اعتراضات مرزا کا جواب
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہقرآن کریم پر معترض ہونا احمد علی بے چارہ کی کیا بساط ہے۔ قرآن اس وقت نازل ہوا جب عرب میں دریائے فصاحت بہہ رہا تھا۔ سینکڑوں فصحا و بلغاء اپنے بے مثال قصائد پر ناز کر رہے تھے، لیکن قرآن کریم کی فصاحت کے سامنے سب نے سر تسلیم خم کر دیا۔ قرآن نے فَاۡتُوۡا بِسُوۡرَةٍ مِّنۡ مِّثۡلِهٖ کا چیلنج دیا۔ کسی کو سورت تو کیا ایک آیت بنانے کی بھی جرأت نہ ہوئی۔
تعجب ہے کہ عجمی جاہل جس کی علمیت و قابلیت کی یہ حالت ہے کہ مباحثہ کندیاں میں بجائے إِلَّا تَنصُرُوهُ، أَلَّا تَنْصُرُوهُ پڑھا تھا، قرآن پر اعتراض کرنے لگے اور کہتے ہیں ایسا قرآن میں بھی بنا سکتا ہوں،
سو واضح ہو کہ خود احمد علی ان اعتراضات کا موجد نہیں ہے بلکہ ایک زندیق کا فضلہ خور ہے، جس کا ذکر شیعوں کی مستند کتاب طبری مطبوعہ ایران: صفحہ 119، لغایت: صفحہ 132 میں ہے کہ اس نے یہ اعتراضات حضرت علیؓ کے سامنے پیش کیے اور آپ سے کوئی جواب نہ بن آیا کہ قرآن میں تحریف ہو جانے کی وجہ سے ایسا ہے۔
1: یہ اعتراض کہ "سورۃ اقراء" پہلے نازل ہوئی اور اَلۡيَوۡمَ اَكۡمَلۡتُ اخیر میں، کہ "اقراء" کو آخری پارہ اور اَلۡيَوۡمَ کو پارہ نمبر 6 میں جگہ ملی۔ سو واضح ہو کہ شیعہ معترض کو اب تک بھی علم نہیں ہے کہ ترتیبِ قرآن مطابق تنزیل نہیں بلکہ موافق تلاوتِ رسول اللہﷺ اور تعلیمِ جبرائیلؑ ہے۔
جیسا کہ "اتقان" میں ہے علامہ کرمانی برہان میں لکھتے ہیں۔
تَرْتِيْبِ السُّوَرِ هٰكَذَا هُوَ عِندَ اللَّهِ فِی اللَّوْحِ المَحْفُوْظِ عَلىٰ هٰذَ التَّرْتِيْبِ وَ عَلَيْهِ يَعْرِضُ النَّبیُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرَائِيْلَ كُلَّ سَنَةٍ مَا كَانَ يَجْتَمِعُ عِنْدَهُ مِنْهُ وَ عَرَضَ عَلَيْهِ فِی السَّنَّةِ الَّتِیْ تُوفِی فَيْهَا مَرَّتین
"سورتوں کی ترتیب وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک لوحِ محفوظ میں ہے اور آنحضرتﷺ اسی ترتیب کے ساتھ جبرائیل کو سنایا کرتے تھے اور جس سال کہ آپﷺ کا انتقال ہوا، دوبارہ سنایا۔"
دوسری جگہ میں لکھا ہے، امام ابوبکر بن انباری فرماتے ہیں:
أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالىٰ الْقُرْآنَ كُلَّهُ إِلَى الدُّنْيَا ثُمَّ فَرَّقَهُ فِیْ بِضْعٍ وَ عِشْرِيْنَ سَنَةً وَ كَانَتِ السُّوْرَةُ تَتَنَزَّلُ لَاَمْرٍ يَحْدِثُ وَالآيَةُ جَوَابًا لِمُسْتَفْسِرٍ وَ يُوْقِفُ جِبْرَائِيْلُ النَّبِیُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمُ عَلىٰ مَوْضِِع الْآيَةِ والسُّوْرَةِ فَاتسَاقُ السُّورِ كاتساق الآيات و الْحَرُوفِ كُلُّهُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمُ فَمَنْ قَدَم سُورَةً أَوْ خَرَهَا فَقَدْ أَفْسَدَ نَظَمَ الْقُرْآنِ
ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے تمام قرآن آسمان دنیا کی طرف ایک بار نازل کر دیا تھا۔ پھر اس کو دنیا میں حضرت محمدﷺ پر تیئیس برس میں تھوڑا تھوڑا نازل فرمایا۔ جب کوئی بات پیدا ہوتی اس کے لیے اس میں سے اس قدر کوئی سورۃ یا آیت نازل ہو جاتی تھی اور جبرائیلؑ آپ کو اس کا موقع بتلا دیا کرتے تھے۔ پس سورتوں کا باہمی ایسا ہی اتصال ہے جیسا کہ آیات و حروف کا اور سب آنحضرتﷺ کی طرف سے ہے۔ پھر جو کوئی سورۃ مقدم یا مؤخر کرتا ہے وہ نظمِ قرآن میں خلل ڈالتا ہے۔
