جب ہم قرآن سے مسئلہ زیرِ بحث کے متعلق استفتاء کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ سب سے اول اللہ تعالیٰ نے نکاح کا حکم سورۃ النساء کے شروع میں اس لفظ سے صادر فرمایا ہے:
فَانْكِحُوۡا مَا طَابَ لَـكُمۡ مِّنَ النِّسَآءِ مَثۡنٰى وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ فَاِنۡ خِفۡتُمۡ اَلَّا تَعۡدِلُوۡا فَوَاحِدَةً اَوۡ مَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ ذٰلِكَ اَدۡنٰٓى اَلَّا تَعُوۡلُوۡا ۞
(سورۃ النساء: آیت 3)
وَاٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحۡلَةً الخ۔
(سورۃ النساء: آیت 4)
ترجمہ: بس نکاح کرو جو عورتوں میں سے تمہیں پسند آئے دو، تین تین، چار پھر اگر تم کو اندیشہ ہو کہ ایک سے زیادہ بیبیاں نکاح کرنے کی صورت میں تم انصاف نہیں کر سکو گے تو بس ایک ہی عورت سے نکاح کرنا، یا جو لونڈی تمہارے قبضہ میں ہو اس پر قناعت کرنا۔ نا انصافی سے بچنے کے لیے یہ تدبیر زیادہ تر قرین مصلحت ہے۔ اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دے ڈالو۔
یہ آیت پڑھ کر ذیل کے سوالات قدرتاً دل میں پیدا ہوتے ہیں:
1: کیا دنیا بھر میں جو آزاد عورتیں ہیں خواہ وہ ہماری رشتہ دار ہیں یا غیر رشتہ دار ان سب میں سے بلا قید ہمیں نکاح کے لیے انتخاب کا حق حاصل ہے یا ان میں بعض ہمارے حدود انتخاب سے خارج ہیں؟
2: مہر دینا کب لازم آتا ہے اور کس قدر؟
سوال نمبر 1: کی نسبت حق تعالیٰ قبیل "تخصیص بعد تعمیم" صریح آیات کے ذریعہ ان عورتوں کا ذکر تفصیلاً کر دیتا ہے جن سے ہم نکاح کر سکتے ہیں:
حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمۡ اُمَّهٰتُكُمۡ وَبَنٰتُكُمۡ الخ۔
(سورۃ النساء: آیت 23)
وَاُحِلَّ لَـكُمۡ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمۡ اَنۡ تَبۡتَـغُوۡا بِاَمۡوَالِكُمۡ مُّحۡصِنِيۡنَ غَيۡرَ مُسَافِحِيۡنَ الخ۔
(سورۃ النساء: آیت 24)
ترجمہ: حرام کر دی ہیں اللہ تعالیٰ نے تمہاری مائیں، تمہاری بیٹیاں وغیرہ۔ اور ان حرام شدہ عورتوں کے علاوہ سب عورتیں تم پر واسطے نکاح کے حلال ہیں بشرط یہ کہ ان کو مال خرچ کر کے حاصل کرو اور احسان کرنے والے ہو نہ کہ سفاح کرنے والے، یعنی قید نکاح میں لانے کے لیے تم پر حلال ہے نہ کہ ان کے ساتھ محض شہوت رانی کرو۔
پس سوال اول کا جواب یہ ہے کہ ان حرام شدہ عورتوں کے علاوہ زمانہ بھر کی آزاد عورتیں ہم پر حلال ہیں اور ہم ان سے شرعی طور پر نکاح کر سکتے ہیں۔
سوال نمبر 2: کا جواب بھی از قبیل "تخصیص بعد تعمیم" اللہ تعالیٰ سورۃ النساء اور سورۃ البقرہ میں علی الترتیب اس طرح دیتا ہے:
فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهٖ مِنۡهُنَّ فَاٰتُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ فَرِيۡضَةً الخ۔
(سورۃ النساء: آیت 24)
ترجمہ: پس جب تم اپنی (منکوحات سے) فائدہ اٹھا لو یعنی مقاربت حاصل کر لو، تو ان کے مقرر کردہ مہر پورے کے پورے ادا کرو۔
