حرمت متعہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ - ردِ رافضیت | دفاع…

حرمت متعہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 1 از 3

احادیثِ متذکرہ الصدر کو اگر تعمّقِ نظری سے دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ حضورِ اکرمﷺ نے متعہ کو حرام تو ابتداء ہی میں کر دیا تھا۔ لیکن جب بعض غزوات، خصوصاً غزوۂ فتح مکہ میں، آپ کے بعض اصحاب نے اپنی منکوحات سے لمبی جدائی کا شکوہ کیا اور رخصتی ہو جانے کی اجازت طلب کی، تو آپ نے مصلحتاً، جس طرح حالتِ اضطرار میں مُردار و خنزیر کھانے کی شرعاً اجازت ہے، اس حرام شدہ فعل کے ارتکاب کی وقتی اجازت دے دی تھی۔ 

چنانچہ جتنی روایات اوپر درج ہو چکی ہیں، ان سب میں یا تو رخصت کا لفظ ہے اور یا اذن کا اور یہ اس امر کی صاف دلیل ہے کہ متعہ اس وقت حرام تھا اور بغیر رسولِ کریمﷺ کی اجازت کے اس کا ارتکاب نا جائز تھا۔ چنانچہ آپ نے متعہ کی اجازت تو دے دی تھی، مگر حرمتِ سابقہ کو منسوخ نہیں کیا تھا، بلکہ اسے قائم رکھتے ہوئے اس کے برعکس عمل کی چند روزہ اجازت عطا فرمائی تھی اور پھر اس عارضی اجازت کے امکانِ اعادہ کو ہمیشہ کے لیے قطع کرنے کی خاطر ارشاد فرمایا تھا کہ اب متعہ ہمیشہ کے لیے حرام ہے، جیسا کہ سبُرہ بن معبد جُہنیؓ کی روایت سے ثابت ہوتا ہے۔

اس قسم کی وقتی اباحت سے بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جنہیں شیعہ صاحبان مجَوِّزینِ متعہ کے زمرے میں شمار کرتے ہیں، کو شبہات لاحق ہوئے کسی نے وقتی اباحت سے عمومِ اجازت سمجھ لیا، اور بعض لوگ، جن کی فی الجملہ نظر فائر تھی، وہ تو یہ سمجھے کہ متعہ حرام ہے اور اجازتِ نبوی حالتِ اضطرار میں تھی، مگر مثلِ حالتِ خنزیر اس کی حِلّت بھی دائمی ہے۔ حالانکہ یہ قیاس صحیح نہیں، کیونکہ واقعاتِ خاصہ مفیدِ عموم نہیں ہوتے۔

علاوہ ازیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو جس قسم کی ضرورتِ متعہ لاحق ہوئی، اس کی شدت اس سے ظاہر ہے کہ ان معذورین نے شدتِ غربت کے مقابلے پر اختہ ہو جانا راجح سمجھا آج کوئی مردِ میدان ہو کہ غلبہ شہوت کی تکلیف کے مقابلے میں اختہ ہو جانے پر خیار نظر آئے؟ البتہ اس سے نجات کی یہ صورت تھی کہ مضطرین کو مراجعتِ وطن کی اجازت دی جاتی مگر دیکھا یہ جاتا ہے کہ اس وقت اشاعتِ دین و حفظِ دین ایسا ضروری و مہتم بالشان امر تھا کہ ہر طرح کی تکلیفِ جانی و مالی پر بھی مراجعتِ وطن کا نہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو خیال آیا اور نہ حضورِ اکرمﷺ نے اس کا حکم دیا اور اختہ بننا اول تو خود ممنوع ہے، دوسرے قطعِ نسل اور تقلیلِ اہلِ اسلام کا باعث پھر اس کی اجازت ہوتی تو کیسے ہوتی؟ اور عورتیں بجز متعہ نکاح پر راضی نہیں تھیں۔

ایسی اضطراری حالت بعد میں جب مسلمانوں کو لاحق ہوئی تو فضلِ الٰہی سے، بعدِ فتحِ مکہ، مسلمانوں اور مجاہدوں کی کثرت ہو گئی۔ کما قال اللہ سبحانہ: 

اِذَا جَآءَ نَصۡرُ اللّٰهِ وَالۡفَتۡحُ ۞

(سورۃ النصر: آیت 1)

وَرَاَيۡتَ النَّاسَ يَدۡخُلُوۡنَ فِىۡ دِيۡنِ اللّٰهِ اَفۡوَاجًا ۞

(سورۃ النصر: آیت 2)

اور ان شاء اللہ ہمیشہ رہے گی پھر ایسی اضطراری حالت پر اختیاری و آسانی کی حالت کو قیاس کرنا کب صحیح ہو سکتا ہے؟

