ناظرین! آپ کو معلوم ہوگا کہ جب کوئی شیعہ عالم متانت اور شائستگی سے گفتگو کرنے پر آمادہ ہو تو وہ اپنے مذہب کو قابلِ قبول ثابت نہیں کر سکتا اسی لیے ان کے امام فرما گئے ہیں کہ:
جو شخص اس دین کو چھپائے گا، اللہ تعالیٰ اسے عزت دے گا اور جو اسے ظاہر کرے گا، خدا اسے ذلیل کرے گا۔
(اصولِ کافی: صفحہ 485)
یہ اصول صرف اس لیے وضع کیا گیا ہے کہ اس مذہب کے عقائد عجیب و غریب ہیں، اور معقول انسان انہیں تسلیم کرنے کے لیے کبھی آمادہ نہیں ہو سکتا۔
1: شیعہ مذہب کی مخفی کُل کو چلانے والا چلتا پرزہ مسئلہ تقیہ ہے ان کے عقائد کے مطابق یہ دین کا ایک حصہ ہے، اور باقی دین ہے جو تقیہ نہ کرے اس کے لیے فتویٰ ہے وہ بے دین ہے، بے ایمان ہے۔
لا دین لمن لا تقیۃ لہ، لا ایمان لمن لا تقیۃ لہ۔ (اصولِ کافی)
مسئلہ تقیہ کیا چیز ہے؟ کافی میں مثالیں دے کر اسے حل کیا گیا ہے جامع مانع تعریف یوں ہو سکتی ہے:
جہاں ذرا سا بھی جان و مال کا خطرہ ہو، وہاں تقیہ لازم ہو جاتا ہے تقیہ کر کے غلط مسئلے پر صاد کر دینا، جیسا کہ شیعہ مذہب کے سیدنا جعفر صادقؒ نے امام اعظمؒ سے کیا۔
(کتاب الروضہ: صفحہ137)
دشمنوں کے ساتھ تقیہ کا حکم دے دینا۔
(کتاب الروضہ: صفحہ27)
اپنے مذہبی جائز فعل کو حرام قرار دے دینا جیسا کہ سیدنا جعفر صادقؒ اور سیدنا علی رضا نے اپنی عورت سے خلافِ وضعِ فطری فعل کرنے کو حرام قرار دیا۔
(کتاب الاستبصار: صفحہ130)
حرام گوشت کو حلال قرار دے دینا۔
(فروعِ کافی: کتاب الصید: صفحہ80)
سیدنا علی المرتضیٰؓ کو بھی بوقتِ خطرہ تبرّا کر لینا۔
(اصولِ کافی: صفحہ 484)
غیر حق دار کی بیعت کر لینا۔
(جلاء العیون: صفحہ175،
وصولت حیدریہ: صفحہ 86)
دین میں بدعتیں اور رخنے پڑنے پر بھی ٹس سے مس نہ ہونا۔
(اصولِ کافی:کتاب الحجہ)
شوہروں سے عورتیں چھینی جائیں، معافیاں ضبط ہو جائیں، مگر کچھ مدافعت نہ کرنا۔
(کتاب الروضہ: صفحہ29)
حق چھن جائے، ہتکِ حرمت ہو جائے، یعنی بیٹی سے کوئی بجز نکاح کر لے تو صبر کر کے بیٹھ رہنا۔
(اصولِ کافی: صفحہ281)
2: شیعہ مذہب کا دوسرا دلچسپ مسئلہ: متعہ ہے
جس کے متعلق اس کتاب میں مفصل بحث ہو چکی ہے۔
3: تیسرا دلچسپ اور مخفی مسئلہ شیعوں کا طینت ہے وافی سے ترجمہ شیعی مقبول بابت پارہ نہم کے صفحہ، 176 میں اس مسئلے کی توضیح کی گئی ہے مفہوم اس کا یہ ہے:
