تیرہواں مہدی ابو طاہر قرمطی - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

تیرہواں مہدی ابو طاہر قرمطی

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

جب مہدویت کے دعویدار ابو سعید جنابی اپنے غلام کے ہاتھوں قتل ہوا تو اس کا چھوٹا بیٹا ابو طاہر سلیمان قرمطی بڑے بھائی کو مغلوب و مقہور کر کے باپ کا جانشین ہوا اور ہجر، احساء، قطیف، طائف، بحرین کی حکومت اپنے ہاتھ میں لی وہ خدا کا اوتار ہونے اور اپنے جسم میں رب العالمین کی روح کے حلول کر جانے کا مدعی تھا۔

امام مہدی کی طرف سے مسلمانوں کا قتل عام:

ابو طاہر نے ایک ہزار سات سو لشکروں کے ہمراہ رات کو سیڑھیاں لگا کر بصرہ پر حملہ کر دیا اور سترہ روز تک مسلمانوں کا قتل عام، بچوں کو نیزوں پر اچھالنے اور عورتوں کی عزتوں کو لوٹنے، انہیں قیدی بنانے، مال و دولت پر ہاتھ صاف کرنے کا وہ بدترین انداز ہے کہ اس کے سامنے دنیا بھر کے سفاکوں کا کردار شرمانے لگ جاتا ہے۔

امام مہدی کے حملے سے حج موقوف ہو گیا:

بصرہ کے بعد 312 ہجری میں ابو طاہر نے حجاج کے قافلے لوٹنے، عورتوں بچوں کو قید کرایا اور راہِ خدا کے مسافروں پر بے دریغ تلوار چلانے حتیٰ کہ دور دراز مقامات تک حجاج کے قافلوں کا پیچھا کر کے انہیں تباہ و برباد کر دیا انہی ایام میں شاہی فوجوں کو خاک و خون میں تڑپا کر کوفہ پر قابض ہو کر پورے حجاز کے علاقہ میں وہ دہشت کی فضا طاری کی کہ اگلے سال کسی نے بھی اس کے خوف سے حج کا قصد نہ کیا۔

312 ہجری سے 316 ہجری تک مسلسل شاہی لشکروں کو ابو طاہر شکست دیتا رہا اور اسلامی شہروں پر قابض ہو کر ظلم و جبر کا بازار گرم کرتا رہا اور لوٹ مار کا مال اپنے دار الحکومت ہجر لاتا رہا 316 ہجری میں پہلی مرتبہ ابو طاہر کو افواجِ اسلامی کے مقابلہ میں شکست ہوئی۔

خانہ کعبہ میں شراب نوشی:

ابو طاہر نے ہجر کو دار الحکومت بنا کر ایک نہایت عالی شان مسجد تعمیر کرائی اس مسجد کو"دار الہجرت کے نام سے موسوم کر کے اس کو بیت اللہ کی بجائے انسانوں کے طواف کا مرکز بنانے کی ناپاک سازش میں مصروف ہوا اس مقصد کے لیے بیت اللہ سے حجر اسود کو نکال کر یہاں نصب کرنے کی نیت سے وہ 319 ہجری کو 8 ذوالحجہ کو مکہ مکرمہ میں داخل ہوا، اور برہنہ شمشیر بیت اللہ میں داخل ہو کر شراب پی، گھوڑوں کو سیٹی بجا کر مسجدِ حرام میں پیشاب کرایا زائرین، مطوفین اور نمازیوں کو حالتِ احرام میں قتل کرا کر چاہِ زمزم کو لاشوں سے بھر دیا مؤرخین کے مطابق ایک ہزار سات سو طواف کرنے والوں کے خون سے حرمِ محترم جل تھل ہو گیا۔

مہدی کا خدائی کا دعویٰ:

اس موقع پر اس نے منکرانہ لہجے میں حجاج کو مخاطب کرتے ہوئے کعبہ کی طرف منہ کر کے کہا:  

