کیا آیت تطہیر میں اہل بیت کے لئے ارادہ عصمت بیان ہوا ہے؟ -…

کیا آیت تطہیر میں اہل بیت کے لئے ارادہ عصمت بیان ہوا ہے؟

  جعفر صادق

صفحہ 1 از 2

 سُنی و شیعہ مکالمہ میں دوران گفتگو شیعہ نے آیت تطہیر سے اہل بیت (سیدہ فاطمہ، سیدنا علی اور حسنین کریمین) کا معصوم ہونا ثابت کرنے کی کوشش کی۔ اہل سنت کی طرف سے چند اہم اشکالات اور سوالات پوچھے گئے جو یہاں شامل کئے جا رہے ہیں۔


سید شاھ صاحب۔۔۔ آپ سے صرف ایک سادہ سا سوال ہے۔ براہ مہربانی غور و فکر کر کے اطمینان سے جواب دیجئے گا۔

آپ نے ابھی جو آرٹیکل کاپی پیسٹ کیا ہے۔ اس کے مطابق آیت تطھیر پنج تن پاک کی شان میں نازل ہوئی ہے اور اس آیت کے مطابق  اللہ پاک یہ ارادہ فرما رہے ہیں کہ اھل بیت کو گناھوں سے دور کر کے مکمل پاک و صاف کیا جائے۔۔۔  یعنی اس آیت کا صاف مطلب یہ نکلتا ہے کہ آیت تطھیر کے نزول سے پہلے حضرت علی ، سیدہ فاطمہ اور حسنین کریمین گناھوں سے دور نہیں تھے یا آسان لفظوں میں معصوم نہیں تھے ، اور جب یہ آیت تطھیر نازل ہوئی تو اس کے بعد وہ سب ہستیاں معصوم ہوگئیں۔۔!!  امید ہے کہ اس نکتے پر غور و فکر کرنے کے بعد کوئی اطمینان بخش جواب عنایت کریں گے۔ شکریہ۔


 یہ ایک بڑی عجیب سے بات ہے کہ آپ لوگوں کے عقیدے کے مطابق سب معصومین اپنے اپنے پیدائش کے دن سے ہی معصوم ہوتے ہیں۔۔۔!! 

پھر کیا وجہ ہے کہ قرآن مجید میں اللہ عزوجل آیت تطھیر میں پنج تن پاک سے گناھہ دور کر کے انہیں پاک صاف کرنے کا ارادہ فرما رہے ہیں۔۔۔!!! 

کیا نعوذبااللہ۔۔۔ اللہ عزوجل کو بھی یہ پتہ نہیں ہے کہ جن کی شان میں یہ آیت سورت الاحزاب33 (بلکہ پوری آیت بھی نہیں) نازل ہو رہی ہے اور جن کے لیئے اس ارادے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ ان سب سے نجاست دور کی جائیگی ، انہیں پاک کیا جائیگا ۔۔۔انہیں معصوم کیا جائیگا۔۔۔۔   وہ سب ہستیاں تو پیدائشی معصوم ہیں ، پاک صاف ہیں ، گناھوں سے بھی دور ہیں۔۔۔!!!


 محترم شاھہ صاحب... آپ کے ہی آرٹیکل سے آیت تطھیر کا ترجمہ پیش کر رہا ہوں.

انّما یرید اللہ لیذہب عنکم الرجس اہل البیت ویطہرکم تطہیراً ۔

الاحزاب /٣٣

' 'خدا یہ چاہتا ہے کہ اے اہل بیت رسول !تم سے ہر برائی کو دور رکھے اور اس طرح پاک و پاکیزہ رکھے جو پاک وپاکیزہ رکھنے کا حق ہے۔ ' '

اس ترجمے کے مطابق اللہ عزوجل اپنی خواھش کا اظہار فرما رہے ہیں. اگر اھل بیت پہلے سے گناھوں سے دور ہوتے تو آیت کچھہ اس طرح ہوتی.

"اللہ نے اے اھل بیت رسول! تم سے ہر برائی کو دور کردیا اور تمہیں ایسا پاک و پاکیزہ رکھا جیسا پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے.‌"

لیکن محترم... آیت تطھیر اس طرح نہیں ہے. انما یریداللہ کےمطلب پر غور کریں. آیت تطھیر ارادہ الاھی بیان کر رہی ہے. عطاء الاھی ہوتا تو الفاظ کچھہ اور ہوتے. 

اب ذرا آپ کے پیش کیئے گئے حدیث کسا کے ترجمہ پر بھی غور کرلیں..

جب حضرت پیغمبر اکرم (ص) پر وحی[یعنی آیت کریمہ]نازل ہوئی تو 

آپنے حضرت علی -، فاطمہ = اور ان کے بیٹوں [حسن- و حسین-] کو کسائ[چادر]کے اندر داخل کیا،پھر خدا سے دعا کی :پروردگارا!یہ میرے گھر والے ہیں،یہ میرے اہل بیت ہیں،ان کو ہر برائی سے دور رکھ۔

 آیت تطھیر میں لفظ اھل بیت کا مصداق حضرت علی ، سیدہ فاطمہ اور حسنین کریمین ہوتے تو اس آیت کے نازل ہوتے ہی نبیﷺ کی دعا کے الفاظ کچھہ اس طرح ہوتے..

