میراث میں، نفقہ و طلاق زوجہ کو زوجہ ہونے کی حیثیت سے حاصل نہیں ہیں، بلکہ باعتبارِ رضامندی و تابعداریِ شوہر کے، اور نہ مخالف ہونے کے اس کے دین کے ہیں اس لیے اگر عورت کافرہ ہو جائے تو میراثِ شوہر کی نہیں پاتی، اور اگر شوہر کو ناراض رکھے تو اس کا نفقہ بھی شوہر سے ساقط ہو جاتا ہے، اور اگر مرتد ہو جائے تو بے طلاق کے بائن ہو جاتی ہے۔
جواب:میراث وغیرہم زوجہ کے شرعی حقوق ہیں جو بوجہِ قیدِ نکاح میں آنے کے اس کو حاصل ہوتے ہیں اور سوائے ان استثنائی موانعات کے وہ ان حقوق سے کبھی محروم نہیں ہو سکتی استثناء کو قاعدہ کلیہ کا ناسخ قرار دینا کچھ شیعہ دماغ ہی کا شیوہ ہو سکتا ہے اس مضمون کو دوسرے طریقے پر اس طرح ادا کیا جا سکتا ہے: اگر منکوحہ کافرہ بھی نہ ہو جائے اور شوہر کی نافرمانی بھی نہ کرے تو وہ یقیناً مؤخر الذکر حالت میں بصورتِ انکار منجانبِ شوہر، اور مقدم الذکر حالت میں بر وفاتِ شوہر، بذریعہ عدالت نان و نفقہ کا بھی لے سکتی ہے اور میراث بھی حاصل کر سکتی ہے لیکن اس کے برعکس اگر ممتوعہ مومنہ بھی رہے اور تابعداری بھی کرے، تب بھی اسے میراث و نفقہ کا حق حاصل نہیں ہوتا کیا ایک یومیہ اجرت پر کام کرنے والا مزدور اور سرکار کا پنشن آسامی کا مستقل ملازم دونوں مساوی الحیثیت ہو سکتے ہیں؟ مزدور کیسا ہی اچھا کام کرنے والا ہو، پینشن کا مستحق نہیں ہو سکتا، خواہ وہ تمام عمر یومیہ اجرت کے کام پر ایک ہی شخص کی خدمت میں بسر کر دے لیکن اس کے برعکس سرکاری ملازم یقیناً پنشن کا حقدار ہے، بشرط یہ کہ اس سے غیر معمولی طور پر کوئی ایسا فعل سرزد نہ ہو جائے جس کی وجہ سے وہ ملازمت سے بر طرف ہو کر اپنے حقوقِ پینشن ضائع کر دے
اسی طرح اگر پسرِ شرعی اپنے باپ کو قتل کر دے یا کافر ہو جائے تو وہ محروم الاوارث ہو جاتا ہے تو کیا اس کے یہ معنیٰ ہو سکتے ہیں کہ نسب سببِ توارث نہیں، بلکہ بیٹے کی فرمانبرداری اور دینداری سببِ توارث ہے؟
فرقانِ حمید تو ایسی لغو توجیہ کے لیے فرماتا ہے:
يُوۡصِيۡكُمُ اللّٰهُ فِىۡۤ اَوۡلَادِكُمۡ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ الۡاُنۡثَيَيۡنِ الخ۔
(سورۃ النساء: آیت 11)
ترجمہ: کے اللہ تعالیٰ تمہیں اولاد کے بارے میں حکم دیتا ہے کہ لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے۔
اب یہ فیصلہ کرنا اربابِ بصیرت کے لیے ہے کہ حکمِ خدا کو قطعی سمجھیں یا شیعہ توجیہ کو۔
خلاصہ یہ ہے کہ جب ممتوعہ کو بالاتفاق یہ حقوق حاصل نہیں، تو بوجہِ انتفاءِ احکام و لوازمِ زوجیت وہ زوجہ شرعی باقی نہیں رہی اور جب زوجہ نہیں رہی تو متعہ باطل ہو گیا۔