اعتراض نمبر 3 - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اعتراض نمبر 3

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

اہلِ سنت کی کتابوں میں زنِ ممتوعہ کو زوجہ اور منکوحہ بیان کیا ہے۔ 

بخاری میں لکھا ہے: 

تَزَوَّجْنَا للواۃ بالثوب إِلَی أَجَلٍ۔

ترجمہ: زوجہ بناتے تھے ہم عورت کے ساتھ کپڑے کے مدت معین تک۔

اور تاریخِ طبری (یہ دراصل شیعوں کی کتاب ہے) (بندہ) میں لکھا ہے: 

تَزَوَّجَ الزُّبَیرُ أَسمَاءَ نِکَاحَ المُتْعَۃِ۔

ترجمہ: زوجہ کیا زبیر نے اسماء کو نکاحِ متعہ کے ساتھ۔

پس پہلی حدیث سے زنِ ممتوعہ کا زوجہ ہونا ثابت ہوا، اور دوسری حدیث سے منکوحہ ہونا ثابت ہوا۔ 

(تنبیہ المنکرین)

جواب:

معترض یقیناً عقل کا دشمن ہی ہے ورنہ بے وقوف بھی سمجھ سکتا ہے کہ یہ الفاظ کا بمعنیٰ مجاز استعمال ہوئے ہیں، نہ بمعنیٰ حقیقت اگر ان کا استعمال بمعنیٰ حقیقت تصور کیا جائے، تو الکافی جلد 2، کتاب اول، صفحہ 234 پر جو یہ احادیث بزبانِ ائمہ کرام درج ہیں:  

کیا ان کی رو سے مشت زنی اور حیوان بازی میں بھی نکاح بمعنیٰ حقیقت ہیں؟

کیا معترض صاحب ازراہِ کرم بتلا سکتے ہیں کہ مشت زنی میں کون صدر المفسرین اور حیوان بازی میں کون زبدۃ الواعظین صیغہ نکاح پڑھاتے ہیں؟