مہدی (بارہویں امام) کے غائب ہونے کا عرصہ 313 شیعہ پیدا ہونے…

مہدی (بارہویں امام) کے غائب ہونے کا عرصہ 313 شیعہ پیدا ہونے تک ہے

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

قال عليه السلام مامنا الا قائم بامر الله و هاد ابی دین الله ولكن القائم الذی یظهره الله به الارض من اهل الكفر والجحود و یملا الارض قسطا و عدلا هو الذی یخفى علی الناس ولادته و یعیب عنهم شخصه و يحرم علیهم تسمیته و هو سمى رسول اللهﷺ و کنیه وهو الذی تطوى له الارض و یذل له كل صعب يجتمع اليه من اصحابه عدہ اهل بدر (ثلاثمائة و ثلاثة عشر) رجلا من آقاص الارض و ذلك قول الله اينما تكونوا باب بكم الله جميعا ان الله علی كل شیء قدیر فاذا اجتمعت له هذه العدة من اهل الاخلاص اظهر الله امره فاذا كمل له العقد (وهو عشرة الاف رجل) خرج باذن الله فلا يزال يقتل اعداء الله حتىٰ يرضى عزوجل۔  

(احتجاجِ طبرسی: جلد 2 صفحہ250، مطبوعہ قم خیابان، طبع جدید)

ترجمہ: سیدنا رضاؒ نے فرمایا کہ ہم میں سے ہر ایک اللہ کے حکم سے قائم ہے اور اللہ کے دین کا ہادی ہے لیکن قائم وہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے زمین کفر و جور سے پاک کرے گا اور عدل و انصاف کے ساتھ زمین کو بھر دے گا اور وہ وہ ہے کہ جس کی ولادت اور اس کا وجود لوگوں سے مخفی ہوگا اور لوگوں پر اس کا نام لینا بھی حرام ہوگا اور وہ رسول اللہﷺ کا ہم نام اور ہم کنیت ہوگا اور وہ ہے کہ جس کے لیے زمین کو لپیٹا جائے گا اور اس کے لیے ہر سخت کو نرم کیا جائے گا اور اس کے لیے جمع ہوں گے اس کے اصحابِ اہلِ بدر کی تعداد کے برابر زمین کے کناروں سے 313 اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے مطابق ہے کے تم جہاں بھی ہوں گے اللہ تعالیٰ ہر شئے پر قادر ہے اور جب اہلِ اخلاص سے یہ تعداد اس کے لیے جمع ہو جائے گی تو اللہ تعالیٰ اپنے امر کو ظاہر کرے گا اور جب اس کی تعداد پوری ہو جائے گی یعنی (دس ہزار) تو وہ اللہ کے اذن سے نکل آئے گا پس وہ ہمیشہ دشمنوں کو قتل کرتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ راضی ہو جائے گا۔

اسلام:

عن عبد الله بن مسعود قال قال رسول اللهﷺ لا تذهب الدنيا حتى يملك العرب رجل من اهل بيتى يواطی اسم اسمى  

(ترمذی: جلد 2 صفحہ38)  

ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے آنحضرتﷺ نے فرمایا دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہوگی یہاں تک کہ میرے اہلِ بیتؓ میں ایک شخص عرب کا بادشاہ ہو جائے جس کا نام میرے نام کے مطابق محمد ہوگا۔

شیعیت:

عن عبد الله الصالحى قال سألنی اصحابنا بعد معنیٰ ابی محمد عليه السلام ان اسأل عن الاسم والمكان فخرج الجواب ان دللتم على الاسم اذاعوه وان عرفوا المكان دلوا عليه۔  

(ایضاً: جلد1 صفحہ333) 

ترجمہ: ابو عبد اللہ الصالحی کہتے ہیں کہ ابو محمد علیہ السلام کے وصال کے بعد بعض اصحاب نے مجھ سے اس صاحبزادے کا نام اور جگہ پوچھی اور میں نے امام غائب کی بارگاہ میں ان سے درخواست کی تو جواب ملا اگر تم نام بتا دو گے تو لوگ اس کا راز فاش کر دیں گے اور اگر ان کو جگہ کا پتہ چل گیا تو لوگوں کو پورا پتہ ہی بتا دیا۔