ظہور کے وقت حضرت محمد مہدی کی عمر چالیس سال ہوگی - ردِ…

ظہور کے وقت حضرت محمد مہدی کی عمر چالیس سال ہوگی

  حضرت مولانا علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی شہیدؒ

اسلام

ظہور کے وقت حضرت محمد مہدی کی عمر چالیس سال ہوگی:

علامات امام مہدی اہلِ سنت کی مشہور کتاب الحاوی للفتاویٰ کے صفحہ، 66 پر ہے:  

حضرت محمد المہدی کی بعثت کے وقت عمر شریف چالیس برس ہوگی۔

شیعیت:

آج بھی ظہور ہو تو امام کی عمر 1200 سال سے زائد ہوگی۔

امام حسن عسکری کا 4 سالہ بچہ جس نے امام مہدی کے طور پر ظاہر ہونا تھا 255ھ خفیہ پیدائش کے بعد غائب ہوگیا تھا اب اگر آج کی تاریخ 1416ھ کو بھی ظاہر ہو تو اس کی عمر 1200ھ سو سال بنے گی لیکن خمینی صاحب کے مطابق ان کی آمد کو ہزاروں سال اور بھی گزر سکتے ہیں۔

اسلام:

یادداشت:

آپ نے چند تصریحات میں ملاحظہ فرمایا کہ جب اسلام کے سیدنا مہدی سے اس بچے کا نام و نسب ہی جدا ہے تو اسے خواہ مخواہ اسلام اور شیعیت کا ایک ہی تصور قرار دینا حقائق و انصاف کا منہ چڑھانا ہے اس لیے امام غائب کو مہدی کے اسلامی تصور کا مصداق سمجھنا مغالطہ آرائی اور کھلا جھوٹ ہے۔

حضرت مہدی کے ظہور کی کیفیت حضرت مہدی کے ظہور کی جگہ

حضرت محمد المہدی کا ظہور خانہ کعبہ میں ہو گا عام مسلمان کی نماز اور عبادت کی حالت کے مطابق ہوگا جس کا ثبوت آنحضرتﷺ کی درج ذیل تصریح میں مقصود ہے:

عن ابی ہریرہؓ قال رسول الله ﷺ يخرج رجل من اهل بيتی فی الحرم۔

ترجمہ: آنحضرتﷺ نے فرمایا امام مہدی حرم کعبہ میں ظاہر ہوگا۔

شیعیت:

امام مہدی برہنہ حالت میں ظاہر ہوگا:

امام مہدی (بارہویں امام) کے ظہور کی کیفیت:

امام مہدی جب سر من رای غار سے ظاہر ہوگا تو اس کی کیفیت کیا ہوگی شیعہ مجتہد ملا باقر مجلسی اپنی کتاب (حق الیقین: صفحہ231) پر رقم طراز ہیں۔

از حضرت امام رضا روایت کرده است کہ از علامات ظهور حضرت قائم آنست کہ بدن برہنہ در پیش قرص آفتاب ظاهر خواهد شدہ و منادی ندا خواهد کرد کہ این امیرالمومنین است۔

(بحوالہ: تاریخی دستاویز: صفحہ431)

ترجمہ: سیدنا رضاؒ سے روایت ہے کہ سیدنا مہدی کے ظہور کی علامتوں میں ایک علامت یہ ہے کہ امام قائم برہنہ حالت میں ظاہر ہوں گے، کھلے آفتاب کے سامنے اسی حالت میں آئیں گےایک آواز لگانے والا کہے گا یہ امیر المومنین ہیں۔

امام ماں ران سے پیدا ہوتا ہے۔

اسلام:

بیعت اور سفیانی لشکر سے مقابلہ کے بعد شام سے ہو کر بیت المقدس میں سکونت ہوگی:

اول خروجه من المدينه لانه من اهلها ثم يبايع بمكه ثم يذهب الى الشام والى خراسان و غيرهما ثم يكون مستقره بيت المقدس۔  

