احصان کا اطلاق ہو ہی سکتا ہے دائمی اور مستقل چیز پر، جیسا کہ سیدنا جعفر صادقؒ کی زبانی الکافی جلد سوم، جزء اول، صفحہ 98 پر یہ روایت درج ہے:
انما ذالک شئ علی دائم۔
ترجمہ: احصان کا اطلاق بالتحقیق دائمی چیز پر ہی ہو سکتا ہے۔
اور جو یہ کہا گیا کہ اسفاح کا اطلاق متعہ پر نہیں ہو سکتا، کیونکہ متعہ فعل شرعی ہے۔ عجب! احمقانہ فقرہ ہی امر متنازعہ تو یہی ہے کہ متعہ فعل شرعی ہے یا نہیں؟ امر متنازعہ کو امر مسلمہ مان لینا کہاں کی منطق ہے؟
گو عبارتِ محولہ بالا سے یہ قطعی طور پر ثابت کیا گیا ہے کہ احصان کے معنیٰ تزویج بالتخصیص کے ہیں، لیکن صاحب ضربت حیدریہ جلد اول کے صفحہ 85 میں لکھتے ہیں: کہ احصان بناء بر تصریح مفسران بمعنیٰ عفاف است، نہ بمعنیٰ تخصیص۔
اگرچہ معنیٰ تخصیص کی نفی محض جہل یا مبنی بر تجاہل ہے، مگر آپ کے مسلمہ معنیٰ کی رو سے بھی بطلانِ متعہ واضح ہے کیونکہ جب جماع کی خواہش انسان کے ساتھ مثل بھوک اور پیاس لگی ہوئی ہے، تو وہ ہمیشہ کے لیے مثل تحصیلِ اکل و شرب، تحصیلِ عفت کا بھی مکلف ہے اور عفتِ دائمی بلا عقدِ دائمی کے متصور نہیں، کیونکہ عقدِ موقت کی صورت میں تعف بھی موقت ہی ہوگا۔ تکلیفِ تعفف کو کسی وقتِ معین کے ساتھ مقید و مخصوص کرنا بداہتِ عقل باطل ہے۔
کتبِ لغت، الہدایہ اور الصراح میں احصان کے معنیٰ چار قسم کے بیان کیے گئے ہیں: اسلام، حریت، عفت اور تزویج۔
اگر ان چاروں کے چاروں معانی کے اندر ممانعت کا مفہوم مضمر ہے، کیونکہ اسلام مانعِ معبودیتِ غیر اللہ ہے، اور حریت مانعِ حکومتِ غیر ہے، اور عفت مانعِ فسادِ الفرج ہے، اور تزویج مانعِ مجامعتِ ہمراہِ غیرِ شوہر ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ ان معانیِ مختلفہ میں کون سے معنیٰ آیتِ تحلیلِ نکاح کے مناسب ہیں احصان کے معنیٰ اسلام کے اس جگہ مناسب نہیں ہیں، کیونکہ اول تو اس آیت میں مخاطب ہی مسلمان ہیں، اور دوسرے اس آیت کے معنیٰ یہ ہوں گے کہ حلال کی گئی ہیں تمہارے لیے عورتیں اس حال میں کہ تم اسلام لانے والے ہو اور یہ بے معنیٰ محض ہے۔
حریت بھی مراد نہیں ہو سکتی، کیونکہ یہ آیت غلاموں کے لیے بھی نکاح کی اجازت دیتی ہے اب لا محالہ اس سے مراد یا تو عفت ہوگی یا تزویج۔ صورتِ اول میں یہ خرابی ہے کہ حال اور ذو الحال کا زمانہ واحد ہونا چاہیے، اور عفاف بعدِ نکاح حاصل ہوتا ہے، نہ مع النکاح علاوہ ازیں:
غَيۡرَ مُسَافِحِيۡنَ الخ۔
(سورۃ النساء: آیت 24)
کا حاصل بھی تو وہی تعف ہے، پس یہ تکرارِ لغو محض ہوئی۔
پس یہ تکرار لغو محض ہی ہے جب یہ تینوں معنیٰ خارج از بحث ہو گئے، تو لا محالہ چوتھے معنیٰ ہی شرعاً مراد ہیں لہٰذا آیتِ کریمہ کے معنیٰ یہ ہوئے کہ تمہارے لیے عورتیں حلال کی گئی ہیں بایں شرط کہ تم ان کو زوجہ بنانے والے اور اپنے لیے مختص کرنے والے ہو، نہ صرف اپنی مستی نکالنے والے اور اپنی وقتی حاجت پوری کرنے والے۔
اس معنیٰ کی تائید لفظ احصن سے بھی ہوتی ہے جو متذکرہ الصدر آیتِ کریمہ کے بعد والی آیت میں واقع ہے، جس میں احصان کے معنیٰ سوائے تزویج کے اور کچھ ہو ہی نہیں سکتے پس یہ لفظ آیتِ سابقہ کا مفسر و موضح ہے۔
نیز آیتِ کریمہ:
اِلَّا عَلٰٓى اَزۡوَاجِهِمۡ الخ۔(سورۃ المؤمنون: آیت 6)
حلتِ وطی ازواج کے ساتھ مخصوص کرنا مفیدِ معنیٰ تزویج ہے، بلکہ تحلیلِ نساء کو منحصر فی التزوج کرتا ہے۔
ایک اور طریقے سے بھی کتبی احصان کے معنیٰ تزویج ہی ثابت ہوتے ہیں۔ آیت:
فَانْكِحُوۡهُنَّ بِاِذۡنِ اَهۡلِهِنَّ وَاٰتُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ مُحۡصَنٰتٍ غَيۡرَ مُسٰفِحٰتٍ الخ۔
(سورۃ النساء: آیت 25)
میں نکاحِ مملوکہ کو بلفظ احصان تعبیر کیا گیا ہے، اور اسی پر آیت:
فَعَلَيۡهِنَّ نِصۡفُ مَا عَلَى الۡمُحۡصَنٰتِ مِنَ الۡعَذَابِ الخ۔(سورۃ النساء: آیت 25)
میں احکامِ حدود کو متفرع کیا گیا ہے اور یہ احکام بغیر نکاحِ موبد کے اور کسی پر بالاتفاق ثابت نہیں آتے بس حلتِ وطیِ حرائر کو آیتِ کریمہ:
وَاُحِلَّ لَـكُمۡ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمۡ الخ۔(سورۃ النساء: آیت 24)
میں اسی نکاح سے حل کرنا ضروری ہے۔