سیدنا باقرؒ سے سوال کیا گیا کہ شیعوں میں عام طور پر جو فسق و فجور کا ارتکاب اور ارکانِ اسلام سے نفرت پائی جاتی ہے، اس کا کیا سبب ہے؟ امام صاحب نے فرمایا: کہ یہ اس مٹی کا اثر ہے جو ابتدائے آفرینش میں شیعوں کی مٹی کے ساتھ مل گئی اس لیے جو شیعہ بدی کرتا ہے وہ سنیوں کی گندی مٹی کی وجہ سے ہے، اور جو سنی نیکیاں کرتا ہے وہ شیعوں کی پاک مٹی کا اثر ہے اللہ عادل ہے وہ قیامت کے دن شیعوں کی بدیاں سنیوں کو دے گا، اور سنیوں کی نیکیاں شیعوں کو دے کر انہیں جنت میں اور انہیں دوزخ میں ڈال دے گا۔
یہی مضمون شیعوں کی کتاب تحفۃ العارفین مؤلفہ سید امداد حسین صاحب میں ہے ملاحظہ ہو: صفحہ، 27، 67، 29 اور نیز حیات القلوب وغیرہ میں مسئلہ طینت کے وضع کرنے سے بھی یہ مقصد ہے کہ لوگ متعہ سے خوب عیش کریں اور عواقب سے بے خوف ہو جائیں کیونکہ ان کی تو کوئی باز پرس ہونی ہی نہیں داڑھی والا، پکڑا جائے گا موچھوں والا۔
4: چوتھا پر لطف مسئلہ شیعوں کا رجعت ہے اس مسئلے کو گھڑنے کی بانیانِ مذہب کو اس لیے ضرورت پیش آئی کہ شیعوں کو دنیا میں کبھی وجاہت اور اکثریت حاصل نہیں ہوئی ان کے امام بھی بقولِ ان کے ہمیشہ تقیہ میں رہے، اور دوسروں کے ظلم کا تختہ مشق بن کر یا مقتول ہوئے یا مسموم حالانکہ وعدہ خداوندی ہے کہ وہ ایمانداروں کو خلافت و حرمت و شوکت عطا کرے گا شیعوں کے مذہب پر جما رہنے کے لیے انہوں نے بطورِ طفل تسلی مسئلہ رجعت وضع کیا کہ پہلی دفعہ اگر امام اور شیعہ دنیا میں دوسروں کے محتاج رہے تو کیا ہوا؟ قیامت سے پہلے پھر لوٹ کر آئیں گے اپنے مردہ شیعوں کو زندہ کریں گے، اور دشمنوں کے گڑے مردے بھی اُکھاڑیں گے، اور ان کو طرح طرح کے عذابوں سے ماریں گے ان کے آثارِ متبرکہ کو منہدم روضہ نبویﷺ کی دیوار شکنی اور مقربان آنحضرتﷺ سے بدسلوکی کریں گے، کعبہ کو گرا کر پھر بنائیں گے الغرض دنیا میں کسی غیرِ شیعہ کو نہیں چھوڑیں گے پھر وہ ہوں گے اور ان کے شیعہ صدیوں عیش و آرام سے حکومت کریں گے مگر سوال یہ ہے کہ جو لوگ پہلی دفعہ دشمنوں کے مقابل کچھ نہ کر سکے، وہ دوسری بار کیا کریں گے۔
خوب معلوم ہے رجعت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش کرنے کو بے شک یہ خیال اچھا ہے
حقیقت یہ ہے کہ نہ کسی غائب شدہ امام کو آنا ہے، نہ قیامت سے پہلے کسی کو جی کر اُٹھنا ہے، نہ شیعوں کو دنیا کی حکومت کرنا ہے یہ تمام افسانے یار لوگوں کی ایجاد ہیں اور مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کے لیے تراشے گئے ہیں اللہ ان کے شر سے مسلمانوں کو محفوظ رکھے۔ آمین۔
مسئلے تو اور بھی ہیں مگر فی الحال ہم انہیں پر اکتفاء کرتے ہیں۔
تمام شد