بعض مغالطات کی نشاندہی اور غلط فہمیوں کا ازالہ - دفاعِ اہلِ…

بعض مغالطات کی نشاندہی اور غلط فہمیوں کا ازالہ

  محمد معاویہ سعدی

صفحہ 1 از 3

پہلا مغالطہ: صحابی کی تعریف سے متعلق ائمہ دین کے واضح بیانات کے باوجود بعض لوگوں کے ہاں اس باب میں سخت مغالطات یا غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں

1: کسی مسلمان بالخصوص صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ان کی عملی غلطیوں پر طعنہ دینا ان کی غیبتیں کرنا تاریخ کی کمزور روایتوں کی بنیاد پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر بہتان باندھنا اور الزام تراشی کرنا۔

2: عین روافض کے طریقے پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو منافقین کے ساتھ خلط کرنے کی خطرناک کوشش جس سے کہ سارا دین ہی مشکوک ہو کر رہ جاتا ہے حالانکہ علماء نے صراحت کی ہے:

إِنَّهُ لَمْ يُوجَدْ قَطُّ رِوَايَةٌ عَمَّن لُّمِزَ بِالنِّفَاقِ مِنَ الصَّحَابَةِ۔ (البحر المحيط للزركشی: جلد 4 صفحہ300)

ذخیرہ احادیث میں کوئی بھی روایت کسی ایسے شخص سے نہیں ہے جو نفاق سے متہم کیا گیا ہو۔

شیخ محمد عوامہ حفظہ اللہ فرماتے ہیں:

وَلِقَائِلٍ أَن يَّقُولَ إِنَّ هَذَا النَّفْی مَبْنِی عَلَى مَعْرِفَةِ أَسْمَائِهِمْ أَوَّلًا وَجَوَابُهُ نَعَمْ أَسْمَاؤُهُم مَّعْرُوفَةٌ أَحْصَاهَا۔

(البلاذری فی انساب الاشراف: جلد1 صفحہ 325)

پھر یہ بھی غور کرنے کا پہلو ہے کہ یہ منافقین تو غزوہ احد ہی سے پائے جاتے تھے تو بغیر کسی شرعی دلیل کے ان کے ساتھ بعد میں اسلام لانے والوں کو خلط کرنے کی کوشش کرنا کیسا خطرناک ملحدانہ اور کفریہ اقدام ہے؟ 

نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ هَذَا الْخِذْلَان۔

3: صحابی کی شاذ یا باطل تعریفات کو جمہور کی تعریف باور کرانے کی کوشش اور اپنی تلبیسات کو سخاویؒ اور سیوطیؒ جیسے ائمہ اہلِ سنت کے سر تھوپنے کی کوشش۔

4: اہلِ حق میں سے جن حضرات نے صحابی ہونے کے لیے کچھ مدت ساتھ رہنے کی شرط لگائی بھی ہے ان کے ہاں بھی اس میں دو پہلو ہیں ایک مطلق شرف صحابیت کا دوسرا علمی و فکری مقتدا اور متبوع ہونے کا تو یہ شرط مقتدا بننے کے لیے ہے مطلق صحابی ہونے کے لیے نہیں مگر جن لوگوں نے اس مسئلہ میں خلط کیا ہے انہوں نے علامہ سخاویؒ کی ہوئی اس وضاحت سے کوئی تعرض نہیں کیا۔

5: پھر جن بزرگوں نے کچھ مدت ساتھ رہنے کی قید لگائی بھی ہے تو ان کے اقوال بھی سال دو سال یا غزوہ دو غزوہ ہی کے دائرے میں ہیں فتح مکہ (سنہ 8 ھ) میں ہوئی اس کے بعد آپﷺ کی وفات (سنہ 11 ھ) تک غزوہ حنین غزوہ اوطاس اور غزوہ تبوک تین غزوات ہوئے تو جو حضرات فتح مکہ کے موقع پر ایمان لے آئے وہ تو یقیناً اور جو غزوہ تبوک (سنہ 9 ھ) سے پہلے بھی مشرف باسلام ہو گئے تھے وہ تمام حضرات بھی ان بزرگوں کی تعریف کے لحاظ سے بھی صحابی ہو جاتے ہیں۔

مگر مبتدعین و معاندین ان حضرات کی تعریفات کے پس پردہ ان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے اظہار بغض کرتے ہیں جو متفق علیہ طور پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے ہیں مثلاً:

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اہلِ بیعتِ رضوان میں سے ہیں جن کی مغفرت کے بارے میں نصِ قطعی ہے۔

سیدنا خالد بن الولید رضی اللہ عنہ اور حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فتح مکہ سے پہلے اسلام لا چکے تھے اور مختلف غزوات و سرایا میں شریک ہوئے تھے بلکہ دونوں ہی بعض سرایا کے امیر بھی بنائے گئے۔

سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ اور سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ فتح مکہ کے موقع پر اسلام لائے ہیں اور ایک سے زائد غزوات میں شرکت فرمائی ہے پھر مدینہ منورہ میں آپﷺ کے ساتھ رہے ہیں۔

6: اور نعوذ باللہ اب تو معاملہ اور آگے بڑھ چکا ہے کہ حضرات شیخینؓ پر بھی تبری بازی شروع ہوگئی ہے اور ان کی خلافت کے قیام کی صحت تک مشکوک قرار دی جا رہی ہے علامہ حدادی یمنی حنفیؒ الجوہرة النيرة: جلد، 2 صفحہ، 272 میں فرماتے ہیں:

مَن سَبَّ الشَّيْخَيْنِ أَوْ طَعَنَ فِيهِمَا يَكْفُرُ وَيَجِبُ قَتْلُهُ ثُمَّ إِن رَّجَعَ وَتَابَ وَجَدَّدَ الْإِسْلَامَ هَلْ تُقْبَلُ تَوْبَتُهُ أَمْ لَا قَالَ الصَّدْرُ الشَّهِيدُ لَا تُقْبَلُ تَوْبَتُهُ وَإِسْلَامُهُ وَبِهِ أَخَذَ الْفَقِيهُ أَبُو اللَّيْثِ السَّمَرْقَنْدِی وَأَبُو نَصْرٍ الدَّبُوسِی۔

سب شیخینؓ کرنے والے کے لیے فقہائے حنفیہ کا ایک قول یہی ہے۔

دوسرا مغالطہ: امام اسحاق بن راہویہؒ سے نقل کیا جاتا ہے کہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کے فضائل میں کوئی صحیح حدیث وارد نہیں ہوئی ہے۔

الف: اس سلسلے میں پہلی بات تو یہ عرض ہے کہ فضائل کا باب تو ایک اضافی چیز ہے نہ معلوم کتنے صحابہ اور صحابیات بناتِ طیبات بلکہ بہت سے انبیائے کرام علیہم السلام کی ذاتِ قدسیہ ایسی ہیں کہ ان کے نام اور شخصیت کی تعیین کے ساتھ کوئی حدیث وارد نہیں ہوئی ہے تو اس میں نقص کون سا ہے کیا کسی ذات کی فضیلت کے لیے تنہا اس کا نبی یا صحابی ہونا کافی نہیں۔

ب: دوسری بات یہ کہ امام اسحاق بن راہویہؒ کا یہ ارشاد ایک محدثانہ اصطلاح کے پسِ منظر میں ہے تفصیل کا موقع نہیں خلاصہ اس کا یہ ہے کہ اصطلاحی صحت کی نفی سے نہ ثبوت کا انکار لازم آتا نہ ضعف کا اثبات لہٰذا حسن ہونے کا احتمال باقی رہتا ہے جیسا کہ حافظ ابنِ حجرؒ وغیرہ محققین نے اس کی صراحت فرمائی ہے اور علامہ عبد الحی لکھنویؒ الرفع والتکمیل: صفحہ 191، 198 میں اس پر مستقل فصل بھی قائم فرمائی ہے۔

ج: چنانچہ سیدنا امیرِ معاویہؓ کے فضائل میں امام ترمذیؒ (3842) نے ایک حدیث کی تخریج فرما کر اس پر حسن ہونے کا حکم لگایا ہے اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

قَالَ النبیﷺ لِمُعَاوِيَةَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ هَادِيًا مَّهْدِيًّا وَاهْدِ بِهِ۔

د: اس کے علاوہ بابِ فضائل میں تو باتفاق محدثین حدیث ضعیف بھی معتبر ہے اور سیدنا امیرِ معاویہؓ کے فضائل و مناقب میں ضعیف احادیث تو کئی ایک موجود ہیں آپ کے حالات اور فضائل و مناقب پر علماء نے مستقل طور پر کتابیں بھی تصنیف فرمائی ہیں۔

ہ: نیز اس کے علاوہ کتابتِ وحی کا شرف اولین بحری غزوہ کی قیادت کی سعادت اور غزوہ قسطنطنیہ وغیرہ سے متعلق ایسی احادیثِ صحیحہ بھی ہیں جن میں دی گئی بشارتوں کے آپ باجماع اہلِ حق اولین مصداق ہیں۔

سن کر تمہارا نام مسلماں تو کھل اٹھے

لیکن عدوئے دین کا چہرہ بگڑ گیا

حضرت معاویہؓ وہ حضرت علیؓ سے جنگ

پائے خطا تھا اور رہ جنت پہ پڑ گیا۔

صفحہ 1 از 3