اگر متعہ کو محض اس لیے ناجائز تصور کیا جاتا ہے کہ اس کا مقصود فقط قضائے حاجتِ شہوانی ہے، نہ کہ اخذ ولد و تعظیمِ امورِ خانہ داری، تو جو لوگ نکاحِ دائمی بھی اسی غرض سے کرتے ہیں، ان کے نکاح اور متعہ میں کیا فرق ہے؟ اگر وہ جائز ہے تو متعہ بھی جائز ہونا چاہیے۔
(تنبیہ المنکرین و برہان المتعہ)
جواب:نکاح چونکہ ایک شرعی عمل ہے بموجب حکمِ اللہ تعالیٰ کے، اس لیے اگر عقدِ نکاح کے تمام مراسمِ ظاہریہ ادا کر دیے جائیں تو نکاح، خواہ کسی نیت سے کیا جائے، شرعاً جائز ہوگا۔
لیکن اگر فریقین نکاح کو ایسی نیتِ باطلہ دل میں مخفی رکھیں جو شرعی مقاصدِ نکاح کے مخالف ہو، تو وہ عند اللہ گنہگار ہوں گے لیکن ان کا یہ گناہ کسی صورت میں بھی نکاح کو باطل (میعادی نکاح کی مخفی نیت باوجود شخصی ارکان و شرائط عقد فاسد النکاح نہیں ہو سکتی چنانچہ باور مجلسی رسالہ فقہ کی کتاب النکاح میں لکھتے ہیں:
اگر ذکر ہت نشود متعہ نکاح و دائم میگرود بر قول شیخ ابو جعفر طوسی و شیخ ابو القاسم) یا فاسد نہیں کر سکتا۔
اصول یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی ایسی چیز کو جو بنفسہٖ جائز ہے، نا جائز نیت سے استعمال کرے، تو یہ نا جائز نیت اس جائز چیز کو نا جائز نہیں بنا سکتی۔
لیکن اس کے برعکس، اگر کوئی چیز بنفسہٖ نا جائز ہے تو خواہ اس پر اس کی ہم جنس جائز چیز کے تمام مراسمِ ظاہریہ استعمال کیے جائیں، مگر وہ چیز نا جائز سے جائز نہیں ہو سکتی مثلاً: خنزیر کو اگر تکبیر پڑھ کر ذبح کیا جائے تو خنزیر حرام ہی رہے گا۔
شرع چونکہ ظاہر ہے، اس لیے اگر ظاہری لوازماتِ شرعی کسی حلال چیز کے پورے کر دیئے جائیں تو وہ چیز جائز ہے باقی رہا سوال نیت کا، تو اس کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہے۔
علاوہ، اختلافِ متذکرہ الصدر اور عارضی نیت کے علاوہ، نکاح اور متعہ میں ایک اور بین فرق یہ ہے کہ:
1: اگر نکاح کے بعد مجامعت کرتے ہی عورت حاملہ ہو جائے تو، گو خاوند اسے فوراً ہی طلاق دے دے، پھر بھی اس کا بچہ اپنے باپ کی جائیداد کا شرعی وارث ہوگا۔
2: اور عورت وضعِ حمل تک نان و نفقہ کی حق دار ہوگی۔
3: نیز اگر نکاح کے بعد فریقینِ نکاح میں سے ایک فریق فوراً ہی فوت ہو جائے تو دوسرا فریق اس کی جائیداد کا وارث ہوگا۔
اور یہ دونوں باتیں عقدِ متعہ میں نہیں ہیں یعنی نہ تو ولد المتعہ اپنے باپ کی جائیداد کا وارث ہو سکتا ہے، اور نہ ہی فریقینِ متعہ ایک دوسرے کے وارث ہو سکتے ہیں۔
لیس بینھما میراث۔
(الکافی: جلد2 صفحہ197)
پس ظاہر ہے کہ نکاح کے مراسمِ ظاہریہ اگر مطابقِ احکامِ شرعی ادا ہو جائیں تو وہ نکاح کبھی زنا کے فہرست میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔
اگر اس کے برعکس متعہ کے مراسمِ ظاہریہ چونکہ بعینہ مطابقِ مراسمِ زنا کے ہوتے ہیں یعنی خرچی ہاتھ میں دی اور کھولتے کھولتے متعتک نفسی کا کلمہ ایک طرف سے اور قبلتُک کا کلمہ دوسری طرف سے کہہ کر کار روائی شروع کر دی جائے اس لیے متعہ زنا ہے پس نکاح اور متعہ کبھی ایک سطح پر آ سکتا ہے۔
دلیل ہفتم:فرقانِ حمید میں جس جس جگہ اللہ تعالیٰ نے نکاح کرنے کا حکم دیا، وہاں اس کے ساتھ ہی ادائیگیِ مہر کا حکم بھی دے رکھا ہے گویا نکاح اور مہر حکم کے دو لازم و ملزوم اجزاء ہیں۔ مثلاً:
1: فَانْكِحُوۡهُنَّ بِاِذۡنِ اَهۡلِهِنَّ وَاٰتُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ مُحۡصَنٰتٍ غَيۡرَ مُسٰفِحٰتٍ الخ۔
