امر اول
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہچونکہ ان تمام امور میں شیعہ مدعی اور ہم مدعا علیہ ہیں کیونکہ مسند خلافتِ رسول اللہﷺ پر ہم قابض و متصرف رہے۔ شیعہ ہزار چیخ پکار کریں وہ زمانہ گزر چکا ان کو اب قبضہ و دخل ملنا محال ہے اس لیے بار ثبوت جملہ امور میں بذمہ شیعہ ہوگا اور ہمارے ذمہ اس کی تردید ہوگی۔
پہلے امر کے متعلق شیعہ کہتے ہیں کہ امام معصوم ہونا چاہیے۔ خلافت میں عصمت شرط نہیں ہے اس لیے امامت و خلافت دو علیحدہ علیحدہ امور ہیں، لیکن قرآن و حدیث اور اقوالِ ائمہ کرام اس کے برخلاف ہیں اور شیعہ کا یہ صرف دعویٰ ہی دعویٰ ہے اس کے متعلق ان کے ہاتھ میں کوئی ثبوت نہیں ہے۔
عصمت صرف انبیاء کرام علیہم السلام کا خاصہ ہے جو لوگ اماموں کی عصمت کے قائل ہیں وہ گویا شرک فی النبوۃ کرتے ہیں یہ بات از بس عجیب ہے کہ شیعہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کو تو متہم بالذنب کرتے ہوئے اُن کی عصمت پر حملہ کر دیتے ہیں لیکن اماموں کو معصوم سمجھتے ہیں۔
ببیں تفاوتِ راه کجاست تا بکجا
چنانچہ ابوالبشر اسبق الانبیاء حضرت آدم علیہ السلام کی نسبت ان کا اعتقاد ہے کہ ان میں تین اصولِ کفر میں سے دو موجود تھے چنانچہ اصولِ کافی: صفحہ، 517 میں ہے:
قَالَ أَبُو عَبْدِاللَّه عَلَيْهِ السَّلَامَ أُصُولُ الكُفْرِ ثَلَثَةٌ الْحِرْصُ وَالاسْتَكْبَارُ وَالْحَسُدُ فَامَّالْحِرْصُ فَإِنَّ آدَمَ حَيْنَ نُهِی مِنَ الشَّجَرَةِ حَمَلَهُ عَلَى إِنْ أَكَلَ مِنْهَا وَ أَمَّا الْإِسْتَكْبَارُ فَإِبْلِيسُ حيْثُ أُمِرَ بِالسُّجُودِ لادَمَ فَأَبَا فَأَمَّا الْحَسَدُ فَابْنَا آدَمَ حَيْتُ قَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ
ترجمہ: سیدنا جعفر صادقؒ نے فرمایا اصولِ کفر تین ہیں۔ حرص اور تکبر اور حسد۔ حرص تو آدم علیہ السلام نے کی جب درخت سے منع کیا گیا تو حرص پر برانگیختہ کیا اور تکبر شیطان نے کی جب آدم کے لیے سجدہ کا حکم ہوا اور وہ انکاری ہوا۔ حسد آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں نے کیا جب کہ ایک نے دوسرے کو قتل کیا۔
جائے غور ہے کہ شیعہ ابوالبشر آدم علیہ السلام کو ابلیس کے ہم پلہ بیان کرتے ہیں کہ اصولِ کفر سے ایک ابلیس کے حصے میں آیا یعنی تکبر۔ دوسرا آدم علیہ السلام کو نصیب ہوا یعنی حرص۔ شاباش! خلف رشید ہوں تو ایسے ہوں جو جدِ امجد (آدم) سے بھی نہ ملیں پھر دوسروں کو ان سے کیا شکایت ہو سکتی ہے؟ اس پر اکتفاء نہیں بلکہ شیعہ ابوالبشر کو ابلیس سے بھی بدتر قرار دیتے ہیں کہ ابلیس نے اصولِ کفر سے صرف تکبر کیا لیکن آدمؑ نے حرص کے علاوہ حسد بھی کیا یعنی اُن میں دو اصولِ کفر پائے گئے۔ لاحول ولا قوة