"پروردگار! تیرا شکر ہے. تو نے میرے اھل بیت کو ہر برائی سے دور رکھا ، انہیں پاک و پاکیزہ رکھا...!!"

لیکن محترم ... ایسا نہیں ہوا. احادیث کے مطابق نبیﷺ نے اس قسم کے الفاظ ادا نہیں فرماۓ. بلکہ نبیﷺ نے چادر اوڑھا کر یہ فرمایا کہ "پروردگار!  یہ میرے اھل بیت ہیں.ان کو ہر برائی سے دور رکھہ"

 اگر آیت تطھیر واقعی ان کے متعلق ہوتی تو آیت کا نزول ہوتے ہی ، اللہ عزوجل کا اھل بیت کے متعلق ارادہ معلوم ہونے کے باوجود،  دوبارہ سے وہی دعا ، وہی الفاظ دھرانا نبیﷺ کے لیئے قطعی طور پر مناسب نہیں تھا. 


شاھ صاحب۔۔ آپ نے میرے نکتے پر غور نہیں کیا۔۔۔!! اچھا یہ بتائیں کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت ام سلمہ کو یہ کیوں نہیں فرمایا کہ تم اھل بیت میں سے نہیں ہو۔۔۔!!  ظاھر سی بات ہے بقول آپ کے ازواج تو اھل بیت میں داخل ہی نہیں ہیں۔۔۔ تو جب حضرت ام سلمہ نے چادر میں داخل ہونا چاھا تو نبی کریم ﷺ کو بتانا چاھیئے تھا کہ یہ ممکن نہیں ہے۔ اھل بیت تو صرف یہ لوگ ہی ہیں ان کے سوا کوئی اور نہیں ہو سکتا۔۔۔۔!!  لیکن محترم بھائی۔۔۔۔ ایسا نہیں ہوا۔۔۔ جب حضرت ام سلمہ نے اپنے داخل کرنے کی خواھش کی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا

"انت علی مکانک انت علی خیر"

یعنی تم اپنی جگہ پر رہو، تم تو اس سے اچھی حالت میں ہو۔۔ مطلب یہ ہوا کہ تم تو حقیقتن لفظ اھل بیت سے مراد ہی ہو۔ تمہارے داخل کرنے کی اور تمہارے لئے دعا مانگنے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔۔ اور بھائی صاحب۔۔۔ذرا سمجھنے کی کوشش کریں۔۔۔ اگر آیت کریمہ میں لفظ اھل بیت سے مراد حضرت علی ، سیدہ فاطمہ اور حسنین کریمین  مراد ہوتے تو نبی کریم ﷺ دعا کیوں مانگتے۔۔۔۔!!  کیا اللہ تعالی کو معلوم نہ تھا کہ اھل بیت کون لوگ ہیں۔۔۔!! اور نبی کریم ﷺ کو نزول آیت کے بعد یہ بتانا پڑا کہ "پروردگار!یہ لوگ میرے اھل بیت ہیں۔۔۔!!"  انصاف سے دیکھا جائے تو یہ حدیث خود بتا رہی ہے کہ یہ چاروں ہستیاں اھل بیت میں داخل نہیں تھیں۔ نبی کریم ﷺ نے آیت تطھیر کے نزول ہوتے ہی فورن چادر اوڑھا کر اللہ عزوجل سے دعا کی اور وہی قرآنی الفاظ دعا میں شامل کرتے ہوئے ان سب ہستیوں کو اھل بیت میں داخل کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک سب علماء ، محقق ، محدثین اس بات پر متفق ہیں کہ حقیقتن اھل بیت ازواج مطہرات ہیں اور حکمن یہ ہستیاں بھی اھل بیت میں داخل ہیں۔


  رفیق صاحب۔۔۔  آپ نے اپنے جوابات میں کئی بار یہ دعوی کیا ہے کہ آیت تطھیر  اھل بیت ( یعنی پنج تن پاک)  کی عصمت پر دلیل قطعی ہے۔ جبکہ ازواج مطہرات معصوم نہیں تھیں ، اس لیئے آیت تطھیر کی مصداق ازواج مطہرات کیسے ہو سکتی ہیں۔۔۔!!!  کل میں آپ کی اس دعوی کے پس منظر میں کچھہ اھم سوال پیش کروں گا۔  امید ہے کہ آپ لوگ غور و فکر کر کے جوابات عنایت کریں گے۔

 


  محترم۔۔۔۔آپ  ازواج مطہرات کو کس طرح خارج کر رہے ہیں۔ ؟؟ کہاں یہ لکھا ہے  کہ ازواج مطہرات اھل بیت میں شامل نہیں ہیں۔۔۔!!! انما ارادے کی مضبوطی ظاھر کرتا ہے۔ انما سے عصمت کا استدلال کیسے لے رہے ہیں۔۔۔؟؟؟


صفحہ 1 از 2