یہیں سے ان لوگوں کا اعتراض بھی دفع ہو گیا جو یہ کہتے ہیں کہ جب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عزت و عظمت ایسی ہی مقدس چیز تھی تو پھر علماء اور بزرگوں نے ان کی لغزشات اور زلات کو اپنے ہاں ذکر ہی کیوں کیا اگر نہ ذکر کرتے تو ہم لوگوں کو پتہ ہی نہ چلتا اور وہ چیزیں وہیں کی وہیں ختم ہو جاتیں۔
مگر اب یہ بات سمجھ میں آ گئی ہوگی کہ ان لغزشوں کا صدور اگرچہ نظامِ تکوین کے تحت تھا مگر چونکہ پھر اس سے تشریعی فوائد بھی متعلق ہو گئے تھے اس لیے آئندہ والوں کو اس کا علم ہونا یقیناً فائدے سے خالی نہ رہا مثلاً:
1: خدا نخواستہ اگر کسی مسلمان سے کوئی گناہِ کبیرہ سرزد ہو جائے تو اس کو کیسی شرمندگی اور احساسِ ندامت ہونا چاہیے۔
2: حدود کیسے جاری کی جائیں۔
3: پھر غیبت اور بہتان کے کیا احکام ہیں کیا مسائل ہیں۔
4: بالخصوص صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر سبِ و شتم اور تنقید و تبصرہ کا کیا حکم ہے۔
یہ تمام تشریعی فائدے اسی طرح کے واقعات سے حاصل ہوتے ہیں جیسا کہ واقعہ افک کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا تھا:
لَا تَحۡسَبُوۡهُ شَرًّا لَّـكُمۡ بَلۡ هُوَ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ الخ (سورۃ النور: آیت 11)
ترجمہ: اس حادثے کو تم لوگ اپنے لیے شر نہ سمجھو بلکہ یہ تو تمہارے لیے باعث خیر ہے۔
ہر بات مثبت پہلو ہی سے نہیں ذکر کی جاتی بلکہ خیر کو اس لیے ذکر کیا جاتا ہے تاکہ لوگ اس کو اختیار کریں اور ساتھ ساتھ شر کو بھی ذکر کر دیا جاتا ہے تاکہ لوگ اس سے خود کو بچا سکیں جیسا کہ امام مسلمؒ نے بھی اپنی صحیح کے مقدمہ میں جلد، 1 صفحہ، 21 اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے بھی تو دنیا میں خیر و شر دونوں ہی کا سلسلہ چلایا ہے یہ بھی نظامِ تکوین کا حصہ ہے اسی کے ذریعے لوگوں کی آزمائش ہوتی ہے ورنہ اگر صرف خیر ہی کا پہلو ہوتا تو آزمائش کیوں کر ہوتی۔
خلاصہ یہ کہ جس طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اقامتِ دین اور نصرتِ اسلام کے لیے اپنی قیمتی جانوں اور گھر کے اسباب اور اثاثوں تک کا نذرانہ پیش کیا اسی طرح راہِ خدا میں اپنی عزت و آبرو بھی قربان کر دی۔
رَضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ الخ۔(سورۃ المائدہ: آیت 119)