شیعیت:امام مہدی حسینی سید ہوں گے:
امام مہدی کی والدہ، ملیکہ المعروف نرجس کی حیرت انگیز کہانی اور آپ کے والد کے ساتھ اس کے عشق و محبت کی داستان شیعہ کی مشہور کتاب حق الیقین کی، زبانی ملیکہ شاہ روم کی پوتی تھی امام مہدی کی والدہ کی داستان کو ملا باقر مجلسی نے حق الیقین میں شیعہ کے نامور مجتہد اور محقق ابن بابویہ اور شیخ طوسی کے حوالے سے نقل کیا ہے ہم مولانا منظور احمد نعمانی کی ایرانی انقلاب سے اس پوری کہانی کی تلخیص نقل کر رہے ہیں۔ اس کی تفصیل جاننے کے لیے تفصیل کے لیے مذکورہ کتاب ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔
روایت کا خلاصہ یہ ہے کہ گیارہویں سیدنا حسن عسکریؒ کے شہر سر من رائے میں ان کے پڑوس ہی میں ایک شخص بشر بن سلیمان رہتا تھا وہ ان کے اور ان کے والد ماجد سیدنا علی نقیؒ کے بھی شیعانِ خاص یعنی مخلص اور معتمتد مریدوں میں سے تھا وہ بردہ فروشی یعنی غلاموں باندیوں کی خرید و فروخت) کا کاروبار کرتا تھا اس نے بیان کیا کہ سیدنا علی نقیؒ نے ایک دفعہ فرنگی (انگریزی) زبان اور اسی رسم الخط میں ایک خط لکھ کر مجھے دیا اور اس کے ساتھ دو سو بیس اشرفی بھی دیں اور فرمایا کہ یہ لے کر بغداد چلے جاؤ (جو اس وقت دار الحکومت تھا) وہاں دریا کے ساحل پر تم کو ایک کشتی نظر آئے گی جس میں فروختنی کنیزیں ہوں گی تم دیکھو گے کہ ان میں ایک کنیز ہے جو پردہ میں ہے اور اس کو اس سے انکار ہے کہ کوئی اس کو دیکھے ایک عرب جوان اس کو خریدنا چاہے گا اور تین سو اشرفی قیمت لگائے گا لیکن وہ کنیز اس کے ساتھ جانے پر کسی طرح راضی نہ ہوگی اس وقت کنیز کے مالک سے کہنا کہ تم میرا یہ خط اس کنیز تک پہنچا دو (بشر کا بیان ہے کہ) میں سیدنا علی نقیؒ کے حکم کی تعمیل میں بغداد روانہ ہو گیا اور وہ سارے واقعات پیش آئے جو جناب امام نے پہلے ہی بیان فرما دیے تھے آخر الامر امام موعود کا وہ خط اس کنیز تک پہنچایا جس سے اس نے خدا کی قسم کھا کر اس پر بوسہ دیا اور اس سے کہا کہ مجھے تم اس خط والے کے ہاتھ فروخت کر دو ورنہ میں خود کشی کر لوں گی مالک دو سو اشرفی لے کر اسے میرے حوالہ کر دینے پر راضی ہو گیا اور میں اس کو اپنے ساتھ لے آیا اس کنیز نے مجھے بتایا کہ میں بادشاہ روم کی پوتی ہوں اور میرا نام ملیکہ ہے اور میری والدہ حضرت مسیح علیہ السلام کے وصی شمعون کی اولاد میں سے ہیں میرا قصہ یہ ہے کہ جب میں تیرہ سال کی تھی۔ میرے دادا نے اپنے ایک بھتیجے کے ساتھ میری شادی طے کر دی اور مقررہ دن پر شادی کی تقریب میں ایک عظیم الشان جشن منعقد ہوا، تخت پر صلیب رکھی گئی، دولہا کو اس تخت پر بٹھایا گیا پادری صاحبان ہاتھوں میں انجیل لیے کھڑے ہوئے اور انہوں نے اپنے طریقہ کے مطابق میرے عقد کی کارروائی شروع کر دی کہ اچانک ایسا ہوا کہ صلیب سرنگوں ہو کر گر پڑی اور تخت ٹوٹ گیا اور میرا چچا زاد بھائی جس کے ساتھ میرا نکاح ہو رہا تھا وہ تخت کے اوپر سے نیچے آگرا اور بے ہوش ہو گیا اس نا مبارک حادثے کے بعد میرے دادا نے اپنے ایک دوسرے بھتیجے کے ساتھ میرا رشتہ کرنے کا ارادہ کیا اور مقررہ دن پر اسی طرح جشن منعقد ہوا لیکن عین نکاح کے وقت پھر اسی طرح کا واقعہ ہوا جیسا کہ پہلے ہوا تھا میرے دادا کو بہت رنج ہوا اسی رات کو میں نے خواب دیکھا کہ حضرت مسیح اور ان کے وصی شمعون اور ان کے علاوہ حواریین کی ایک جماعت یہ سب حضرات میرے دادا کے شاہی محل میں آئے اور نور کا ایک منبر لگایا اس کے بعد حضرت محمدﷺ اپنے وصی علی اور دوسرے اماموں کے ساتھ تشریف لائے اور نور کے اس منبر پر رونق افروز ہوئے اور آپﷺ نے حضرت مسیح سے فرمایا کہ میں اس لیے آیا ہوں کہ ملیکہ کو جو تمہارے وصی شمعون کی بیٹی (یعنی ان کی اولاد میں سے) ہے اپنے اس فرزند کے لیے تم سے مانگوں اور آپﷺ نے یہ فرماتے ہوئے سیدنا حسن عسکریؒ کی طرف اشارہ فرمایا اس وقت آپﷺ کے ساتھ تھے اور سامنے موجود تھے ملیکہ نے بشر بن سلیمان کو سارا قصہ سنا کر ان سے کہا کہ میں سیدنا حسن عسکریؒ میں جن کے والد کا خط تم نے مجھے دیا ہے آگے ملیکہ نے اپنے خواب کا باقی حصہ سناتے ہوئے بشر بن سلیمان سے کہا کہ حضرت مسیح اور ان کے وصی شمعون نے خوشی سے اس کو قبول کیا اس کے بعد حضرت محمدﷺ نے خطبہ نکاح پڑھا اور حضرت مسیح نے مجھے سیدنا حسن عسکریؒ کے نکاح میں دے دیا ملیکہ نے اپنے خواب کا یہ قصہ سنانے کے بعد بشر بن سلیمان سے کہا کہ میں نے اپنے اس خواب کا کسی سے ذکر نہیں کیا لیکن اسی وقت سے اس خورشید فلک امامت سیدنا حسن عسکریؒ کے عشق کی آگ میرے سینے اور دل میں بھڑکنے لگی اور چین و سکون رخصت اور کھانا پینا بھی ختم ہو گیا اور اس آتش عشق کے آثار باہر بھی ظاہر ہونے لگے اس کے بعد میں نے ایک دن خواب دیکھا کہ حضرت مریم تشریف لائیں اور ان کے ساتھ حضرت فاطمہؓ بھی تھیں اور ہزار ہا حوران بہشتی حضرت مریم علیہا السلام نے مجھے فرمایا کہ یہ خاتون سیدہ النساء فاطمہؓ ہیں تمہارے شوہر کی یہ ماں ہیں میں نے یہ سنتے ہی ان کا دامن پکڑ لیا اور میں بہت روئی اور میں نے عرض کیا کہ آپ کے فرزند حسن عسکری مجھے دیکھنے کے اور اپنی صورت دکھانے بھی نہیں آتے انہوں نے فرمایا وہ کیسے آ سکتے ہیں تم عیسائی ہو اور تمہارا عقیدہ مشرکانہ ہے سیدہ فاطمہؓ کی یہ بات سن کر