اعتراض نمبر 2 - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اعتراض نمبر 2

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

اگر استمتاع کے معنیٰ عقدِ متعہ کے نہ ہوں تو لامحالہ یا تو اس کے معنیٰ مجامعت کے ہوں گے یا نکاح دائم کے بصورتِ اول مجامعت پر خاوند کے ذمہ کچھ بھی مہر دینا واجب نہ ہونا چاہیے، حالانکہ نصف مہر بعد طلاق قبل از خلوت واجب ہے اور بصورتِ ثانی کل مہر بنفس عقد نکاح واجب ہونا چاہیے، حالانکہ بمجرد عقدِ نکاح کل مہر کا دینا کسی طرح بھی واجب نہیں ہے۔ 

(تفسیر مجمع البیان، برہان المتعہ، تنبیہ المنکرین)

جواب: ہم تسلیم کرتے ہیں کہ استمتاع سے وقاع (مجامعت) مراد ہے اور یہ نکاح دائم پر متفرع ہے۔ مگر اس کو تسلیم نہیں کرتے کہ عدمِ وقاع کی صورت میں طلاق قبل از خلوت سے مہر بھی لازم نہ آئے گا آخر اس عدمِ لزوم کی دلیل کیا ہے؟ حالانکہ ارشاد خداوندی ہے: 

وَاِنۡ طَلَّقۡتُمُوۡهُنَّ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَمَسُّوۡهُنَّ وَقَدۡ فَرَضۡتُمۡ لَهُنَّ فَرِيۡضَةً فَنِصۡفُ مَا فَرَضۡتُمۡ الخ۔

(سورۃ البقرہ: آیت 237)

اور صورتِ ثانی ہم نے کبھی تسلیم ہی نہیں کی۔ ہمارا تو دعویٰ ہی یہی ہے کہ استمتاع کے معنیٰ وقاع یا خلوتِ صحیحہ کے ہیں اس لیے کہ قید نکاح تو خود مُّحۡصِنِيۡنَ سے ثابت ہے کیونکہ اگر تحلیل مَّا وَرَآءَ محرماتِ ابدیہ میں شرطِ نکاح ملحوظ نہیں تو بلا نکاح کے نفسِ تحریم میں محرماتِ ابدیہ و غیر ابدیہ سب برابر ہیں پس نکاح کی حلت کے کوئی معنیٰ نہیں تو اب نکاح پر احکامِ نکاح کی تفریع صحیح ہوگی، جس کے لیے لفظ "ف" موضوع ہے۔

اگر عقد نکاح مراد ہو جیساکہ شیعہ قائل ہیں تو تفریع بے سود اور بالکل بے معنیٰ ہو جائے گی، کیونکہ تفریع میں متفرع علیہ کے ساتھ تعلق اور مغائرت ضروری ہے حالانکہ نکاح کی قید پہلے ہی معلوم ہو چکی تھی پس نکاح پر تفریع نکاح کے کوئی معنیٰ نہیں ورنہ وحدت متفرع اور متفرع علیہ لازم آئے گی تَعقیب الشَّیءِ عَن نَفْسِهِ بھی باطل ہے اور عقدِ متعہ ہونے کی صورت میں ما بعد حرف "ف" کو ما قبل سے کوئی تعلق نہیں رہتا۔

نوٹ:اس طرح اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ خلوتِ صحیحہ کس دلیل سے وقاع کی مترادف تصور کی گئی ہے؟ سو اس کا جواب یہ ہے: خلوتِ صحیحہ کے بعد عورت کی طرف سے تسلیم متحقق ہو جاتی ہے۔ اب عدمِ وقاع میں اگر قصور ہے تو زوج کا ہی مطابق لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى‌ الخ۔ (سورۃ الانعام: آیت 164) زوج کے قصور کی وجہ سے غریب زوجہ کیوں نقصان اٹھائے؟ بائع اگر بیع کو مشتری کے حوالہ کر دے تو اس سے نفع اٹھانا اور اس کو استعمال میں لانا مشتری کا کام ہے اس کے عدمِ استعمال سے بائع کیوں بدلِ مبیع سے محروم کیا جائے؟

