ہندوستان کے صوبہ اودھ کے مشہور شہر جون پور میں 847 ہجری میں سید محمد جونپوری پیدا ہوا باپ کا نام سید خان، والدہ کا نام بی بی آمنہ ملک تھا۔
باپ کا نام عبد اللہ اور والدہ کا نام آمنہ:
لیکن اس کے متاخرین پیروکاروں نے باپ کا نام عبد اللہ اور والدہ کا نام آمنہ لکھنا شروع کر دیا تاکہ احادیث میں دی گئی علامات کو اس پر منطبق کیا جا سکے حالانکہ جب خود اس سے اس کی زندگی میں سوال کیا گیا کہ تمہارے والد کا نام تو سید خان ہے تو کہنے لگا کہ کیا خدا اس بات پر قادر نہیں کہ سید خان کے بیٹے کو منصبِ مہدیت پر بٹھا دے سات سال کی عمر میں حفظِ قرآن اور 12 سال کی عمر میں تکمیلِ علوم کر چکا تھا آغازِ جوانی ہی میں دقتِ نظر اور علمی موشگافیوں میں انفرادیت کے ساتھ ساتھ برجستہ گوئی اور حسنِ بیان کے ملکہ پر قدرت حاصل کر چکا تھا جس کی وجہ سے اسد العلماء کا لقب حاصل کرنے میں کامیاب ہوا مہدویوں کی روایات کے مطابق سید محمد کو نیم بیداری کی حالت میں ایک تقدس اور شرافت کی حامل شخصیت نے مخاطب کر کے کہا تو ہی مہدی موعود ہے سید نے اس دعویٰ کو اپنے پیروکاروں کے سامنے پیش کیا جنہوں نے بے چون و چراں اسے تسلیم کر کے ہدایت کے بدلے ضلالت کو خرید لیا وطن سے ہجرت کے بعد سید محمد جونپوری آیا جہاں ایک طرف ہزاروں انسانوں نے اس کے ہاتھ پر بیعت کی تو دوسری طرف علماءِ اسلام نے اس سے مناظرہ کر کے اسے یہاں سے نکال دیا جہاں سے سید جونپوری مندو، چمپانیر سے ہوتا ہوا احمد نگر پہنچا جہاں پر سلطان احمد نظام نے اس کے ہاتھ پر بیعت کی جسے دیکھا دیکھی سلطنت کے بہت سے امراء طبقہ کے لوگ اس سلسلہ میں داخل ہوئے سید کی دعا سے لا ولد سلطان کے گھر میں بیٹا پیدا ہوا جو بعد میں برہانِ نظام الملک بہری کے نام سے تختِ سلطنت پر بیٹھا۔
واپسی ہندوستان پر احمد آباد گجرات کی مسجد تاج خان میں ڈیڑھ سال مقیم رہا اور مجمعِ عام میں اپنے مہدی ہونے کا بار بار دعویٰ کرتا رہا۔ پھر اتنا ہی عرصہ نہروالا پیراں پٹن علاقہ گجرات میں گزرا اب حالت یہ ہوئی کہ جس طرف رخ کرتا، علماء کے مناظروں اور مباحثوں کا سامنا کرنا پڑتا اور ہر شہر سے حاکمِ شہر کی طرف سے اخراج کا حکم صادر ہو جاتا تنگ آ کر سید نے سندھ کا رخ کیا جو اس وقت علمِ شریعت کا گہوارہ اور علماءِ ربانین کا مسکن تھا جس کی وجہ سے یہاں کے حکمرانوں نے سید کا ناطقہ بند کر دیا جس کی وجہ سے سید کے 84 ساتھی بھوک و افلاس سے ہاتھوں راہی ملکِ عدم ہو گئے سید یہاں سے بے چارگی کے عالم میں خراسان کی طرف روانہ ہوا اور اس کے ہمراہ 200 آدمی تھے جن میں سے مہدیوں کے بقول 310 منتخب ایسے افراد تھے جن کا لقب اصحابِ مہاجرین خاص تھا حاکمِ قندھار نے روزِ جمعہ مسجد میں بلوا کر علماء سے مناظرہ کرایا یہاں سے لاچار ہو کر سید نے شہر فراہ کی طرف کوچ کیا وہاں بھی باز پرس اور سختی کا معاملہ مقدر ہوا آخر اسی شہر میں تین ماہ بعد 910 ہجری میں سید کا سفینہ حیات بحرِ عدم میں اتر گیا سید کے بڑے فرزند فراہ شہر میں ایک سال سختیاں جھیل کر واپس گجرات محلہ مقام پر قیام پذیر ہو گئے جہاں سید کے تمام مریدین و خلفاء نے ان کی طرف رجوع کیا ہندوستان کی تمام مسلم ریاستوں میں حتیٰ کہ دہلی تک بادشاہوں کے معتمد وزراء میں عرصہ دراز تک سید کے پیروکار و معتقدین کی ایک بڑی تعداد در پردہ اپنے عقائد باطلہ کی تبلیغ اور سید محمد جونپوری کی مہدویت کا پرچار کرتی رہی (بعض لوگوں نے سید جونپوری کو ذکری فرقہ کا بانی لکھا ہے)
(تفصیلات کے لیے دیکھیے: ائمہ تلبیس: صفحہ، 30، 65 بحوالہ منتخب التواریخ بدایونی: صفحہ294، طبقات اکبری: جلد2 صفحہ118)
سید جونپوری کے عقائد:
1: سید جونپوری معاذ اللہ آنحضرتﷺ کو چھوڑ کر باقی تمام انبیاء اور مرسلین سے افضل ہے۔
2: صحیح احادیث کا اس وقت تک کوئی اعتبار نہیں جب تک سید جونپوری کے اقوال و احوال و الہامات کے مطابق نہ ہوں۔
3: آنحضرتﷺ اور سید جونپوری کامل الایمان تھے باقی سب نبی ناقص الاسلام تھے۔ (معاذ اللہ)
4: تمام انبیاء و مرسلین کی ارواح سید جونپوری کے سامنے پیش کی جاتی ہیں حق تعالیٰ انہیں حکم دیتا ہے کہ تم اپنے نور کے اس خزانہ سے جس سے تمہیں نور حاصل ہوا ہے مقابلہ کر کے تصحیح کرا لو پس جو یہاں مقبول ہو گا وہ خدا کے ہاں مقبول ہے۔
5: سید محمد صاحبِ شریعت ہیں ان کی شریعت محمدﷺ کی شریعت کی بعض چیزوں کی ناسخ ہے۔
(بحوالہ: ہدیہ مہدویہ و منتخب التواریخ)