چنانچہ حیات القلوب: جلد اول، صفحہ 50 میں ہے کہ خدا نے آدم علیہ السلام کو ائمہ اہلِ بیتؓ پر حسد کرنے سے منع کیا اور کہا میرے نوروں کی طرف حسد کی نگاہ سے مت دیکھنا ورنہ تمہیں قربِ رحمت سے جدا کر دیا جائے گا اور بہت ذلیل ہو گے مگر آدم ان پر حسد کرنے سے باز نہ آیا اور اسی کی سزا میں جنت سے آدم و حوا ہر دو نکال کر باہر پھینکے گئے عبارت یوں ہے:
اے آدم و حوا انظر نکنید سوئے نور ہا و حجت ہائے من بدیدہ حسد پس شمارا پائیں می فرستم از جوار خود وبر شمامی فرستم خواری خود راپس وسوسہ کرد شیطان ایشان را و فریب داد و بریں داشت کہ آرزوئے منزلت آنها بکنید پس نظر کردند بسوئے ایشان بدیدہ حسد پس بایں نسبت ایشان را بخود نگزاشت و یاری و توفیق خود را از یشان برداشت۔ (انتہیٰ ملخصاً)
کوئی ان عقل کے دشمنوں سے پوچھے کہ اپنی اولاد کے حسن و جمال کو دیکھ کر انسان خوش ہوا کرتا ہے کہ اس پر حسد کیا کرتا ہے؟ غرض شیعہ نے اپنے جدِ اعلیٰ حضرت آدم علیہ السلام کا خوب حق ادا کیا کہ شیطان سے بھی بدتر بنا دیا۔ پس بہ ماؤ شماچہ می رسد؟ یہی نہیں بلکہ شیعہ کہتے ہیں انسانوں کی گنہگاری کا باعث ہی آدم علیہ السلام ہوئے ہیں وہ گناہ نہ کرتے تو کوئی بشر بھی گنہگار نہ ہوتا چنانچہ حیات القلوب: صفحہ 51 میں ہے:
بسند معتبر از حضرت امام محمد باقر منقول است کہ اگر آدم گناه نمی کرد ہیچ مومنے گناہ نمی کرد اگر حق تعالیٰ توبہ آدم را قبول نمی کرد توبہ ہیچ گنہگار سے را قبول نمی کرد۔
ترجمہ: معتبر سند سے سیدنا محمد باقرؒ سے مروی ہے کہ اگر آدم گناہ نہ کرتے تو ہرگز کوئی مؤمن گناہ نہ کرتا اور اگر حق تعالیٰ آدم کی توبہ قبول نہ کرتا تو کسی گناہ گار کی توبہ قبول نہ ہوتی۔
شیعہ صرف آدم علیہ السلام کی گنہگاری کے قائل نہیں بلکہ ان کا اعتقاد ہے کہ پیغمبری سے پہلے تمام پیغمبر صغیرہ گناہوں کے مرتکب ہو سکتے ہیں چنانچہ اسی کتاب حیات القلوب کے صفحہ 53 میں ہے:
و ایں از آدم پیش از پیغمبری بود و ایں نیز گناه بزرگے نہ بود کہ آں مستحق دخول آتش شود بلکہ از گناہ ہائے کوچک بخشنده شده بود کہ بر پیغمبران جائز است پیش از آنکہ وحی برایشان نازل شود۔
ترجمہ: یہ گناہ آدم کا پیغمبری سے پہلے کا ہے اور یہ گناہ کبیرہ نہ تھا جو کہ باعثِ دخولِ جہنم ہو بلکہ صغیرہ گناہوں سے تھا جو بخشے جاتے ہیں اور پیغمبروں کو صغیرہ گناہ کر لینا نزولِ وحی سے پہلے جائز ہے۔
واہ چہ خوش! امام تو پیدا ہوتے ہی معصوم ہوں اور ان کی پیدائش بھی بجائے رحم کے ران سے ہو تاکہ آلائشِ نجاست سے محفوظ ہوں لیکن پیغمبر وحی سے پہلے جو چاہیں کیا کریں بڑے بڑے گناہ نہ کریں چھوٹے چھوٹے بے شک کیا کریں۔
بریں عقل و دانش بباید گریست