کیا صحابہ کرامؓ سے بغض رکھنے اور گالیاں دینے والا کافر…

کیا صحابہ کرامؓ سے بغض رکھنے اور گالیاں دینے والا کافر نہیں؟

  مولانا علی معاویہ

سلمان ندوی کے مرنے پر اس کا دفاع کرنے والے اور عام طور پر شیعوں کی طرف سے اکثر یہ بات کی جاتی ہے کہ اہلسنت کے نزدیک صحابہ کو گالی دینا یا بغض رکھنا کفر نہیں۔

کچھ اہلسنّت حضرات کو بھی یہ غلط فہمی ہے۔

اس پر وہ چند فتوے پیش کرتے ہیں

آج آپ کے سامنے اس کی حقیقت واضح کی جاتی ہے

یہ بات یاد رہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو گالی دینا یا ان سے بغض رکھنا کفر ہے۔

حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ:

اپنی کی کتاب افضلیت شیخین صفحہ 24 پر صحابہؓ سے بغض رکھنے والوں کے بارے میں واضح لکھتے ہیں کہ:

 جوشخص صحابہ کرامؓ پر طعن و تشنیع کرتا ہے، ان کے حق میں دعائے خیر نہیں کرتا بلکہ ان کے ساتھ کینہ رکھتا ہے وہ کافر اور مسلمانوں کی جماعت سے خارج ہے۔


فقہ حنفی کے معتبر عالم امام ابوبکر بن علی الزبیدی رحمۃ اللہ: قدوری کی شرح " الجوھرۃ النیرۃ" صفحہ 606 میں لکھتے ہیں:

 کہ `من سب الشیخین او طعن فیھما، یکفر و یجب قتلہ`

کہ جو شخص ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو گالی دے یا ان پر اعتراضات کرے وہ کافر ہے اور (قاضی) پر اس کا قتل واجب ہے۔


ملا علی قاری حنفی رحمۃ اللہ مرقاۃ شرح المشکوٰۃ   جلد 9 صفحہ 56 پر لکھتے ہیں جس کا ترجمہ ہے کہ:

 رافضی اکثر صحابہؓ کے کافر ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں چہ جائیکہ اہلسنّت کو، تو یہ اجماعی طور پر کافر ہیں بغیر کسی اختلاف کے۔


مشہور محدث مفسر مؤرخ علامہ ابن کثیر رحمۃ اللہ

اپنی تفسير القرآن میں سورہ الفتح کی آخری آیت " لِيَغِيظَ بِهِمُ ٱلْكُفَّارَ " کی تفسير میں لکھتے ہیں کہ:

 اس آیت کے مطابق امام مالک رحمۃ اللہ نے شیعہ پر کفر کا حکم لگایا ہے کیونکہ وہ (شیعہ) صحابہؓ سے بغض رکھتے (اس لیے کافر) ہیں۔