اور چونکہ بعد خلوتِ صحیحہ تحقیق وقاع عادةً کثیر الوقوع ہے، اور نیز منجملہ دواعی وطی کے اقرب الی الوطی ہے، اس کو قائم مقام وطی کر دیا گیا۔ اور داعی وطی کا قائم مقام ہونا قرآنِ مجید سے بھی مفہوم ہوتا ہے: 

وَاِنۡ طَلَّقۡتُمُوۡهُنَّ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَمَسُّوۡهُنَّ الخ۔

(سورۃ البقرہ: آیت 237)

اس آیت میں وطی و داعی وطی کو مس کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے، حالانکہ مس کے معنیٰ بھی جماع کے نہیں ہیں۔

علاوہ اس کے شرطیہ وقاع کی صورت میں کوئی شریر النفس خلوت میں اپنا کام نکال کر مہر دینے کے ڈر سے انکار کر سکتا ہے، لیکن اس کے برعکس خلوتِ صحیحہ کی صورت میں اس کا انکار بوجہ شہادت و روایتِ اغیار قابلِ اعتبار نہیں ہو سکتا۔

اعتراض نمبر 2: سے لغو اعتراض آج تک دیکھنے سننے میں نہیں آیا یہ اعتراض تو بعینہ ایسا ہے جیسے کوئی اس قانون سے کہ جو کوئی قتل عمداً کرے گا اس کو پھانسی کی سزا دی جائے گی یہ نتیجہ اخذ کرے کہ قتلِ عمد نہ کرنے والے کو کوئی سزا نہیں دی جائے گی حالانکہ قتلِ عمد نہ کرنے والوں میں ضارب الشدید بھی ہو سکتے ہیں جن کے لیے جداگانہ سزائیں مقرر ہیں۔

معلوم ہوتا ہے کہ متعرض صاحبان کو شرع تو شرع، ہندوستان کے دیوانی قانون معاہدات سے بھی مطلقاً مس نہیں ہے معاہدہ کے تین مراحل ہیں: اقرار، تکمیلِ معاہدہ، تعمیلِ معاہدہ۔

اقرار قابلِ مواخذہ نہیں، کیونکہ اس میں فریقِ اول کی طرف سے ایجاب تو ہوتا ہے مگر فریقِ ثانی کی طرف سے قبولیت ہی نہیں ہوتی تکمیلِ معاہدہ میں ایجاب بھی ہوتا ہے اور قبول بھی، لیکن فریقین کی طرف سے اپنے مقرر فرائض کی ادائیگی پر فریقین میں سے کم از کم ایک فریق عمل پیرا ہو جاتا ہے یہ مقدم الذکر صورت میں اندیشہ نقصان کم اور مؤخر الذکر کی صورت میں اندیشہ نقصان زیادہ ہوتا ہے اس لیے اگر کوئی شخص معاہدہ کی تکمیل کے بعد اس کو فسخ کر دے تو کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ منسوخ کنندہ معاہدہ بطورِ ہرجانہ کچھ ادا کیوں نہ کرے۔

چنانچہ باری تعالیٰ نے تکمیلِ معاہدہ نکاح کے بعد تنسیخ کا ہرجانہ: 

فَنِصۡفُ مَا فَرَضۡتُمۡ الخ۔

(سورۃ البقرہ: آیت 237)

فرمایا ہے، اور تعمیلِ معاہدہ نکاح کے بعد تنسیخ کا ہرجانہ:

فَاٰتُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ فَرِيۡضَةً‌ الخ

(سورۃ النساء: آیت 24)

مقرر کیا ہے طلاق قبل از خلوت کی صورت میں چونکہ عورت کی محض عفت ریزی ہوتی ہے اس لیے نصف مہر کی سزا مقرر ہے، لیکن مجامعت کے ساتھ چونکہ عصمت دری وقوع پذیر ہوتی ہے اس لیے کامل مہر کی سزا کا حکم دیا جاتا ہے۔