حافظ ابنِ حجرؒ نے الإصابة کے مقدمہ میں کبارِ ائمہ سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی توصیفات اور مدحیہ اقوال نقل کرنے سے پہلے جو تمہید قائم کی ہے وہ قابلِ توجہ ہے فرماتے ہیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی یہ مدح و توصیف صرف استیناس کے لیے ہے ورنہ اللہ و رسول کی تعدیل کے بعد ان کو کسی اور کی تعدیل اور مدح و ثناء کی ضرورت نہیں ہے۔
اس کے بالمقابل سیدنا امیرِ معاویہؓ کو بزعم خود عدالت و ثقاہت کی سند دینے والی ایک معاصر تحریر بھی ملاحظہ فرمائیے:
سیدنا امیرِ معاویہؓ میں بہت سی ایسی خوبیاں تھیں جس سے ان کی اسلام اور مسلمانوں سے محبت کا پتہ چلتا ہے اور یہ کہ وہ دینی ڈھانچے کو برقرار رکھنا چاہتے تھے اور اس کا دفاع کرتے تھے ان کی دور بینی اور انتظامی امور میں حکمت کے علاوہ ان کے اندر دین کی حمیت اور اسلام اور مسلمانوں کی مصلحت کو اگر ضرورت پڑے تو ترجیح دینے کا جذبہ بھی تھا۔
یہ مدح ہے یا ذم مشابہ بالمدح اس کا فیصلہ آپ خود کیجیے!
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جو معیارِ حق ہیں ان کی سیرت سے خود کا موازنہ کرنے کے بجائے نعوذ باللہ ہم خود ہی اللہ و رسول کی صف میں بیٹھ کر ان کی اس منتخب کردہ جماعت کے افراد کے تقویٰ و عدالت کا مرتبہ متعین کرنے کی کوشش کرنے لگ جائیں اس سے بڑا ظلم کیا ہو سکتا ہے؟