(سورۃ النساء: آیت 25)
2: اِنَّاۤ اَحۡلَلۡنَا لَـكَ اَزۡوَاجَكَ الّٰتِىۡۤ اٰتَيۡتَ اُجُوۡرَهُنَّ وَمَا مَلَـكَتۡ يَمِيۡنُكَ الخ۔(سورۃ الاحزاب: آیت 50)
3: وَالۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ الۡمُؤۡمِنٰتِ وَالۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡـكِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ اِذَاۤ اٰتَيۡتُمُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ الخ۔(سورۃ المائدة: آیت 5)
4: فَانْكِحُوۡا مَا طَابَ لَـكُمۡ مِّنَ النِّسَآءِ مَثۡنٰى وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ فَاِنۡ خِفۡتُمۡ اَلَّا تَعۡدِلُوۡا فَوَاحِدَةً اَوۡ مَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ ذٰلِكَ اَدۡنٰٓى اَلَّا تَعُوۡلُوۡا ۞(سورۃ النساء: آیت 3)
وَاٰتُواالنِّسَآءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحۡلَةً الخ۔
(سورۃ النساء: آیت 4)
اس لیے کوئی وجہ نہیں کہ ان آیات:
فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهٖ مِنۡهُنَّ الخ۔(سورۃ النساء: آیت 24)
کو حکم نکاح کا جزو اور متصلہ نسبت حکمِ ادائیگیِ مہر تصور نہ کریں، اور ایک علیحدہ حکم واسطے نکاحِ متعہ کا خیال کریں۔
اصولِ تفہیمِ قرآن کی روشنی میں اگر ان آیات کو پڑھا جائے تو آیت:
فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهٖ مِنۡهُنَّ الخ۔
(سورۃ النساء: آیت 24)
کو نکاحِ متعہ پر محمول کرنا، قرآن فہمی کو منہ چڑھانا ہے۔
اعتراض وارد جواب ثم نورد۔
دلیل ہشتم:
اگر اغراضِ بحث کی خاطر روافض کے اس اعتراض کو درست مان لیا جائے کہ یہ آیت فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهٖ الخ۔(سورۃ النساء: آیت 24)
خالصتاً حلتِ متعہ ہی کے متعلق ہے اور اسے نکاح و مہر سے کسی دور کا بھی تعلق نہیں ہے کیونکہ وہ اس آیت سے اس طرح استدلال کرتے ہیں کہ اس جگہ بمجرد ابتغاء بمال استمتاع مذکور ہے اور بعدِ استمتاع ادائیگیِ اجر کا حکم ہے پس یہ صورت چونکہ متعہ ہی میں متحقق ہے، کیونکہ عقدِ نکاح میں حاضریِ گواہان، ولی قبل از استمتاع بعد ابتغاء بمال لابدی ہے، اس لیے یہ آیت ہرگز عقدِ نکاح کے متعلق نہیں بلکہ عقدِ متعہ کے متعلق ہے۔
تو لازمی طور پر یہ سوال پیدا ہوگا کہ:
اگر مقاربت کے بعد اگر کوئی مرد اپنی عورت کو طلاق دے دے تو اسے کس قدر مہر ادا کرنا چاہیے؟ خصوصاً جب کہ رقمِ مہر بوقتِ نکاح معین ہو چکی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قبل از مقاربت طلاق دینے کی صورت میں:
فَنِصۡفُ مَا فَرَضۡتُمۡ الخ۔
(سورۃ البقرہ: آیت 237)
روافض قرآنِ کریم کو مصحفِ عثمانی سمجھ کر کم ہی پڑھا کرتے ہیں اس لیے میں انہیں یقین دلاتا ہوں کہ تمام کلامِ اللہ میں سوائے آیت:
فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهٖ الخ۔(سورۃ النساء: آیت 24)
کے حکم کے، کوئی اور آیت ان کو نہ ملے گی جو بعدِ مقاربت طلاق دینے کی صورت میں پورے مقررہ کردہ مہر کی ادائیگی کا حکم صریحاً:
فَاٰتُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ فَرِيۡضَةً الخ۔(سورۃ النساء: آیت 24)
کی صورت میں صادر فرما دے۔
روافض اگر اس آیت کو متعہ پر محمول کر کے حلتِ متعہ ثابت کرنے سے تو رہے، البتہ قرآن کے احکام نسبتِ ادائیگیِ مہر کو ناقص و نا مکمل ضرور ثابت کر دیں گے۔