میں نے اسی وقت خواب میں کلمہ شہادت پڑھا اور اسلام قبول کر لیا جب خواب سے بیدار ہوئی تو میری زبان پر کلمہ شہادت جاری تھا (اس کے بعد ملیکہ نے بیان کیا کہ) اس کے بعد سے کوئی رات ایسی نہیں گزری کہ میرے وہ شوہر سیدنا حسن عسکری خواب میں میرے پاس نہ آئے ہوں اور مجھے شربت و صال سے شاد کام مسرور نہ فرمایا اب امی کے فرمانے کے مطابق میں نے ایسا کیا کہ ہمارے ملک کا ایک لشکر جو مسلمانوں سے جنگ کے لیے جا رہا تھا میں کسی طرح اس لشکر کے ساتھ لگ گئی جب مسلمانوں کے لشکر نے رومی لشکر کو شکست دے دی دوسری بہت سی خواتین کے ساتھ میں بھی گرفتار کر لی گئی اور اس طرح میں تمہارے پاس پہنچ گئی اور اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئی۔
(ملخصا از جلاء العیون، و حق الیقین از علامہ باقر مجلسی)
اس طویل عبارت کے بعد مولانا منظور احمد نعمانی کا تبصرہ ملاحظہ ہو علامہ مجلسی نے ان دونوں کتابوں میں جس طرح یہ قصہ ذکر کیا ہے وہی یہاں اختصار اور تلخیص کے ساتھ نذر ناظرین کر دیا گیا ہے اس سے ہم کو بحث نہیں کہ کیا اس میں کچھ بھی واقعیت ہے یا یہ از اول تا آخر صرف تراشیدہ افسانہ ہے۔
بہر حال علامہ مجلسی کی اس روایت کے مطابق شاہم روم کی پوتی ملیکہ (نرگس) اس طرح ایک زرخیز کنیز کی حیثیت سے شیعہ حضرات کے گیارہویں امام معصوم حسن عسکریؒ کے حرم میں داخل ہوئیں شیعی روایت کے مطابق 255ھ تا 256ھ میں ان کے بطن سے یہ بارہویں امام پیدا ہوئے (اور ان کی ولادت کو بھی مخفی اور ان نو مولود فرزند کو نظروں سے چھپا کے رکھا گیا) اور پھر یہ کہا گیا کہ سیدنا حسن عسکریؒ کی وفات سے 4 دن پہلے 5 سال کی عمر میں یہ صاحبزادے معجزانہ طور پر غائب ہو گئے شیعہ حضرات کی خاص مذہبی زبان میں ان کو الحجہ القائم المنتظر اور صاحب الزمان کہا جاتا ہے اور جیسا کہ عرض کیا گیا ان کے بارہ میں عقیدہ یہ ہے کہ جب وہ ظاہر ہوں گے تو دنیا بھر میں انہی کی حکومت ہو گی اور وہ ہوگا جو دنیا میں کبھی نہیں ہوا راسخ العقیدہ شیعہ حضرات جو ان باتوں پر یقین رکھتے ہیں ان کے ظہور کا انتظار کرتے رہے ہیں اور بولے اور لکھنے میں ان کے ذکر کے ساتھ عجل اللہ فرجہ لازمی طور پر کہتے اور لکھتے ہیں (جس کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ جلدی ان کو باہر لے آئے) لیکن جیسا کہ خمینی صاحب کی کتاب الحکومہ الاسلامیہ سے بھی نقل کیا جا چکا ہے صورت حال یہ ہے کہ ان کی غیبت پر ایک ہزار سال سے زیادہ اب ساڑھے گیارہ سو سال کی مدت گزر چکی ہے اور ممکن ہے کہ ابھی اسی طرح ہزاروں سال اور گزر جائیں۔
(الحکومہ الاسلامیہ: صفحہ 26)