پروفیسر صاحب لکھتے ہیں: شریعتِ اسلام نے دائیں ہاتھ کو ہر کام میں فضیلت دی ہے۔ بائیں ہاتھ سے منہ دھونا خلافِ فطرت اور خلافِ حکمِ اسلامی ہے۔ (صفحہ32، 33)
پروفیسر صاحب نے شیعہ حضرات کا نظریہ واضح کیا کہ چہرہ صرف دائیں طرف سے دھونا چاہیے۔ اور اس پر دلیل دیتے ہوئے لکھا کہ نبی کریمﷺ چہرے کو دائیں ہاتھ سے دھوتے تھے۔ مزید لکھا کہ نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے: میرا دایاں ہاتھ منہ کے لیے ہے اور بایاں ہاتھ طہارت یعنی استنجا وغیرہ کے لیے ہے۔ (صفحہ27)