دلیل نمبر 6 متعہ کا جائز استعمال بھی برائیوں کا سرچشمہ ہے -…

دلیل نمبر 6 متعہ کا جائز استعمال بھی برائیوں کا سرچشمہ ہے

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

ہر اخلاقی اصول کے صحیح یا غیر صحیح ہونے کا معیار اس کے جائز استعمال کے نتائجِ حسنہ نہیں بلکہ اس کے ناجائز استعمال کے نتائجِ قبیحہ ہوا کرتے ہیں مثلاً اگر کسی اصول کے جائز استعمال سے اس قدر اچھے نتائج مرتب نہ ہوتے ہوں جس قدر کہ اس کی بد استعمالی سے خرابیاں پیدا ہونے کا اندیشہ ہے تو وہ اصول ناقص ہے اور مخربِ اخلاق ہے یہی وجہ ہے کہ ہر مصلح قومی نے اس قسم کے اصول قائم کرنے سے گریز کیا ہے جن کا ناجائز استعمال ان کے جائز استعمال کی نسبت زیادہ خطرناک ہے۔ 

نماز اگر انسان محض ریا کاری ہی کی وجہ سے پڑھے یا روزہ محض نمائشِ تقویٰ ہی کی غرض سے رکھے پھر بھی مقدم الذکر صورت میں طہارت و پابندیِ وقت کے فوائدِ عظیمہ سے تو مستفیض ہو گا اور مؤخر الذکر حالات میں اگر عند اللہ ثواب حاصل نہ ہو گا تو صحتِ جسمانی کے فوائد سے تو ضرور بہرہ اندوز ہوگا چنانچہ اسی اصول کو مدِ نظر رکھتے ہوئے شرعِ اسلام میں شراب خوری اور قمار بازی حرام قرار دی گئی ہیں کیونکہ انہیں حدِ اعتدال سے استعمال کرنے میں اس قدر فوائد نہیں ہیں جس قدر انہیں بے اعتدالی سے استعمال کرنے میں نقصانات ہیں اللہ پاک نے ان خبائث کے متعلق اسی خیال کا اظہار فرمایا ہے جہاں آپ قرآنِ کریم میں فرماتے ہیں: وَاِثۡمُهُمَآ اَکۡبَرُ مِنۡ نَّفۡعِهِمَا الخ۔ 

(سورۃ البقرہ: آیت 219) 

وعلیٰ ھذا القیاس ہر ایک مذہبی اور معاشرتی حکم کو اس معیار پر رکھتے جائیں نتیجہ وہی مرتب ہو گا جو ہم نے عرض کیا ہے لیکن اس کے برعکس متعہ جس کا جائز استعمال بمنزلہ زنا کے ہے اس کی بد اعمالی کے نتائج تصور کرنے سے انسانی قوتِ متخیلہ عاجز ہے۔