نیز: وقولہ وَاِنۡ طَلَّقۡتُمُوۡهُنَّ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَمَسُّوۡهُنَّ وَقَدۡ فَرَضۡتُمۡ لَهُنَّ فَرِيۡضَةً فَنِصۡفُ مَا فَرَضۡتُمۡ الخ۔
(سورۃ البقرہ: آیت 237)
ترجمہ: اور اگر منکوحہ عورتوں کو ان سے مقاربت کیے بغیر طلاق دے دو تو ان کا مہر مقرر ہو چکا ہے تو اس سے نصف ادا کر دو۔ لیکن اگر صورت ایسی ہے کہ کوئی مہر بین فریقین مقرر نہیں ہوا تھا تو پھر حکم ہے:
عَلَى الۡمُوۡسِعِ قَدَرُهٗ وَ عَلَى الۡمُقۡتِرِ قَدَرُهٗ الخ۔
(سورۃ البقرہ: آیت 236)
ترجمہ: مرد اپنی حیثیت کے موافق کچھ دے دے۔
مذکورہ بالا دونوں سوالوں اور ان کے جوابوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے حاصلِ کلام یہ ہوتا ہے کہ لونڈیوں کے علاوہ دنیا بھر کی آزاد عورتیں (ماسوائے ان کے جو ہم پر حرام کی گئی ہیں) ہم پر نکاح کے لیے حلال ہیں اور ان حلال شدہ ذات کے ساتھ سوائے نکاح کے ہمیں مقاربت کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے اور پھر نکاح کے بعد مجامعت کی ہے تو پورا مقرر کردہ مہر، ورنہ نصف مہر دینا واجب ہے۔
جمہور اہل تشیع ایسے صاف حکم کے ہوتے ہوئے محض ہٹ دھرمی سے آیت:
فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهٖ مِنۡهُنَّ الخ۔
(سورۃ النساء: آیت 24)
کو متعہ کی علت میں قرار دیتے ہیں اور اپنے دعوے کو اس طرح ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ آیت:
وَاُحِلَّ لَـكُمۡ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمۡ الخ۔
(سورۃ النساء: آیت 24)
سے حلت دونوں قسم کی ثابت ہوتی ہے: نکاح دائمی ہو یا منقطع یعنی متعہ۔ اور اس کے بعد آیت مذکور از قبیل "تخصیص بعد تعمیم" جناب اقدس الٰہی حکم فرماتا ہے:
فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهٖ مِنۡهُنَّ فَاٰتُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ الخ۔
(سورۃ النساء: آیت 24)
ترجمہ: یعنی وہ عورتیں کہ جن سے تم متعہ کرو بس دو تم انہیں ان کے اجر جن کا دینا واجب ہے۔
جواب نمبر 1: اس امر میں شیعہ سنی علماء سب متفق ہیں کہ آیت:
فَانْكِحُوۡا مَا طَابَ الخ۔
(سورۃ النساء: آیت 23)
میں جو احکام متعلق نکاح اور مہر کے مرقوم ہیں وہ از قبیل تعمیم ہیں کیونکہ ان میں بغیر استثناء نکاح و مہر کا ذکر ہے نہ تو محرماتِ ابدیہ کی کوئی تخصیص کی گئی ہے، نہ مہر کے متعلق باصورت تعین رقم و بلا تعین رقم ادائیگی معاوضہ کی تخصیص کی گئی ہے خصوصاً ایسے حالات میں جب کہ طلاق قبل از مقاربت یا بعد از مقاربت عمل میں آئے۔
پس ایسے احکام جو از قبیل تعمیم صادر ہوئے ہیں ان کے بعد ان کی تخصیص ضروری تھی چنانچہ نکاح کے متعلق محرماتِ ابدیہ کا تفصیلاً ذکر کر کے اللہ تعالیٰ از قبیل تخصیص فرماتا ہے اور ادائیگی مہر کے متعلق ارشاد فرماتا ہے:
فَاٰتُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ فَرِيۡضَةً الخ۔
