اعتراض - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اعتراض

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

یہ آیت فقط نکاحِ دائمی کے لیے نہیں ہے بلکہ نکاح اور متعہ دونوں پر مشتمل ہے کیونکہ متعہ بھی نکاح ہی ہے گو عارضی ہوتا ہے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے نکاحِ دائمی کا حکم: 

وَاُحِلَّ لَـكُمۡ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمۡ الخ۔

(سورۃ النساء: آیت 24)

میں فرمایا ہے اور نکاحِ منقطع کا آیت:

فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهٖ مِنۡهُنَّ الخ۔

(سورۃ النساء: آیت 24)

میں اور نیز چونکہ مہر عورتِ آزاد منکوحہ دائمی اور منقطع کا بہت ہوتا تھا جو اکثر لوگ بوجہ تنگدستی ادا کرنے کی استطاعت نہ رکھتے تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی آسانی کے لیے نکاحِ لونڈی کا دائمی و منقطع جائز فرما دیا۔

جواب: شیعوں کے اعتقاد کے مطابق اگر کوئی آیت اباحتِ متعہ میں نازل ہوئی ہے تو وہ آیت فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهٖ الخ۔

(سورۃ النساء: آیت 24)

ہی ہے اور اس آیت زیبِ عنوان میں نکاح کا لفظ متعہ پر استعمال نہیں کیا گیا اس لیے متعہ کو کھینچ تان کر نکاح کی تحت میں لانا قرآن سے استہزاء ہے اور اگر اس جگہ نکاح کو بقولِ شیعہ محیطِ متعہ تصور کیا جائے تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ اور جگہوں پر اس کے یہی معنیٰ نہ لیے جائیں۔ اگر آیت:

فَانْكِحُوۡا مَا طَابَ لَـكُمۡ الخ۔

(سورۃ النساء: آیت 3)

میں بھی نکاح محیطِ متعہ ہے تو چار ممتوعہ عورتوں سے زیادہ کے ساتھ عقدِ متعہ نا جائز ہونا چاہیے حالانکہ شیعہ عقائد کے مطابق ممتوعات کی تعداد لا انتہاء ہے۔ 

(تنبیہ المنکرین: صفحہ27)

اور نیز کتاب اعتقادات ابنِ بابویہ کے باب النکاح میں نکاح کو متعہ سے بالکل ہی علیحدہ ذریعہ حلتِ النساء سمجھا گیا ہے چنانچہ مرقوم ہے: اسبابِ حلّ المرأة عندنا اربعة النكاح و ملك اليمين والمتعة والتحليل۔  

ترجمہ: عورتوں کی حلت کے اسباب ہمارے نزدیک چار ہیں: نکاح، قبضہ ملکیت (لونڈیاں) متعہ اور تحلیل ہیں۔

اور پھر فروعِ کافی جلد 2 کتاب اول کے صفحہ 191 پر یہ روایت زرارہ بن اعین سے مروی ہے: 

قلت ما يحل من المتعة قال كم شئت۔  

ترجمہ: میں نے کہا متعہ کے عورتوں سے درست ہے تو امام صاحب نے فرمایا جس قدر سے کرنا چاہو۔

پس نتیجہ یہ نکلا کہ یا تو نکاح کا اطلاق متعہ پر نہیں ہوتا یا ممتوعات کی لا تعدادی محض عیاشی کی خاطر وضع کی گئی ہے صاحبِ عجالہ نافعہ اس نقیض کی اصلاح فرمائیں۔ 

اندریں صورت جب عقدِ متعہ میں ایک بھی شرطِ عقدِ نکاح کی نہیں پائی جاتی یعنی نہ قیدِ تعدادِ متزوجات، نہ طلاق و عدتِ شرعیہ، اور نہ نفقہ و وراثت تو پھر خواہ مخواہ اس پر نکاح کا اطلاق کرنا زید کی پگڑی بکر کے سر رکھنے والی بات نہیں تو کیا ہے۔ 

جس حالت میں زنِ ممتوعہ کا مہر کم از کم ایک مٹھی جو یا ایک کفِ طعام ہو سکتا ہے تو پھر یہ کہنا کہ مہرِ آزاد زنِ ممتوعہ کا زیادہ ہوتا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے نکاحِ دائمی یا منقطع ہمراہ لونڈی کے تنگ دستوں کی سہولت کے لیے جائز قرار دے دیا تھا کہ اس کا مہر مقابلے کم ہوتا ہے سراسر شاشیدان کے برابر ہے۔