اس لیے مثلِ حالتِ مُردار و خنزیر، متعہ کی حِلّت دائمی نہیں ہو سکتی یہی وجہ ہے کہ جہاں کہیں حضورِ اقدسﷺ نے بقدرِ ضرورت اجازت دی ہے، فوراً ہی اس کی صراحتاً ممانعت بھی کر دی ہے، تاکہ کسی کو وقتی اجازت پر عمومِ اباحت کا شبہ نہ ہو جائے۔

شیعہ صاحبان نے احادیثِ متعہ کی تغلیط کی چند وجوہ بیان کی ہیں، جن کا سلسلہ وار یہاں ذکر کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔

وجہ اوّل:تطبیقِ روایات میں تکرارِ نسخ پیش کیا جاتا ہے، مگر تکرارِ نسخ غیر معقول ہے۔

جواب:مگر معترض صاحب کو شاید یہ معلوم نہیں کہ تحویلِ قبلہ کی کیا حالت رہی ہے۔ مکہ میں کعبہ قبلہ رہا، اور ہجرت کے بعد بیت المقدس بنا۔ چند ماہ بعد پھر کعبہ ہمیشہ کے لیے قبلہ ہو گیا۔ یہ تکرارِ نسخ تحویلِ قبلہ میں اگر معقول ہے، تو متعہ میں بھی معقول ہونا چاہیے۔

وجہ ثانی:تکرارِ اجازت سے بھی خوبیِ متعہ ثابت ہے، ورنہ مذموم فعل کی کبھی مکرر اجازت نہ ہوتی۔

جواب:تکرارِ اجازت تو ہرگز بھی مؤیّدِ تحسین نہیں، خواہ متعہ من الاصل مذموم ہو یا مستحسن بصورتِ اوّل جو وجہ پہلی اجازت کی ہے وہی دوسری کی، اور بصورتِ ثانی نہ پہلی ممانعت صحیح اور نہ دوسری۔ اگر تکرارِ اباحت ہو تب استحسانِ متعہ ہو، تو مضطر کے لیے بھی تکرارِ اباحتِ خنزیر و مُردار موجبِ حُسنِ خنزیر و مُردار ہوگا؟

وجہ ثالث:مقامِ تنسیخِ متعۃ النساء کے متعلق روایات متحد اللفظ نہیں ہیں کہیں خیبر، کہیں اوطاس، کہیں مکہ اور کہیں حنین مقامِ تنسیخ بتایا گیا ہے، جس سے لازماً یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ تنسیخ کی کہانی غلط ہے۔ (برہان المتعہ)

جواب اوّل: اجمالی:

جیسا کہ اوپر واضح ہو چکا، رخصتِ متعہ بحالتِ اضطرار عمل میں آئی اور پھر بعد میں اس اباحتِ اضطراری کو فوراً منسوخ بھی کیا گیا تو اگر یہ حالتِ اضطراری مختلف مقامات پر پیدا ہوتی رہی ہو تو کون سا تعجب کا مقام ہے؟ اور اس سے کس طرح تغلیطِ تنسیخ واقع ہوتی ہے؟ اور ایک سانحہ، خاص حالت کے ماتحت، ایک دفعہ اور ایک مقام پر واقع ہونے کی بجائے پانچ دفعہ اور پانچ مختلف مقامات پر واقع ہو جائے، تو اس سے اس سانحہ کے وقوع کی تغلیط کس طرح ثابت ہوتی ہے؟

جواب دوم: تفصیلی:

1: روایت خیبر:خیبر کے متعلق سیدنا علیؓ کی دو روایات ہیں۔ ایک مسلم کی اور دوسری ترمذی کی۔ مقدم الذکر کے الفاظ یہ ہیں: 

اِنَّ النَّبِیَّﷺ نَہٰی عَنْ نِکَاحِ الْمُتْعَۃِ یَوْمَ خَیْبَرَ وَعَنْ لُحُوْمِ الْحُمُرِ الْاَھْلِیَّۃ۔ 

اور مؤخر الذکر ان الفاظ میں مرقوم ہے: 

عَلِیًّا یَقُوْلُ لِابْنِ عَبَّاسٍ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِﷺ نَہٰی عَنْ مُتْعَۃِ النِّسَاءِ وَعَنْ لُحُوْمِ الْحُمُرِ الْاَھْلِیَّۃِ عَامَ خَیْبَر۔ 

ان روایات میں کہیں یہ الفاظ نہیں کہ کسی دوسرے مقام میں تحریمِ متعہ نہیں ہوئی اس لیے یہ دوسرے مقامات کی تحریم کے منافی نہیں ہو سکتی۔

صفحہ 1 از 3