انا بااللّٰہ و باللّٰہ انا نحلق الخلق و نفنیھم انا

ترجمہ: میں اللہ ہوں اور اللہ میں ہوں مخلوق کو میں پیدا کرتا ہوں اور فنا کرتا ہوں۔

شرفاءِ مکہ اسے سمجھانے آئے تو ان کے خون سے تلواروں کو رنگین کر دیا محمد بن ربیع بن سلیمان کا بیان ہے کہ ابو طاہر نے ایک شخص کو میزاب جو کہ سونے کا تھا اتارنے کے لیے کعبہ کی چھت پر چڑھنے کا حکم دیا جب وہ چڑھ رہا تھا تو میری زبان سے یہ جملہ نکلا: 

یا رب ما احلمک۔

ترجمہ: اللہ! تیری بردباری کی کوئی حد نہیں ہے۔

میرا یہ کہنا تھا کہ وہ قرمطی سرنگوں گر کر ہلاک ہو گیا ابو طاہر نے دوسرے آدمی کو چڑھنے کا حکم دیا وہ بھی گر کر مر گیا تیسرا آدمی اتنا دہشت زدہ ہوا کہ اوپر چڑھنے کی جرأت نہ کر سکا ابو طاہر نے غلافِ کعبہ کو اتروا کر چاک کر دیا خزانہ بیت اللہ کو لوٹ لیا اس سال قلیل حجاج نے بغیر امام کے حج پڑھا۔

حجر اسود کعبہ سے نکال لیا گیا:

ابو طاہر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نقش پا والے پتھر کو بھی لے جانا چاہتا تھا مگر خادمِ کعبہ نے اسے چھپا دیا لیکن 13 ذوالحجہ بروز سوموار حجر اسود کو اس کی جگہ سے نکال لیا گیا اور ہجر کی مسجد دار الہجرہ میں نصب کر دیا مکہ مکرمہ سے واپسی پر عبید اللہ مہدی کو ابو طاہر نے خط لکھ کر اسے اپنے کارناموں سے مطلع کیا اور اپنی حکومت میں اس کا خطبہ جاری کرانے کی خبر دی اس طرح ایک خود ساختہ مہدی کے بیٹے نے دوسرے خود ساختہ مہدی کو مسلمانوں کی جان، مال، عزت و آبرو پامال کرنے کے کارناموں سے آگاہ کیا مگر عبید اللہ مہدی نے اس کی اس نا شائستہ حرکت کی بھرپور مذمت کی جس کی وجہ سے ابو طاہر اس کی اطاعت سے منحرف ہو گیا چونکہ اس حادثہ عظیمہ کی خبر دنیا بھر میں پھیل گئی تھی اور حجاج دہشت زدہ اور خوف زدہ ہو چکے تھے اس لیے قریباً 10 سال تک امنِ طریق کی شرط ناپید ہونے کی وجہ سے حج موقوف رہا بالآخر 327 ہجری میں اس شرط پر حجاج کو امن نصیب ہوا کہ فی سواری وہ 5 دینار محصول ادا کریں گے۔

جھوٹے مہدی کا عبرتناک انجام:

بائیس سال بعد خلیفہ مطیع اللہ نے 3 ہزار دینار دے کر حجر اسود واپس منگوایا مؤرخین نے لکھا ہے کہ مکہ سے حجر اسود کو لے جانے والے 40 اونٹ باری باری مرتے چلے گئے آخر چیچک کے مرض میں مبتلا ہو کر اس کا جسم ریزہ ریزہ ہو گیا اور یہ جہنم کی طرف ذلت و رسوائی سے دفع ہوا۔  

(ملخص ائمہ تلبیس: صفحہ332، بحوالہ تاریخِ الکامل و ابنِ خلدون)

جھوٹے امام مہدی کے اس شرمناک کارنامے پر تاریخِ اسلام جتنا بھی ماتم کرے کم ہے۔