بعض جہلاء اعتراض کرتے ہیں کہ امام بخاری رحمۃاللہ علیہ نے صحیح بخاری میں صحابہ کرامؓ کی فضیلت کے باب میں فضائل یا مناقب کا لفظ لکھا ہے جیسے:
باب فضل ابی بكر بعد النّبی صلى اللّٰه عليه وسلّم
باب مناقب عمر بن الخطّاب رضی اللّٰه عنه
باب مناقب عثمان بن عفان رضی اللّٰه عنه
باب مناقب علی بن ابی طالب رضی اللّٰه عنه
باب فضل عائشة رضی اللّٰه عنهاوغیرہ
لیکن جب سیدنا امیر معاویہؓ کے متعلق باب باندھا تو فضائل کے بجائے باب ذكر معاوية رضی اللّٰه عنه لکھا اور باب فضائل یا باب مناقب معاویہ رضی اللہ عنہ نہیں لکھا۔ کیونکہ ان کی کوئی فضیلت نہیں۔
یہ اعتراض سراسر جہالت اور تعصب پر مبنی ہے کیونکہ فضائل کے ابواب میں امام بخاری رحمۃاللہ علیہ کا اپنا ایک انداز ہے وہ کسی پر فضل کا لفظ لکھتے ہیں جیسے:
باب فضل ابی بكر بعد النبی صلى اللّٰه عليه وسلّم
کسی پر مناقب کا لفظ لکھتے ہیں جیسے:
باب مناقب علی بن ابی طالب رضی اللّٰه عنهُ
اور کسی صحابی پر ذکر کا لفظ لکھتے ہیں جیسے:
باب ذكر معاوية رضی اللّٰه عنه
ان تینوں لفظوں سے مراد فضیلت ہی ہوتی ہے کیونکہ امام بخاریؒ نے یہ ابواب صحیح بخاری کے كتاب فضائل الصحابة میں لکھے ہیں۔
اور ذکر کا لفظ صرف سیدنا امیر معاویہؓ کے لیے نہیں بلکہ دوسرے صحابہ جیسے رسول اللہﷺ کے چچا و اہل بیت سیدنا عباس اور ان کے بیٹے سیدنا عبداللہ بن عباس، سیدنا طلحہ، سیدنا اسامہ بن زید، سیدنا مصعب بن عمیر، دامادِ رسول سیدنا ابوالعاص رضی اللہ عنہم اجمعین کے متعلق بھی امام بخاریؒ نے ذکر ہی کا لفظ لکھا ہے ملاحظہ کریں:
باب ذكر العبّاس بن عبد المطّلب رضی اللّٰه عنه
باب ذكر طلحة بن عبيد اللّٰه عنه
باب ذكر اصهار النّبی صلّى اللّٰه عليه وسلم منهم ابو العاص بن الرّبیع
باب ذكر اسامة بن زيد
باب ذكر مصعب بن عمير
باب ذكر ابن عبّاس رضی اللّٰه عنهما
(رضی اللہ عنہم اجمعین)
ذکر سے مراد ذکرِ خیر یعنی فضائل و مناقب ہی مراد ہوتا ہے۔ لیکن جب آنکھوں پر تعصب کی کالی پٹی بندھی ہوئی ہو تو کچھ نظر نہیں آتا۔ جاہلوں کو سیدنا امیر معاویہؓ کے نام کے آگے فضل یا مناقب کے بجائے ذکر کا لفظ تو نظر آگیا لیکن دوسرے صحابہ کرامؓ کے متعلق ذکر کا لفظ نظر نہیں آیا۔ واہ
اللہ تعالٰی ہمیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے خلاف پروپیگنڈہ سے اپنی پناہ میں رکھے۔
آمین۔