مہدی آخر الزمان کے عقیدہ میں شیعہ علماء نے بھی بڑی بڑی ٹھوکریں کھائی ہیں آنحضرتﷺ کی بیان کردہ احادیث کے مطابق بعثتِ مہدی کا عقیدہ تو تیار ہو گیا لیکن وہ آنحضرتﷺ کی بیان کردہ 60 سے زائد علاماتِ مہدی کو اپنے مزعومہ امام مہدی پر منطبق نہ کر سکے انہیں یہ مشکل ہر دور میں پیش آئی وہ بڑی بڑی تاریخی کتب میں تحریف اور ابتدائی عقائد میں مختلف قسم کی تبدیلی کرنے میں تو کامیاب ہو گئے، جس کا ذکر عراق کے مفکر ڈاکٹر موسیٰ موسوی کی کتاب اصلاح الشیعہ میں موجود ہے لیکن وہ امام محمد مہدی آخر الزمان کے بارے میں اپنے عقائد اور نظریات نہ تو قرآن کی کسی آیت سے ثابت کر سکے، نہ ہی آنحضرتﷺ کی بیان کردہ امام مہدی کی علامات سے اپنے امامِ مذکور کی شناخت کرا سکے حتیٰ کہ خود سیدنا علیؓ، سیدنا حسنؓ، سیدنا حسینؓ کے کسی بھی قول، خطبے اور ان کے دعوے سے اپنے مزعومہ امام کی علامات اور اس کا اصلی تعارف پیش کر سکے۔ شیعہ صاحبان کی یہ مشکل کبھی حل ہوتی نظر نہیں آتی وہ جس دھوم دھڑکے اور زور شور سے اپنے مزعومہ امام کی آمد کا ذکر کرتے ہیں، پھر اپنے پورے مذہب کی بنیاد جس امام کے ظہور اور بعثت کو قرار دے رہے ہیں، اس کی ساری کہانی ایک طلسماتی اور کرشماتی تصور سے آگے نہیں بڑھ سکی حقائق و براہین کی دنیا میں شیعہ کے تمام مجتہدین اور عصرِ حاضر میں شیعہ کے تمام زعماء کو یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ اسلام اٹکل پچو اور قیاس آرائی کا مذہب نہیں ہے آپ دعویٰ تو اسلام کا کرتے ہو اور ایران کی حکومت بھی آج کل آپ کی مذہبی اقدار کی سب سے بڑی علمبردار بنی ہوئی ہے اگر حضرت امام محمد مہدی کے بارے میں آپ کے نظریات اسلام کے آئینہ دار ہیں تو خدا را ان کو آنحضرتﷺ کی بیان کردہ 60 علامات میں سے کسی کے ساتھ تو منطبق کیجیے سیدنا علیؓ کے مقدس ارشادات کے ساتھ تو اسے ملا کر دیکھیے آپ نے امام آخر الزمان کا جو تصور پیش کیا ہے، اس کے مطابق تو امام عراق کی ایک غار سر من رای میں پوشیدہ ہے اصولِ کافی کے مطابق اصلی قرآن بھی ان کے پاس ہے حتیٰ کہ انجیل، زبور، تورات، مصحفِ فاطمہ اور مصاحفِ جعفر وغیرہ کے اصلی نسخے بھی وہی اپنے ساتھ لے گئے ہیں 4 سال کی عمر میں ان کی غیبوبت کا عقیدہ رکھنے والوں کو یہ پریشانی بھی لاحق ہے کہ امام موصوف کے والد حضرت حسن عسکریؒ کے اہلِ خانہ کے مطابق ان کی کوئی نرینہ اولاد ہی نہیں تھی ان کی جائیداد کے لیے صرف ان کی بیوی اور ایک لڑکی کو چنا گیا۔