(از علامات مہدی، امام ابنِ حجر مکی: صفحہ 36)

امام مہدی سب سے پہلے مدینہ جائیں گے۔

ترجمہ: حضرت مہدی سب سے پہلے مدینہ سے چلیں گے کیونکہ مدینہ ہی ان کی پیدائش کی جگہ ہے پھر مکہ میں بیعت عام ہوگی پھر سفیانی لشکر سے جنگ کرتے ہوئے شام، خراسان اور کئی دوسری جگہوں سے ہو کر وہ مستقل طور پر بیت المقدس میں قیام کریں گے یہ مدت 7 سال ہوگی۔

شیعیت:

 احسن المقال ترجمہ منتہی الآمال (مؤلف آقائی شیخ عباس قمی) مترجم: سید صفدر حسین قبلہ نجفی، (مطبوعہ امامیہ پبلییکیشنز لاہور) صفحہ، 325) پر لکھتے ہیں:

دوسری روایت میں ہے کہ حضرت علیہ السلام نے فرمایا: ہم اوصیاء اور انبیاء کا حمل شکم میں نہیں بلکہ پہلو میں ہوتا ہے اور رحم سے نہیں بلکہ اپنی ماؤں کی ران سے پیدا ہوتے ہیں کیونکہ ہم نورِ الٰہی ہیں اس نے گندگی اور نجاست کو ہم سے دور کر رکھا ہے جب میں واپس آئی تو پردہ ہٹ چکا تھا اور نرگس میں ایسا نور دیکھا کہ جس نے میری نگاہوں کو خیرہ کر دیا اور صاحب الامر کو دیکھا کہ وہ قبلہ رو سجدہ میں زانو کے بل پڑے ہیں۔  

(بحوالہ تاریخی دستاویز: صفحہ 455)

اسلام:

ظہور حضرت مہدی کے بعد سب سے پہلے مکہ کے علماء ان کی بیعت کریں گے:

فيأتيه ناس من اهل مكه فيخرجونه وهو كاره فيبايعونه بين الركن والمقام ذالک اتاہ ابدا الی الشام و عصائب العراق فيبايعونه۔ 

ترجمہ: حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہﷺ کا ارشاد نقل کرتی ہیں کہ مکہ کے کچھ لوگ جو انہیں بحیثیت مہدی کے پہچان لیں گے ان کے پاس آئیں گے اور انہیں مکان سے باہر نکال کر حجر اسود و مقامِ ابراہیم کے درمیان ان سے بیعتِ خلافت کریں گے جب ان کی خلافت کی خبر عام ہوگی تو ملک شام سے ایک لشکر ان سے جنگ کے لیے روانہ ہوگا جو آپ تک پہنچنے سے پہلے ہی مکہ مدینہ کے درمیان بیداء یعنی چٹیل میدان میں زمین کے اندر دھنسا دیا جائے گا اس عبرت خیز ہلاکت کے بعد شام کے ابدال اور عراق کے اولیاء آکر آپ سے بیعت خلافت کریں گے۔

شیعیت:

امام مہدی (بارہواں امام) کے ظہور کے بعد سب سے پہلے حضرت محمدﷺ ان کے ہاتھ پر بیعت کریں گے

نعمانی روایت کرده است از حضرت امام باقر کہ چون قائم آل محمد بیرون آید خدا او را یاری کند و اول کسیکہ با و بیعت کند محمد باشد و بعد از ان علی۔  

(فی الیقین: صفحہ 340 از ملا باقر مجلسی، مطبوعہ کتاب فروشی علمیہ تہران) 

ترجمہ: نعمانی نے سیدنا باقرؒ سے روایت کی ہے جب امام قائم آل محمد ظاہر ہوں گے تو خدا ان کی مدد کرے گا سب سے پہلے ان کے ہاتھ پر حضرت محمدﷺ اور ان کے بعد حضرت علی علیہ السلام بیعت کریں گے۔