مفسرین کے اس بیان کی تصدیق قرآن کریم سے بھی ہوتی ہے جیسا کہ آیت لَا تُحَرِّكۡ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعۡجَلَ بِهٖ اِنَّ عَلَيۡنَا جَمۡعَهٗ وَقُرۡاٰنَهٗ
جب جبرائیلؑ کوئی آیت نازل کرتے تو حضورﷺ اس کو جلدی جلدی پڑھتے تا کہ ٹھیک یاد ہو جائے اور بھول چوک نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آپﷺ جلدی مت کریں قرآن کی جمع و ترتیب ہمارے ذمہ ہے۔ سو جب ایزدِ متعال نے جمع و ترتیب اپنے ذمہ لے لی پھر کوئی شخص اس جمع و ترتیب کے خلاف تغیر و تبدل کس طرح کر سکتا ہے؟ اور یہ بھی ممکن نہیں کہ تیئیس سال متواتر تنزیلِ قرآن ہوتی رہی ہو اور آنحضرتﷺ نے اس کی جمع و ترتیب کا کوئی اہتمام نہ کیا ہو۔ بے شک سورہ و آیات قرآن کی ترتیب عہدِ نبویﷺ میں ہو چکی تھی اور بہت سے لوگوں نے قرآن کو حفظ بھی کر لیا تھا اور اسی ترتیب کے مطابق حضرت عثمانؓ نے قرآن کریم کی کتابت کرا کر قرآن پاک کی اشاعت کر دی۔
پھر احمد علی کا اعتراض اول خدا تعالیٰ پر ہے، پھر رسول پاکﷺ، پھر جبرائیلؑ پر ہے، نہ کہ حضرت عثمانؓ پر۔ کاش!
گر مسلمانی ہمیں است کہ مرزا دارد
حیف کز پس امروز بود فردائے
2: دوسرا اعتراض آیتِ قرآن وَاِنۡ خِفۡتُمۡ اَلَّا تُقۡسِطُوۡا فِى الۡيَتٰمٰى فَانْكِحُوۡا مَا طَابَ لَـكُمۡ مِّنَ النِّسَآءِ مَثۡنٰى وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ فَاِنۡ خِفۡتُمۡ اَلَّا تَعۡدِلُوۡا فَوَاحِدَةً کے متعلق ہے۔
یہ اعتراض معترض کی بے علمی کی وجہ سے ہے۔ اس کا شانِ نزول جیسا کہ صحیح بخاری میں یوں ہے۔
کہ بعض لوگ چھوٹی یتیم لڑکیوں سے جو ان کی ولایت میں ہوتی تھیں ان کے مال کے لالچ سے نکاح کر لیتے تھے اور چونکہ یتیم لڑکی کا اور کوئی سر پرست نہ ہوتا تھا، یہ لوگ بے انصافی سے ان کا مہر کم مقرر کرتے اور ان کے مال کو دبا لیتے اور حسنِ سلوک نہ کرتے تھے۔ اس لیے حق تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر تم لوگ یتامیٰ (صغیرہ لڑکیوں) سے منصفانہ برتاؤ نہیں کر سکتے تو ان سے نکاح مت کرو، بلکہ ان کے علاوہ دوسری اجنبی عورتوں میں سے دو تین چار سے نکاح کر سکتے ہو اور ان میں بھی بے انصافی کا ڈر ہو تو صرف ایک سے نکاح کر لینا کافی ہے۔ بتلائیے اب کون سا اشکال باقی رہ جاتا ہے۔ آیت کا مضمون بالکل صاف ہے۔ البتہ
سخن شناس بہ دلبر اخطا اینجاست
اِنَّ هٰذَا صِرَاطٌ عَلَىَّ مُسۡتَقِيۡمٌ کے متعلق کہتا ہے "عَلَیَّ" یا فوق کے لیے آتا ہے یا نقصان کے معنیٰ دیتا ہے۔ یہ دونوں یہاں درست نہیں، اس لیے کہ آیت میں "عَلَیَّ" صحیح نہیں ہے، سو اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ شیعہ بیچارے علومِ صرف و نحو سے بالکل ہی نابلد ہوتے ہیں، ورنہ ایسے اعتراضات نہ کریں۔ جنابِ من! کتبِ نحو میں مذکور ہے کہ بعض جگہ "عَلَیَّ" بمعنیٰ الیٰ بھی ہوتا ہے۔ اکثر مفسرین نے بھی ایسا ہی لکھا ہے۔
تفسیر خازن میں ہے قَالَ الْحَسَنُ مَعْنَاهُ هٰذَا صِرَاطٌ عَلَىَّ مُسۡتَقِيۡمٌ اور تفسیر حسینی میں ہے۔
