کہنے والے کہہ سکتے تھے کہ یہ سب فضیلتیں اور خدائی وعدے صرف سابقین اولین اور مشاہیر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لیے ہیں آخر آخر میں اسلام لانے والے اور مختصر مدت کا شرف صحبت حاصل کرنے والے ان فضائل کے مستحق اور ان وعدوں کے مخاطب نہیں ہیں اللہ تعالیٰ نے اہلِ تشکیک و تلبیس کے لیے اس کا کوئی موقع باقی نہیں رہنے دیا اور نہایت وضاحت کے ساتھ ارشاد فرمایا:
لَا يَسۡتَوِىۡ مِنۡكُمۡ مَّنۡ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبۡلِ الۡفَتۡحِ وَقَاتَلَ اُولٰٓئِكَ اَعۡظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِيۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۡۢ بَعۡدُ وَقَاتَلُوۡا وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الۡحُسۡنٰى الخ (سورۃ الحديد: آیت 10)
ترجمہ: فتح مکہ سے پہلے اسلام لا کر اللہ کے راستے میں خرچ کرنے والوں اور جہاد کرنے والوں کے برابر وہ لوگ نہیں ہو سکتے جنہوں نے یہ قربانیاں فتح مکہ کے بعد پیش کی ہیں فتح مکہ سے پہلے کے لوگوں کا مرتبہ بہرحال بڑھا ہوا ہے مگر اللہ نے حسنیٰ کا وعدہ دونوں ہی سے کر رکھا ہے۔
آسماں نسبت بہ عرش آمد فرود
لیک بس عالیست پیش خاک بود
ترجمہ: آسمان اگرچہ عرش کی بہ نسبت پست ہے مگر ایک خاک کے ٹیلے کے سامنے تو بہت بلند ہے۔
پھر جن لوگوں سے اللہ نے حسنیٰ کا وعدہ کر لیا ہے اُن کی مغفرت نجات اور جنت یقینی ہے حتیٰ کہ وہ سزا بھگتنے کے لیے بھی جہنم میں نہیں جائیں گے ارشادِ ربانی ہے:
اِنَّ الَّذِيۡنَ سَبَقَتۡ لَهُمۡ مِّنَّا الۡحُسۡنٰٓى اُولٰٓئِكَ عَنۡهَا مُبۡعَدُوۡنَ ۞ (سورۃ الانبياء: آیت 101)
ترجمہ: بے شک جن لوگوں سے ہماری طرف سے حسنیٰ کا وعدہ ہو چکا ہے وہ جہنم سے دور رکھے جائیں گے۔
اسی طرح ایک موقع پر اللہ تعالیٰ نے غزوۂ تبوک غزوۂ عسرت میں شرکت کرنے والوں کی مغفرت کی بھی بشارت دی ہے۔(سورۃ التوبہ: آیت 117)
اور یہ معلوم ہے کہ غزوۂ تبوک فتح مکہ کے بعد سنہ 9 ھ میں پیش آیا تھا جس میں کھلّم کھلّا منافقین کے علاوہ معدودے چند صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم بھی ایسے رہ گئے تھے جو شریک جہاد نہ ہوئے ہوں باقی تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اُس تاریخی غزوہ میں شریک ہو کر جنت کی بشارت حاصل کی تھی
اِنہی نصوص کی بناء پر علامہ ابنِ حزمؒ فرماتے ہیں:
فثبت أن الجميع من أهل الجنة وأنه لا يدخل أحد منهم النار لأنهم المخاطبون بالآية السابقة وقال الصحابة كلهم من أهل الجنة قطعاً۔(فتح المغيث: جلد 4 صفحہ 97)
ترجمہ: تو ثابت ہوا کہ تمام صحابہ جنتی ہیں کوئی بھی اُن میں سے جہنم میں نہیں جائے گا اِس لیے کہ مذکورہ بالا آیات کے مخاطب وہی ہیں اور فرماتے ہیں تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا جنتی ہونا قطعی ہے۔
اسی لیے لَا تَمَسُّ النَّارُ مُسْلِمًا رَآنِی۔(ترمذی 5838)
ترجمہ: جس نے اسلام کی حالت میں مجھے دیکھ لیا اسے آگ نہیں چھوئے گی۔
جیسی احادیث بلحاظ مضمون بالکل صحیح ہیں۔