(سورۃ النساء: آیت 23)
اور اگر قبل از مقاربت طلاق عمل میں آئے تو ارشاد باری تعالی از قبیل تخصیص یوں صادر ہوتا ہے:
فَنِصۡفُ مَا فَرَضۡتُمۡ الخ۔
(سورۃ البقرہ: آیت 237)
تخصیص تو ضروری تھی منکوحات کی اور ادائیگی مہر کی، نہ کہ نکاح کی جس کی تخصیص تو حکم تعمیم میں ہی نکاح و ملک کی صورت میں پہلے ہی مندرج ہے پھر تخصیص کی تخصیص فعلِ عبث ہے۔
جواب نمبر 2: اگر حلت کا حکم موبد و مؤقت ہو سکتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ حرمت کا حکم بھی موبد و مؤقت نہ ہو کیونکہ حرام اور حلال دونوں الفاظ اضافی ہیں جو صفات ایک کے لیے لازم ہیں وہ دوسرے کے لیے بھی لازم ہونے چاہئیں، خصوصاً جب کہ دونوں الفاظ ایک ہی مقام اور ایک ہی سلسلہ گفتگو میں استعمال کیے گئے ہوں اگر یہ بات درست ہے تو ماں اور بہن بھی کبھی حرامِ موبد ہیں اور کبھی حرامِ مؤقت جو بحث محض ہے۔
اغراض بحث کے لیے اگر مان بھی لیں کہ صرف حلت ہی کا حکم مدت متعین اور غیر متعین کے لیے مختص ہے، اور
فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهٖ الخ۔
(سورۃ النساء: آیت 24)
از قبیل "تخصیص بعد تعمیم" ہے اس لیے اس کا اطلاق صرف عقد متعہ پر ہی ہے، تو زیدہ العارفین ارشاد فرمائیں کہ منکوحہ کو بعد مجامعت اگر طلاق دی جائے تو اس کے لیے ادائیگی مہر کی نسبت سندِ قرآنِ کریم میں کہاں ہے؟
جواب نمبر 3: جب تک مولانا اس جگہ کے لیے کوئی معقول یا غیر معقول وجہ تخصیص نہیں فرمائیں گے، ہمیں ہر طرح سے حق حاصل ہوگا کہ قرآنِ مجید میں جہاں لفظ حلال استعمال ہوا ہے ہم اس کے معنیٰ بھی حلالِ موبد اور حلالِ مؤقت کے لیں سورہ مائدہ میں ہے:
اُحِلَّتۡ لَـكُمۡ بَهِيۡمَةُ الۡاَنۡعَامِ الخ۔
(سورۃ المائدہ: آیت 1)
تو اس کے معنیٰ یہ ہونے چاہئیں کہ چارپائے تمہارے لیے مدتِ معین اور مدتِ غیر معین کے لیے حلال ہیں۔
ہندوستان میں موسم گرما میں گوشت کھانا عموماً مضر صحت ہوتا ہے حالانکہ سرد ممالک میں بلا ضرر سال بھر یہی کھایا جاتا ہے اس لیے ہمارے واسطے تو گوشت حلالِ مؤقت ہے، اور یورپین لوگوں کے لیے حلالِ موبد۔
پھر اس سورۃ میں دوسری جگہ ہے:
اُحِلَّ لَـكُمۡ صَيۡدُ الۡبَحۡرِ الخ۔
(سورۃ المائدہ: آیت 96)
تمہارے لیے حلال ہیں بحری شکار تو کیا اس کے یہ معنیٰ ہوئے کہ مچھلیاں وغیرہ کبھی حلالِ مؤقت ہیں اور کبھی حلالِ موبد؟ مولانا! حلالِ موبد اور حلالِ مؤقت کی تقسیم آپ نے بقائمی ہوش و حواس کی تھی؟
جواب نمبر 4: ان تین بیرونی جوابوں کے بعد ہم چوتھا جواب اندرونی دینا چاہتے ہیں جو آیتِ مذکورہ کی ترکیب و معانی کے لحاظ سے ہو ہم اگر یہ آیت:
فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهٖ الخ۔
(سورۃ النساء: آیت 24)
پر زور دے کر ترکیب و معانی پر تنقید کریں اور پھر اسے سیاق و سباق عبارت کی روشنی میں پڑھ کر دیکھیں تو اس کے معنیٰ حسب ذیل ہو سکتے ہیں:
