ہم یہاں شیعہ سے بھی گزارش کریں گے کہ آپ اپنے اس تصورِ امام مہدی پر از سرِ نو غور کریں، اس کے کارناموں کا بغور جائزہ لیں، اس کے ظہور کے بعد کی مزعومہ خدمات کو اسلام کے تصورِ امام مہدی کے تناظر میں دیکھیں ہماری اس جائز اور مثبت تنقید پر چیں بہ جبیں ہونے کی بجائے، اس بات کو سوچیں کہ آپ کے عقیدہ کے مطابق جس امام مہدی نے سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کو روضہ اقدس سے نکال کر تختہ دار پر چڑھانا ہے، ایک گناہ گار سے گناہ گار مسلمان بھی اس تصور پر چشم پوشی کیسے کر سکتا ہے؟ اس کا فرض ہے کہ وہ ایسے تصور کے خلاف اسلام ہونے اور اس نظریہ کو شریعتِ محمدیہ سے کھلی بغاوت سے تعبیر کرے ایسے نظریات کی موجودگی میں مسلمانوں سے وحدت کے دعوؤں اور اتحاد و یگانگت کے راگ الاپنے کو فریب اور دھوکہ کے سوا کیا کہا جا سکتا ہے۔