمہ کی طرف سے ان صاحبزادے کو بے نام و نشان رکھنے کی پوری تاکید کی گئی تھی ان کا نام لینے کو حرام بلکہ کفر فرمایا گیا تھا لیکن عجائبات میں سے ہے کہ شیعہ مصنفین ائمہ کی تعلیم و تلقین کے علی الرغم سیدنا حسن عسکریؒ کی کنیت ابو محمد یعنی محمد کا باپ رکھ کر ان کے صاحبزادے کا نام لیتے ہیں گناہ کی پروا نہیں کرتے نہ ائمہ کے فتوائے کفر سے ڈرتے ہیں۔ چنانچہ اصول کافی میں بھی سیدنا حسن عسکریؒ کو جگہ جگہ ابو محمد لکھا ہے۔

ظہور مہدی کے مسئلہ میں ایک مشکل یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ ظہور مہدی کی ایک تاریخ مقرر کر دیتے لیکن لوگ اس موقع پر کوئی نہ کوئی گڑ بڑ کر دیتے۔ لا محالہ اللہ تعالیٰ کو تاریخ بدلنی پڑتی جب چند بار ایسا ہوا تو اللہ تعالیٰ نے ناراض ہو کر غیر معین عرصہ کے لیے ظہورِ مہدی کی نعمت لوگوں سے چھین لی چنانچہ شیعہ روایات کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ان کے ظہور کا وقت 70ھ مقرر کیا تھا 61ھ میں سیدنا حسینؓ جب شہید ہوئے تو اللہ تعالیٰ ناراض ہو گئے دوبارہ ان کے ظہور کا وقت 170ھ مقرر کیا اب اماموں سے یہ غلطی ہوئی کہ انہوں نے یہ بات اپنے مخلص شیعوں کو بتا دی اور شیعوں نے خوش ہو کر اس راز کو فاش کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے ناراض ہو کر اس کو غیر معین عرصہ کے لیے ملتوی کر دیا اصول کافی کی روایت یہ ہے:

ظہور امام کے بارے میں خدا کو بھول ہو گئی:

على بن محمد و محمد بن الحسن عن سهل بن زياد و محمد بن يحيىٰ عن احمد یقول يا ثابت ان الله تبارك وتعالىٰ قد كان وقت هذا الامر فی السبعين، فلما ان قتل الحسين صلوات الله عليه اشتد غضب الله تعالىٰ على اهل الارض فاخره الى اربعين فحدثناكم فاذعتم الحديث فكشفتم قناع الستر ولم يجعل الله له بعد ذلك و قال يمحو الله ما يشاء ويثبت وعنده ام الكتاب۔

(اصول کافی: جلد1 صفحہ 368)

ترجمہ: ابو حمزہ ثمالی کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا باقرؒ سے سنا وہ فرماتے تھے کہ اے ثابت! اللہ تعالیٰ نے ظہورِ مہدی کا وقت 70ھ مقرر کیا تھا جب سیدنا حسینؓ شہید ہوئے تو اللہ تعالیٰ کا غصہ اہلِ زمین پر سخت ہوا پس اس نے اس امر کو 140ھ تک مؤخر کر دیا ہم نے تم کو بتا دیا اور تم نے بات پھیلا دی، پردہ فاش کر دیا اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے کوئی وقت مقرر نہیں کیا اللہ تعالیٰ جس چیز کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جس چیز کو چاہتا ہے ثابت رکھتا ہے اسی کے پاس ام الکتاب ہے۔