اس آیت میں "ف" حرف تفریع و تعقیب کا ہے اس لیے بروئے قواعد نحو مضمون ما قبل و ما بعد کو جو اصل و فرع ہیں اکھٹا پڑھنا چاہیے۔ لفظ "ما" اسم موصول ہے جو بلحاظ لفظ کے واحد مذکر اور بلحاظ معنیٰ کے جمع مؤنث ہے اور اس جگہ مترادف ہے:
وَاُحِلَّ لَـكُمۡ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمۡ الخ۔
(سورۃ النساء: آیت 24)
کے استمتعتم بمعنیٰ انتفعتم ہے جس کی ضمیر راجع ہے طرف يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا الخ کے لفظ "ہ" واحد مذکر ہے جس کی ضمیر راجع ہے طرف "ما" بلحاظِ لفظ کے مِنۡهُنَّ وَاٰتُوۡهُنَّ" وَاُجُوۡرَهُنَّ کی ضمیریں راجع ہیں طرف "ما" کے بلحاظِ معنیٰ کے اُجُوۡرَهُنَّ کے معنیٰ مہورہن ہے جیسا کہ اس آیت کے آگے ہی مذکور ہے:
فَانْكِحُوۡهُنَّ بِاِذۡنِ اَهۡلِهِنَّ وَاٰ تُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ الخ۔
(سورۃ النساء: آیت 25)
یا جیسے آیت:
وَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ اَنۡ تَنۡكِحُوۡهُنَّ اِذَاۤ اٰتَيۡتُمُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ الخ۔
(سورۃ الممتحنہ: آیت 10)
میں ہے یا جیسے سورۃ احزاب میں آیا ہے:
اِنَّاۤ اَحۡلَلۡنَا لَـكَ اَزۡوَاجَكَ الّٰتِىۡۤ اٰتَيۡتَ اُجُوۡرَهُنَّ الخ۔
(سورۃ الاحزاب: آیت 50)
یا جیسے سورہ مائدہ میں ہے:
وَالۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ الۡمُؤۡمِنٰتِ وَالۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡـكِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ اِذَاۤ اٰتَيۡتُمُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ مُحۡصِنِيۡنَ غَيۡرَ مُسَافِحِيۡنَ الخ۔
(سورۃ المائدہ: آیت 5)
پس آیت:
فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ الخ۔
(سورۃ النساء: آیت 24)
کو آیات ما قبل و ما بعد سے غیر منقطع رشتہ ہے۔ اور اسے ابتدائے کلام پر حمل کرنا صریحاً باعتبار عربیہ باطل ہے اس آیت کو ما قبل و ما بعد کے ربط سے پڑھا جائے تو عبارت اس طرح ہوگی:
اے ایمان والو مت نکاح کرو ان عورتوں سے جن سے تمہارے باپوں نے نکاح کیا تھا۔ حرام ہیں تم پر واسطے نکاح کے تمہاری مائیں، تمہاری بیٹیاں اور ان کے علاوہ اور سب عورتیں تمہارے لیے حلال ہیں بشرط یہ کہ مہر کے بدلے ان سے نکاح کرنے والے ہو نہ کہ زنا کرنے والے۔ پس جب ان (منکوحہ عورتوں) سے فائدہ اٹھا لو (یعنی جماع کر لو، کیونکہ بعد نکاح کے سوائے مجامعت کے اور کوئی تمتع حاصل ہو نہیں سکتا) تو ان منکوحہ عورتوں کو ان کے مقرر کردہ مہر ادا کر دو اور ہرج نہیں ہے اگر مقرر کیے پیچھے مہر کو کم و بیش کرنے پر باہم راضی ہو جاؤ۔
قرآنِ کریم میں یہی ایک آیت ہے جسے خواہ مخواہ شیعوں نے علت متعہ کے حق میں تصور کر رکھا ہے، کیونکہ اس میں لفظ اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ کا استعمال ہوا ہے۔ اس آیتِ کریمہ کے جو معنیٰ ہم نے اوپر درج کیے ہیں اس پر اعتراضات فریق مخالف نے پیش کیے ہیں۔