اسلام حضرت مہدی کی پیدائش ہی آخری زمانہ میں ہوگی:
1: امام ابنِ حجر مکیؒ امام سفارینیؒ کی تصریحات کے مطابق دنیا بھر کے مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے امام محمد المہدی قیامت کے قریب مدینہ منورہ میں پیدا ہوں گے، 40 سال کی عمر میں مکہ مکرمہ میں ان کا ظہور ہو گا یہیں ان کی بیعت عام ہوگی۔
2: اس طرح پیدائش سے پہلے ان کے ظہور اور بعثت یا ان کی روح اور جسم سے کسی قسم کی خط و کتابت کا کوئی تصور ہی پایا نہیں جاتا سیدنا مہدی کی غیبتِ صغریٰ اور غیبتِ کبریٰ کا اسلام میں کوئی تصور اور نظریہ سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔
شیعیت:
260ھ میں امام کی غیبت کے بعد 329ھ تک چار دہائیوں تک ان کی راز دارانہ خط و کتابت جاری رہی۔
شیعہ مذہب کی معتبر ترین کتاب احتجاج طبرسی کے آخری صفحات میں امام غائب کی غیبتِ صغریٰ کا حال یوں بیان کیا گیا ہے چار حضرات نے دعویٰ کیا ہے کہ امام کی غیبت میں ان کے ساتھ ان کا رابطہ جاری و ساری ہے ان میں آخری صاحب علی بن محمد سمیری ہیں جن کا انتقال 329ھ میں ہوا۔
شیعہ کے بے شمار افراد ان کو امام تک پیغام پہنچانے کے لیے طرح طرح کے ہدایہ اور تحائف دیتے تھے یہ امام کی طرف سے ان کے جواب لا کر دیتے تھے جن پر امام صاحب الزمان کی مہر ہوتی تھی۔ خمینی صاحب کی کتاب الحکومۃ الاسلامیہ کے مطابق امام کے یہ خفیہ پیغامات بھی حجت کا درجہ رکھتے ہیں۔ (صفحہ 77)
مذکورہ چہار افراد کا خط و کتابت کے دور کو امام کی غیبت صغریٰ کا زمانہ کہا جاتا ہے، جب کہ 329ھ کے بعد سے امام غیبتِ کبریٰ میں ہیں اب کسی سے ان کا رابطہ نہ ہو سکے گا۔
اسلام:
حضرت مہدی مدینہ منورہ سے مکہ آئیں گے اور بیعت عام خانہ کعبہ میں ہوگی:
عن ام سلمہ رضی اللہ عنہا قالت قال رسول اللهﷺ يكون اختلاف عند موت خليفه فيخرج رجل من اهل المدينه هاربا الى مكه فياتيه ناس من اهل مكه فيخرجونه و هو كاره فيبايعونه بين الركن والمقام و يبعث اليه بعث من الشام فيخسف بهم بالبيدا و بين مكه و المدينه فاذا راس الناس ذلك اتاه ابدال الشام و عصائب اهل العراق فيبايعونه ثم ینثو رجل من قریش الخ۔
ترجمہ: حضرت ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ خلیفہ کی وفات پر اختلاف ہوگا (یعنی اس کی جگہ دوسرے خلیفہ کے انتخاب پر صورت حال دیکھ کر خاندان بنی ہاشم کا ایک شخص اس خیال سے کہ کہیں لوگ میرے اوپر بارِ خلافت نہ ڈال دیں مدینے سے مکہ چلا جائے گا کچھ لوگ اسے پہچان کر کہ یہ ہی مہدی ہیں انہیں گھر سے باہر لائیں گے اور حجر اسود و مقامِ ابراہیم کے درمیان زبردستی اس کے ہاتھ پر بیعت کریں گے اس بیعت کی خبر سن کر ایک لشکر شام سے مقابلہ کے لیے اس کی طرف روانہ ہوگا یہاں تک کہ جب مقامِ بیداء (جو کہ مکہ مدینہ کے درمیان میں ہے) پر پہنچے گا تو زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔
(الی آخرہ مجمع الزوائد: صفحہ 3157)
شیعیت:
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ بھی امام مہدی (بارہویں امام) کے ہاتھ پر بیعت کریں گے:
حق الیقین صفحہ 340 پر ملا باقر مجلسی نے امام مہدی کے ہاتھ پر حضرت محمدﷺ کی بیعت کے ساتھ سیدنا علیؓ کی بیعت کا بھی یوں تذکرہ کرتے ہیں۔
چوں قائم آل محمد علیہ السلام بیرون آید خدا اور ایاری کند بملائکہ اول کسی کہ باو بیعت کند محمد باشد و بعدازاں علی الخ۔
ترجمہ: جب قائم آلِ محمد ظاہر ہوں گے تو خدا ان کی فرشتوں کے ذریعے مدد کرے گا سب سے پہلے ان کے ہاتھ پر حضرت محمدﷺ اور ان کے بعد حضرت علیؓ بیعت کریں گے"۔
(بحوالہ تاریخی دستاویز: صفحہ 286)
حضرت محمد مہدی کا ظہور خانہ کعبہ میں ہوگا:
عن ابی ہریرہ قال رسول اللهﷺ يخرج رجل من اهل بيتی فی الحرم فيبلغ السفيانی فيبعث اليه جندا من جندہ فیھزمھم فسیر اللہ السفیانی یمن معہ حتی اذا وار بیداء من الارض خسف بهم فلا ینحو منھم الا المخبر عنھم۔
(مجمع البخار: جلد1 صفحہ144)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے آںحضرتﷺ نے فرمایا میرے اہلِ بیتؓ میں سے ایک شخص کا حرم میں ظہور ہوگا (مراد خلیفہ مہدی ہیں) سفیانی کو اس کی اطلاع پہنچے گی تو اپنا ایک لشکر ان سے جنگ کے لیے بھیجے گا اس کا لشکر جب مقامِ بیداء یعنی مکہ مدینہ کے درمیان ایک میدان میں پہنچے گا تو ان سب کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا اور ایک مخبر کے سوا کوئی بچہ نہ بچے گا۔
(مستدرک: جلد 4 صفحہ520)
شیعیت:
امام مہدی عراق کی غار سرمن رای سے ہوگا:
امام آخر الزمان عراق کی ایک غار سرمن رای سے ظاہر ہوں گے۔
(از احتجاج طبرسی: صفحہ139)
جہاں وہ 260ء میں چار سال کی عمر میں غائب ہوگئے۔
اسلام:
حضرت مہدی کا ظہور حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان ہوگا:
عن ابی طفیل قال كنا عند علی بن ابی طالبؓ قال محمد بن حنیفهؓ اتريد رجل يخرج فی اخر الزمان قلت نعم قال انه نخرج من بين ھوین الخثبتین۔
(مستدرک: جلد4 صفحہ554)
ترجمہ: حضرت ابو طفیل سے روایت ہے کہ ہم ایک مرتبہ سیدنا علیؓ کے پاس بیٹھے تھے وہاں سیدنا محمد بن حنفیہؒ نے فرمایا: کیا تو سیدنا مہدی آخر الزمان کو دیکھنا چاہتے ہیں؟ میں نے کہا جی ہاں تو آپ نے فرمایا سیدنا مہدی انہی دونوں کے درمیان یعنی حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان ظاہر ہوگا ابو الطفیل کہتے ہیں اس کے بعد میں نے طویل عرصہ مکہ مکرمہ میں قیام کیا چنانچہ وہیں ان کی وفات ہوئی۔