صحابہ کون ہیں؟ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

صحابہ کون ہیں؟

  محمد معاویہ سعدی

لفظ صحابہ صحابی کی جمع ہے، جو صحبۃ اور مصاحبت سے مشتق ہے لغت میں ہر وہ شخص جو سفر یا حضر میں کسی کے ساتھ ایک لمحہ بھی رہ لے، تھوڑا بھی وقت گزار لے، وہ اُس کا صاحب اور مصاحب ہو جاتا ہے مشہور لغوی ابو العباس الفيومی الحموی (توفی: 770 ھ) فرماتے ہیں:  

صَحِبْتُهُ أَصْحَبُهُ صُحْبَةً فَأَنَا صَاحِبٌ، والجمع صُحْبٌ وأصحاب وصحابة والأصل فی هذا الإطلاق لمن حصل له رؤية و مجالسة، و وراء ذلك شروط للأصوليين۔(المصباح المنير للفيومی)  

ترجمہ: اس کے اصل معنیٰ تو ہیں مطلق رویت اور مجالست کے مگر اصوليين نے اس پر مزید کچھ شرطوں کا اضافہ کیا ہے۔

اصولِ فقہ کے مشہور امام اور اپنے زمانہ کے رئیس الاشاعرہ قاضی ابو بکر باقلانیؒ (توفی: 403 ھ) سے، حافظ خطیب بغدادیؒ الکفایۃ: صفحہ 51 میں نقل کرتے ہیں:  

لا خلاف بين أهل اللغة فی أن القول صحابی مشتق من الصحبة، وأنه ليس بمشتق من قدر منها مخصوص، بل هو جارٍ على كل من صحب غيره قليلاً أو كثيراً يقال: صحبت فلاناً حولاً ودهراً وشهراً ويوماً وساعةً، فيوقع اسم المصاحبة بقليل ما يقع منها وكثيره، وذلك يوجب فی حكم اللغة إجراء هذا على من صحب النبیﷺ ولو ساعةً من نهار، هذا هو الأصل فی اشتقاق الاسم الخ۔  

ترجمہ: اہلِ لغت کے درمیان اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ لفظ صحابی صحبۃ سے مشتق ہے، اس کی کسی خاص مقدار سے مقید نہیں، لہٰذا اس کا اطلاق ہر اُس شخص پر کیا جا سکتا ہے جو دوسرے کے ساتھ رہا ہو کم یا زیادہ کوئی شخص دوسرے کے ساتھ پوری زندگی رہے، یا ایک زمانہ، یا ایک سال، یا ایک ماہ، یا ایک دن، یا ایک ساعت، وہ صحبتُ  فلاناً کہہ سکتا ہے لفظ مصاحبت مطلق ساتھ کے لیے بولا جا سکتا ہے، اور اسی لغوی اشتقاق کی بناء پر ہر اُس شخص کو صحابی کہا جائے گا جو آپﷺ کے ساتھ رہا ہو خواہ دن کے کچھ حصے ہی میں اس لفظ کا لغوی مفہوم یہی ہے الخ۔

امام نوویؒ شرح مسلم کے مقدمہ: صفحہ 19 میں فرماتے ہیں:  

ويستدل به على ترجيح مذهب المحدثين، فإن هذا الإمام قد نقل عن أهل اللغة أن الاسم يتناول صحبة ساعة، وأكثر أهل الحديث قد نقلوا الاستعمال فی الشرع والعرف على وفق اللغة فوجب المصير۔ 

ترجمہ: قاضی ابو بکر باقلانیؒ کے اس کلام سے محدثین کے مذہب کی ترجیح پر استدلال کیا جا سکتا ہے، اس لیے کہ وہ اہلِ لغت سے یہی نقل کر رہے ہیں کہ مطلق صحبت کا اطلاق ایک ساعت کے ساتھ پر بھی ہوتا ہے، اور اکثر محدثین نے اپنی اصطلاح لغت کی روشنی ہی میں مقرر کی ہے، لہٰذا اس کو قبول کرنا ضروری ہے۔

اسی لغوی معنیٰ کی رعایت کے ساتھ امام احمدؒ، امام ابن المدینیؒ وغیرہ ائمہ محدثین نے صحابی کی یہ تعریف کی ہے:  

مَن صحب النبیﷺ سنة، أو شهراً، أو يوماً، أو ساعةً، أو رآه، فهو من أصحابه۔

(الكفاية: صفحہ 51،و فتح المغيث: جلد 4 صفحہ 78)  

ترجمہ: جو ایک سال، یا ایک ماہ، یا ایک دن، یا ایک لمحہ بھی آپﷺ کے ساتھ رہا ہو، یا صرف آپ کو دیکھ ہی لیا ہو، وہ بھی صحابی ہے۔

حافظ ابن الصلاحؒ نے مقدمہ صفحہ 293 میں، حافظ ابنِ کثیرؒ نے اختصار علوم الحديث صفحہ 79 میں، حافظ زين الدين العراقیؒ نے التقييد و الإيضاح صفحہ 291 میں، اسی کے قریب قریب تعریف ذکر کی ہے۔

اور امام بخاریؒ نے اپنی صحیح: جلد 1 صفحہ 515 میں باب فضائل أصحاب النبیﷺ کا باب قائم فرما کر اس طرح تعریف فرمائی ہے: 

من صحب النبیﷺ أو رآه من المسلمين، فهو من أصحابه۔

ترجمہ: اسلام کی حالت میں جو بھی آپﷺ کے ساتھ رہ لیا، یا آپ کو دیکھ لیا، وہ آپﷺ‎ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے ہے۔

حافظ ابنِ حجرؒ نے الإصابة فی تمييز الصحابة کے مقدمہ میں، حافظ سخاوی نے فتح المغيث جلد 4 صفحہ 78 میں، حافظ سيوطیؒ نے تدريب الراوی جلد 2 صفحہ 667 میں، مذکورہ بالا تعریف کو جمہور فقہاء، محدثین اور اصولین کی طرف منسوب کرتے ہوئے، اس وضاحت کے ساتھ درست قرار دیا ہے کہ بشرط یہ کہ اسلام ہی پر اس کی موت بھی ہوئی ہو۔