حصہ دوم: روایاتِ حرمتِ استدلالیہ
روایت اول:
خاتم المؤلفین صاحبِ مجالس المؤمنین مجالس دوم میں لکھتے ہیں: اگر متعہ روا بودے امامِ برحق امام حسن چرا اقتفات بنکاح وطلاق فرمودے۔ حضرت حسنؓ کہ باعتراف صاحب مجالس المؤمنین بیشتر نکاح کرتے اور طلاق دیتے تھے یہاں تک کہ حضرت امیر نے لوگوں سے بذریعہ اعلانِ عام فرمایا تھا:
يَا أَهْلَ الْكُوفَةِ لَا تُزَوِّجُوا الْحَسَنَ فَإِنَّهُ مِطْلَاقٌ لِلنِّسَاءِ۔
ترجمہ: اے اہلِ کوفہ! حسنؓ سے اپنی لڑکیوں کا نکاح مت کرو کیونکہ وہ طلاق دینے کے عادی ہیں۔
کبھی متعہ سے کنارہ کشی نہ کرتے کہ یہ نہایت ہی سہل کام تھا ہم حیران ہیں کہ سیدنا حسنؓ نے تمام عمر کبھی متعہ نہیں کیا بلکہ کل عمر ائمہ کرام نے بھی، باوجود بقولِ شیعہ فرمودہ ختم الرسلﷺ کے:
فَمَنْ خَرَجَ مِنَ الدُّنْيَا وَلَمْ يَتَمَتَّعْ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ أَجْدَعُ۔
ترجمہ: جو دنیا سے بغیر متعہ کیے کوچ کر گیا وہ قیامت کے دن بد وضع مثل نک کٹا ہو گا۔
(منہج الصادقین،:صفحہ354)
مطابقِ اس روایت کے، توبہ نعوذ باللہ نکٹا ہونا پسند کیا مگر متعہ سے اپنے دامنِ عصمت کو آلودہ عصیاں نہ کیا کاش شیعہ صاحبان ائمہ کرام کی عملی زندگی کے مطابق عمل کریں اور خواہ مخواہ ان کی وضعی روایت کی کورانہ تقلید نہ کریں جو منافقینِ اسلام نے بغرضِ فتنہ و فساد معصومین کے نام پر منسوب کر کے مروج کی ہیں۔
جب ہی ہندوستان میں مذہبِ اسلام نے قدم رکھا ہے، کسی ایک شیعہ نے بھی متعہ نہیں کیا کیا لاکھوں کروڑوں شیعہ مسلمان جو اس وقت تک ہندوستان میں مر چکے ہیں، یا انہی حالات کے تحت آئندہ بغیر متعہ کے مریں گے، وہ سب میدانِ محشر میں نکٹے ہی اٹھیں گے؟ ان گنگنانے والوں کی افواج کا منظر دیکھنے کے قابل ہو گا خدا ہر مسلمان کو اس ہنسانے والے نظارہ سے لذت اندوز ہونے کا موقع دے آمین۔
روایت دوم:
امام منتظر کی تصدیق شدہ کتاب الکافی جلد 2 صفحہ 192 پر روایت درج ہے:
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ قَالَ: كَتَبَ أَبُو الْحَسَنِ إِلَى بَعْضِ مَوَالِيهِ: لَا تُلِحُّوا عَلَى الْمُتْعَةِ، إِنَّمَا عَلَيْكُمْ إِقَامَةُ السُّنَّةِ، فَلَا تُفْشُوهَا عَنْ فُرُشِكُمْ وَحَرَائِرِكُمْ فَيَكْفُونَ وَيَتَبَرَّینَ، وَعَلَی الْأَمْرُ بِذَلِكَ وَيَلْتُونَ۔
ترجمہ: حضرت ابو الحسن نے اپنے بعض اصحاب کو لکھا کہ متعہ پر اصرار مت کرو سنت صرف سنت بجا لاؤ اور اس میں مصروف مت ہو جاؤ تاکہ ایسا نہ ہو کہ تم اپنی منکوحہ عورتوں اور کنیزوں سے ہٹ جاؤ اور وہ معطل رہیں، پاک باز رہ کر ہماری دامن گیر ہوں اور ہمیں اس وجہ سے کہ ہم نے حکمِ متعہ کا دیا ہے لعنت کریں۔
اس روایت میں گو مخالفتِ کلی نہیں ہے مگر متعہ کے اسرار سے ضرور، مانعت کی ہے اور اس کے بد نتائج سے آگاہ کیا ہے کہ متعہ کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ تم ممتوعہ عورتوں کے خیال میں لگ کر اپنی پاکباز عورتوں کو بالکل چھوڑ دو گے اور وہ اس کے بدلے تمہارے بزرگوں کو گالیاں دیں گی کہ انہوں نے متعہ کا رواج ڈال کر ہم پر آفت برپا کی۔ کیا اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ رواجِ متعہ معاشرتی تمدن کو درہم برہم اور انسانی رگ و پے میں شہوت رانی کی تحریک کو مستحکم کرنے والا ہے جس کی وجہ سے زنا کاری اور بے حیائی کے رائج ہو جانے کا نہ صرف احتمال بلکہ یقینِ کامل ہے؟ جب ایک دفعہ یہ کثیر اللذت قلیل الزحمت اصول مروج ہو گیا تو دلیلِ عقلیہ کے صفحہ 2 کے مناظرِ تباہی صفحہ عالم پر نقش ہو جائیں گے۔
روایت سوم:یہ روایت بھی اپنے ما سبق کی طرح الکافی جلد 2 صفحہ 197 پر درج ہے:
جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ اللَّيْثِی فَقَالَ لَهُ: مَا تَقُولُ فِی مُتْعَةِ النِّسَاءِ؟ فَقَالَ: أَحَلَّهَا اللَّهُ وَ كِتَابِهِ بَنَاتُ عَمِّه۔
ترجمہ: ابنِ عمر اللیثی نے سیدنا باقر سے متعہ کا مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے کہا: اللہ نے اسے اپنی کتاب میں اور اپنے رسولﷺ کی زبان سے حلال کیا ہے ابنِ عمر نے کہا: کیا یہ آپ کو پسند ہے کہ آپ کی عورتیں اور لڑکیاں یہ فعل کریں؟ سیدنا باقر نے یہ بات سن کر اس کی طرف سے منہ پھیر لیا اور کچھ جواب نہ دیا۔
ائمہ معصومین کی تعلیم کا قبیح رخ تو شیعہ حضرات نے مذکورہ بالا الفاظ میں دکھا کر حبِ اہلِ بیتؓ کا ثبوت دیا ہے حالانکہ ہمیں یہ معاندینِ اہلِ بیتؓ سے شمار کیا جاتا ہے۔ لیکن ہمارا ایمان یہ ہے کہ رہنما راہِ طریقت: آنچہ برخود ناپسندی بر دیگران مپسند کی خلاف ورزی کر کے جو چیز دوسروں کے لیے جائز سمجھیں اور اس کی تلقین کریں خود اس پر عامل نہ ہوں۔
اگر امام حلتِ متعہ کے اس قدر قائل تھے اور اس کو سنتِ رسول اور قیامت تک جائز سمجھتے تھے تو پھر اپنی عورتوں کا سوال آ جانے پر کیوں خاموش ہو گئے؟ یہ عجیب بات ہے کہ جو فعل مردوں کے لیے باعثِ نجاتِ اخروی اور افتخارِ دینوی ہو، وہ عورتوں کے لیے موجبِ رسوائی و شرمساری ہو بس نتیجہ اٹل یہ ہے کہ حدیث وضعی ہے اور خواہ مخواہ ائمہ معصومین کے گلے منسوب کی گئی ہے کیونکہ ان کی ذاتِ با برکت ایسی بے اصول باتوں سے مبرا و منزہ ہیں ائمہ معصومین کی تصویر کا سفید رخ یہ ہے جو ہم نے دکھلایا ہے آپ ناظرین انصاف سے فیصلہ کریں کہ محبت کس نقطہ نظر میں مضمر ہے۔
حدیث چہارم:
الْمُتْعَةُ بِالْبِكْرِ لکیرہ لِلْعَيْبِ عَلَى أَهْلِهَا۔
ترجمہ: باکرہ سے متعہ کرنا اس کے خاندان کے لیے بوجہِ عیب موجبِ ہتک ہے۔
یہ روایت بھی الکافی جلد 2 صفحہ 196 پر درج ہے۔ نیز من لا یحضره الفقیہ جو شیعوں کے سلطان المحدثین ابنِ بابویہ القمی المعروف بہ شیخ صدوق کی مشہور عالم کتاب ہے اور جو صحاحِ اربعہ کے نظامِ شمسی کا آفتاب ہے، اس کے باب المتعہ میں یہ روایت بعینہٖ مرقوم ہے۔
کم و بیش اس مضمون کی ایک اور روایت سیدنا باقر سے الکافی جلد 1 صفحہ 196 پر منقول ہے:
لَا بَأْسَ أَنْ تَتَمَتَّعَ بِالْبِكْرِ مَا لَمْ يُفْضِ إِلَيْهَا كَرَاهِيَةَ الْعَيْبِ عَلَى أَهْلِهَا۔
ترجمہ: باکرہ سے متعہ کرنے میں کوئی حرج نہیں مگر اس سے مجامعت نہ کرو، کہ اس سے ہتک اس کے خاندان کی ہے۔
ان روایات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ متعہ دراصل فعلِ بد ہے۔ اور اگر برا نہ ہوتا تو باکرہ کے ساتھ متعہ کرنا کیوں معیوب ہوتا اور اس سے اس کے خاندان کو دھبہ کیوں لگتا؟ حالانکہ باکرہ کے ساتھ نکاح کرنے کی اس طرح تعریف کی گئی ہے:
تَزَوَّجُوا الْأَبْكَارَ فَإِنَّهُنَّ أَطْيَبُ شَيْئًا أَفْوَاهًا۔
(الکافی: جلد2 صفحہ134)
رسالہ تنبیہ المنکرین کے صفحہ 27 پر لکھا ہے کہ باکرہ سے متعہ کرنا مکروہ ہےکیا باکرہ سے متعہ اس لیے مکروہ قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنی عصمت کو ایک مٹھی بھر جو یا ایک بوسیدہ چادر کے عوض فروخت کرنے کو تیار نہیں ہوتی؟ اور رواں شدہ کو چونکہ مجامعت کا چسکا لگ چکا ہوتا ہے اس لیے وہ تو وہاں سگ کی طرح ایک لقمے پر بھی قناعت کر سکتی ہے۔
حلتِ متعہ کی روایات کے وضاعین کو چونکہ اپنے مقلدین میں سہل الوصول عام زنا کی اشاعت مقصود تھی، اس لیے انہوں نے غیر سہل الوصول عورتوں کو مکروہ قرار دیا تا کہ ان کے انکار کرنے سے متاعی سانڈوں کے حوصلے پست نہ ہو جائیں ورنہ باکرہ اور صفتہ میں اس قسم کی تمسخر غیر تمییز لا یعنی ہے۔