آیتِ کریمہ میں بمجردِ استمتاع اجرت دینے کا حکم ہے۔ اگر استمتاع نہ ہو تو اجرت نہیں۔ نکاحِ دائم میں خواہ استمتاع واقع ہو یا نہ ہو، نکاح کے بعد نصف مہر دینا لازمی ہے۔ نیز شریعت میں نکاح و استمتاع میں فرق ہے۔ یعنی استمتاع تلذ کا نام ہے اور مجرد نکاح تلذذ نہیں۔ پس ثابت ہوا کہ یہ آیت متعہ کے بارے میں ہے۔
جواب: استمتاع کے بعد اجر دینے کا حکم ہے، اور کل اجر کا، جیسا کہ لفظ فریضہ سے عیاں ہے۔ مگر اس کے برعکس نفسِ عقد سے کل مہر کا ادا کرنا لازم نہیں۔ اور جب شریعت نے نکاح و استمتاع میں فرق کیا، اور استمتاع تلذذ کا نام ہے، اور بعدِ استمتاع ادائے مہرِ کامل کا حکم دیا ہے، تو ہم نہیں سمجھ سکتے کہ پھر اس آیت سے متعہ کس طرح ثابت ہو گیا۔ بلکہ جب نفسِ عقد استمتاع نہیں، اور بلا استمتاع مہرِ کامل واجب نہیں، تو یہی آیت بطلان متعہ کے لیے کافی ہے۔ کیونکہ برخلافِ آیتِ کریمہ، متعہ میں نفسِ عقد سے ادائے مہرِ کامل واجب ہو جاتا ہے۔
چنانچہ باقر مجلسی رسالہ فقہ کے باب المتعہ میں لکھتا ہے: بمجردِ عقد تسلیم واجب میشود۔ الخریطی میں بمجردِ عقدِ متعہ تفویضِ اجر لازم ہے۔ اور شیعوں کی یہ توجیہ اسلامی قانونِ اجارہ کے بالکل منافی ہے۔ اجارۂ متعہ کیا عجیب اجارہ ہے جس میں بلا کام کے صرف نفسِ معاملہ پختہ ہو جانے سے پوری اجرت دے دینا لازم ہو جاتی ہے۔