گویند علی بمعنیٰ الی است یعنی اخلاص راه راست بسوی من۔ سو اس کے معنیٰ یہ ہے کہ یہ راستہ سیدھا میری طرف ہے۔ اس میں کون سی غلطی ہے؟ یہ "عَلَیَّ" کی جگہ علیٰ صحیح سمجھ کر اس کو بھی علیؓ کی فضیلت کا ثبوت قرار دیتے ہیں، حالانکہ "صِرَاطٌ عَلَىَّ" کو علیؓ کا راستہ قرار دینا کمال حماقت ہے۔ قرآن میں صراط کی اضافت یا تو حق تعالیٰ کی طرف ہے جیسا
اِنَّ هٰذَا صِرَاطِىۡ مُسۡتَقِيۡمًا ہے، یا عام مقربینِ حق کی طرف جيسا صِرَاطَ الَّذِيۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَيۡهِمۡ
سارا قرآن مطالعہ کرو اس کے خلاف کسی ایک شخص نبی یا ولی کی طرف ہرگز اضافت نہیں ہے۔ "صِرَاطٌ عَلَىَّ" علیؓ کا راستہ کیا مسلمانوں کے راستہ سے الگ تھا کہ ان کی طرف خصوصیت سے اضافت کی جاتی؟ سوچو اور غور کرو نیز قرآن کی ایک اور آیت ہے وَعَلَى اللّٰهِ قَصۡدُ السَّبِيۡلِ یعنی سیدھا راستہ خدا کی طرف ہے۔
یہاں تو "عَلیٰ" کا معنیٰ الیٰ کے سوا اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ کیا شیعہ صاحبان یہاں بھی کہیں گے کہ "عَلَى اللّٰهِ" ہے، یعنی علی خدا ہے۔
بریں فہم و ادراک باید گریست
4: چوتھا اعتراض اِنۡ هٰذٰٮنِ لَسٰحِرٰنِ پر ہے۔ معترض کا اعتراض یہ ہے کہ "اِنۡ" کا اسم منصوب ہوتا ہے "اِن هٰذَيْنِ" چاہیے۔ سو اس اعتراض نے تو شیعہ حضرات کی علمیت کا سارا پردہ فاش کر دیا ہے۔ شیعہ اس اعتراض اور ہمچو قسم کے دیگر اعتراض کو ایسا لا ینحل کہتے ہیں کہ اس کا جواب باب العلم حضرت علیؓ سے بھی معاذ اللہ نہ بن سکا۔ ہر ایک شخص جس نے نحو کی ادنیٰ کتاب عبدالرسول وغیرہ ہی پڑھی ہو، جانتا ہے کہ "ان مخففۃ" اکثر اوقات معنیٰ (بے عمل) ہو جاتا ہے اور اس صورت میں خبر پر لام آیا کرتا ہے۔
نحو کی مستند کتاب شرح ملا جامی بحث حروف مشبہ بالفعل: صفحہ 469 میں ہے۔
وَ تُخَفَّفُ إِنَّ الْمَكْسُورَةُ لِثِقْلِ التَّشْدِيدِ وَكَثْرَةِ الْاِسْتِعْمَالِ فَيَلِزُمُهَا بَعْدَ التَّخْفِيْفِ اللَّامُ فَحِيْنَذٍ يَجُوْزُ الْغَاءُهَا أَى ابْطَالُ عَمَلِهَا وَ هُوَ الْغَالِبُ لِفَوَاتٍ بَعْضِ وُجُوهِ مُشَابِهَتِهَا مَعَ الْفِعْلِ كَفَتْحِ الاَخِرِ وَ كُوْنِهَا عَلىٰ ثَلَاثَةِ أَحْرُفٍ
"اِنَّ مکسورہ مخفف (اِن) بھی ہو جاتا ہے کیونکہ تشدید میں ثقالت ہے اور یہ کثیر الاستعمال ہے اس وقت لام ضروری ہوتا ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ مشابہتِ فعل کی بعض وجوہ مثلاً مفتوح الآخر ہونا یا تین حروف کا ہونا معدوم ہو جاتی ہیں۔"
چونکہ آیت میں اِنْ مخفف ہے اس لیے قاعدہ نحو کی رو سے اس کا ابطالِ عمل جائز، بلکہ اغلب ہونے کی وجہ سے ھٰذَانِ کو اس نے عمل نہیں دیا۔
افسوس اس مسئلہ سے ایک ادنیٰ طالب علم بھی واقف ہو سکتا ہے لیکن شیعہ کے علامہ حائری اور ان کے یلمعی اور عوعی کو یہ مسئلہ معلوم نہیں ہے۔
شرح جامی تو ان کی بلا جانے مگر یہ مسئلہ تو ماتہ عامل عبدالرسول میں بھی درج ہے۔ اس علمی بضاعت پر جرأت یہ کہ قرآن پاک کتاب اللہ پر اعتراض کرنے لگے ہیں۔
كَبُرَتۡ كَلِمَةً تَخۡرُجُ مِنۡ اَفۡوَاهِهِمۡ اِنۡ يَّقُوۡلُوۡنَ اِلَّا كَذِبًا