اعتراض نمبر 3 - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اعتراض نمبر 3

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

چونکہ استمتاع کے حقیقی لغوی معنیٰ مطلق انتفاع ہیں، اس لیے اس سے وقاع کا اخذ کرنا مجاز ہے اور حقیقت کو چھوڑ کر مجاز سے متمسک ہونا نا جائز ہے۔

جواب:استمتاع سے وقاع کو مجاز کہنا عقل و فہم پر ستم کرنا ہے استمتاع بالنّساء کا فردِ کامل بلکہ فردِ مخصوص بجزِ وقاع کے اور کیا ہے جس کو حقیقت کہیں؟

بلکہ اگر اسْتَمْتَعْتُمْ کے صِلہ پر خیال کیجیے اور الباء للالصاق کا قاعدہ ملحوظ رکھیے، تو وقاع کی اور تعیین ہو جاتی ہے۔

بلکہ اگر وقاع کو استمتاع سے مجاز بھی کہیں، حالانکہ اسے مجاز کہنا یقیناً غلط ہے، البتہ مشترک معنوی ہو سکتا ہے تاہم قرینۂ الصاق موجبِ تعیینِ وقاع ثابت ہے اگرچہ قرائنِ عقلیہ کے ہوتے ہوئے قرائنِ لفظیہ کی ضرورت نہیں ہے۔

ایک طرف نکاح کے لیے محرمات وغیرہ کو بیان کیا جاتا ہے۔ آخر نکاح سے مقصود کیا ہے؟  

دوسری جانب: 

نِسَآؤُكُمۡ حَرۡثٌ لَّـكُمۡ الخ۔

(سورۃ البقرہ آیت 223)

ارشاد ہوتا ہے پس کوئی کاشت کار ایسا ہوا ہے جو بغیر جوتے ہوئے، صرف کھیت کو دیکھ کر پیداوار کا امیدوار رہا ہو۔ 

پھر نکاحِ حرائر کے بعد نکاحِ اماء کو بیان کر کے فرماتا ہے:

ذٰلِكَ لِمَنۡ خَشِىَ الۡعَنَتَ مِنۡكُمۡ‌ الخ۔

(سورۃ النساء: آیت 25)  

کہیں پانی کو دیکھنے سے پیاس بجھتی ہے؟ اور زوجہ کو دیکھنے سے شبق کا علاج ہوتا ہے۔